نظریاتی صحافت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نظریاتی صحافت (انگریزی: Opinion journalism) ایک ایسی صحافت ہے جس میں بامقصدیت کا کوئی دعوٰی نہیں کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کی وکالتی صحافت سے اس کو مختلف بتایا جاتا ہے، مگر ان دونوں کا خاصہ ایک موضوعاتی نقطہ نظر ہے، جو عمومًا کسی سماجی یا مقصد کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی عام مثالوں میں اخبارات کے کالم، اداریہ جات، اوپ ایڈ، اداریہ جاتی کارٹون اور صحافیانہ پنڈتائی سے مختلف ہے۔

وکالتی صحافت کے بر عکس نظریاتی صحافت میں حقائق یا تحقیق پر بہت کم مرکوزیت ہوتی ہے اور اس کا نقطہ نظر شخصی نوعیت کا ہوتا ہے۔

نظریاتی پر مبنی صحافت کی کئی اقسام ہیں، جن میں گونزو صحافت اور جدید صحافت شامل ہیں۔

خصوصیات[ترمیم]

نظریاتی صحافت بائیں محاذ کی صحافت یا دائیں محاذ ’’پارٹی زدگی‘‘ کی زمرہ بندی سے بلند رکھںے کی کوشش ہے۔ اس میں اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی مخصوص شعبے کا تجربہ کار یا اس سے واقف شخص تجزیاتی انداز میں اپنی رائے اور خیالات کو رکھے۔ [1] یہ صحافت سے کبھی چونکانے والے انکشافات ممکن ہے، جب کوئی شخص بالکل ہی نئی بات، تجزیہ یا نقطہ نظر رکھے۔ اس میں کئی بار مروجہ باتوں کے مکرر لکھے جانے کے باوجود نئے انداز میں نکتہ آفرینی کی کوشش کی جاتی ہے۔ کئی بار ایک ہی بات کی پیش کش مختلف ہوتی ہے۔ کئی مشہور صحافی جو بار بار کالم لکھتے ہیں، ان کی تحریروں کو لوگ کافی شوق و ذوق سے پڑھتے ہیں۔ یہ صحافت کئی بار فکر سازی اور رجحان سازی کا بھی کام کرتی ہے۔

علاقائی زبانوں میں نظریاتی صحافت کا فقدان[ترمیم]

کچھ ماہرین نظریاتی صحافت اور اس کے آزادانہ اور بے لگام انداز میں مغربی ذرائع ابلاغ یا انگریزی زبان کی خصوصیت قرار دے چکے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک وجاہت مسعود جو بیکن ہاؤز یونیورسٹی میں میڈیا کے پروفیسر ہیں۔انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے اور بین الاقوامی قانون میں ایل ایل ایم کیا ہے۔ بی بی سی اردو میں لکھنے کے علاوہ مختلف اخبارات میں ادارتی کام کر چکے ہیں۔ ان رائے یہ ہے:

انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لیے نہیں دباتے تھے کہ انگریز ی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔ میراتو یہ کہنا ہے کہ جو بنیادی فرق ہے وہ زبان کا نہیں ہے وہ صحافت کی حتمی اجتماعی سمت (Ultimate Collective Vector) کا ہے۔ ہماری صحافت کا جو اجتماعی رخ متعین ہوا ہے وہ عوام دشمنی کا ہے، وہ تاریخ کو مسخ کرنے اور سیاسی شعور کو تباہ کرنے کا ہے۔ البتہ ہماری صحافت میں بھی نہایت قابل فخرمستثنیات موجود رہی ہیں ۔ میں آپ کو چند نام جنہوں نے میرے مطابق بڑا کام کیا ہے بتائے دیتا ہوں۔ اس میں اردو یا انگریزی کی تمیز نہیں اور تقدیم وتاخیر کا خیال بھی نہیں۔ چراغ حسن حسرت، ضمیر نیازی، احمد علی خان، نثار عثمانی، مظہر علی خان، رضیہ بھٹی، عزیز صدیقی، خالد حسن، خالد احمد، حسین نقی، آئی اے رحمان اور منو بھائی۔ ان بزرگوں نے اور ان جیسے اور بہت سے صحافیوں نے جن حالات میں اور جس اعلیٰ معیار کا کام کیا، پاکستانی قوم کوان کا شکر گزار ہونا پڑے گا۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]