نظام الدین جہان آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ شیخ نظام الدین اورنگ آبادی صدیقی خاندان کے چشم و چراغ تھے

سلسلہ نسب[ترمیم]

سلسلہ نسب شیخ شہاب الدین سہروردی کے واسطہ سے ابوبکر صدیق کا ختم ہوتا ہے غور سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور پورب میں قیام کیا علاقہ کونسا تھا اس بارے میں مختلف آراء ہیں لکھنؤ کے مضافات میں مکراون گاؤں ان کا مسکن تھا اور کاکوری بھی کہا گیا بیت ہوئے منازل سلوک طے کی خلافت ملی اور دکن جانے کا حکم ہلا اورنگ آباد میں قیام کیا اور سلسلہ رشد و ہدایت میں پوری محنت کی ذکروفکر کا اجرا کیا خلق خدا کی خدمت کی ہمیشہ با جماعت نماز ادا کرتے صاحب علم تھے آپ کی تصنیف نظام القلوب جو تصوف کے قاری کے لیے عمدہ رہنما ہے 21 فصلوں پر محیط ہے یہ کتاب احکام پر مبنی ہے
آپ کو پانچ صاحبزادے عطا ہوئے سارے دین متین کے مبلغ ہوئے ایک صاحبزادے خواجہ فخرالدین کو اپنی نسبت سے نوازا سب سے بڑے بیٹے کو خواجہ کامگار کا مرید بنایا فخرالدین کو خلافت اور مسند نشینی دی

وصال[ترمیم]

71 سال کی عمر پا کر شاہ نظام الدین نے بارہ ذوالقعدہ 1142 کو سفری آخرت اختیار کیا اور اورنگ آباد میں دفن ہوئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بہار ِ چشت:110 ڈاکٹر محمد اسحق قریشی