نظر محمد سومرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مناظر الاسلام
مولانا حافظ نظر محمد سومرو دیہاتی
معروفیت محدث، فقیہ، نعتیہ شاعر
پیدائش 25 ربیع الاول ،1304ھ بمطابق 22 دسمبر، 1886ء

دیہات، ضلع نوشہرو فیروز، سندھ (موجودہ پاکستان)
وفات 9 جمادی الثانی ،1345ھ بمطابق 15 دسمبر، 1926ء (عمر 40 سال)

دیہات، ضلع نوشہرو فیروز، سندھ
مدفن دیہات، ضلع نوشہرو فیروز
نسل سندھی
عہد برطانوی ہند دور
شعبۂ زندگی سندھ
مذہب اسلام
فقہ حنفی
مکتب فکر سلسلہ نقشبندیہ
شعبۂ عمل فقہ، تفسیر، حدیث، نعت
کارہائے نماياں انوار احمدیہ فی حالات المشائخ النقشبندیہ
مجموعہ نظم دیہاتی
سوال الجواب فی تردید تحفہ ءقادعان
الدرالمنظوم فی تذکرہ المخدوم قدس سرہ المکتوم

مولانا حافظ نظر محمد سومرو دیہاتی، (دیگر نام: مولوی نظر محمد سومرو) المعروف مناظرالاسلام (پیدائش:25 ربیع الاول ،1304ھ بمطابق 22 دسمبر، 1886ء - وفات:9 جمادی الثانی ،1345ھ بمطابق 15 دسمبر، 1926ء) سندھ سے تعلق رکھنے والے استاد العلماء، فقیہہ، قاضی، حاجی، حافظ، عالم دین، مصنف، حکیم تھے۔

پیدائش[ترمیم]

مولانا حافظ نظر محمد سومرو 25 ربیع الاول ،1304ھ بمطابق 22 دسمبر، 1886ء کو ضلع نوشہروفیروز سندھ کے گاؤں دیہات میں ایک علمی و روحانی خاندان میں پیدا ہوئے[1]۔ آپ کے والد کا نام حکیم حاجی عبد الرحمان سومرو (متوفی 17 جمادی الثانی 1326ء) تھا جو زہد، قناعت، توکل میں یگانہ روزگار اور عالم باعمل تھے۔ آپ کے والدعبدالرحمان سومرو نے آپ کی تعلیم اور تربیت کا خصوصی انتظام کیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم یعنی قرآن پاک کی تعلیم اپنے گاؤں دیہات میں مرحوم آخوند عبد الخالق ابیانی والے سے حاصل کی۔ بعد میں شہر سیٹھارجہ اور اس کے بعد شہر محب دیرے سیال میں مرحوم مغفور مولوی میاں خیر محمد سیال سے فارسی پڑھی۔ اس کے بعد آپ دارلارشا د درگاہ شریف ٹنڈو سائینداد کے مدرسے میں داخل ہوئے اور وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ نے طریقہ نقشبندیہ میں بیعت خواجہ عبد الرحمان جان سرہندی مجددی سے کی۔ خواجہ صاحب کی نظر اکسیر سے وہ بڑی صلاحیت کو پہنچے۔ باقی فیض اور فائدے اور زیادہ درجات خواجہ صاحب کے مسند نشین راس المحققین، زیب و زینت دین متین مجدد وقت حافظ الحاج حضرت خواجہ محمد حسن جان سرہندی مجددی سے حاصل کیا۔[2] نظر محمد سومرو نے مزید تعلیم کے لیے دہلی کا سفر اختیار کیا اور وہاں مولوی عبد الرب دہلی کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی، تقریباً پانچ ماہ بعد واپس سندھ تشریف لائے اور اپنے آبائی گاؤں دیہات میں درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ آپ سے فیض حاصل کرنے والے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں مولوی غلام حسین سومرو (فرزند)، مفتی عبد اللطیف سومرو، سید حاجی محمد شاہ، حکیم محمد امین سومرو (والی ریاست خیرپور کے میر علی نواز ٹالپر کے شاہی طبیب)، فقیر اسماعیل ہریاھ، حافظ محمد صالح لاکھو، فقیر دلاور حسین منگی زیادہ مشہور ہیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

مولانا نظر محمد سومرو کی علمی و دینی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے۔ آپ نے سیر ت النبی، فقہ، رد قادیانیت، سیرتِ خلفائے راشدین، تصوف و شاعری کے موضوع پر فارسی اور سندھی زبان میں لاتعداد کتب تالیف کیں، جن کچھ تصانیف یہ ہیں ۔

  • مجموعہ نظم دیہاتی: اس کتاب میں خطبات نعتیں، مدح جات، مناجاتیں اور غزل اور نصیحتیں شامل ہیں۔1951ء میں شائع ہوچکا ہے۔
  • انوار احمدیہ فی حالات المشائخ النقشبندیہ: یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اول میں حالات حضرت سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور احوال خلفائے راشدین اور ذکر خواجگان نقشبندی تا خواجہ بیرنگ باقی باللہ شامل ہیں۔ حصہ دوم خاص طور پر حالات امام ربانی مجدد الف ثانی میں تصنیف کیا گیا ہے۔ حصہ سوم میں باقی حضرات خواجگان نقشبندیہ تا احوال حضرت خواجہ محمد حسن جان سرہندی مجددی تک شامل ہے۔ یہ کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی۔
  • سوال الجواب فی تردید تحفہء قادعان (قادیانیوں کے رد میں کتاب): یہ کتاب استاد اور شاگرد کے سوال و جواب کی صورت میں قادیانیوں کے رد میں تحقیق سے لکھی گئی ہے۔ 2016ء میں شائع ہوچکی ہے۔
  • الدرالمنظوم فی تذکرہ المخدوم قدس سرہ المکتوم: یہ کتاب سوانح حیات اور مناقبات حضرت مخدوم نوح ہالائی میں لکھی ہے اور اس کے ساتھ کچھ اور بزرگوں کے حالات بھی تحریر کیے ہیں۔ ابھی شائع نہیں ہوئی۔ اس کتاب کا ایک قلمی نسخہ علامہ آئی آئی قاضی لائبریری، سندھ یونیورسٹی میں موجود ہے۔
  • احسن التقریر فی جواب التحریر: سندھی زبان کی تفسیر تنویر الایمان کے مصنف مولوی محمد عثمان نورنگ زادہ صاحب کے کچھ اعتراضات کے جواب میں ایک مختصر رسالہ تحریر کیا ہے۔ یہ رسالہ 1997ء میں شائع ہوچکا ہے۔* رسالہ ابتدائی سلوک: یہ کتاب خواجہ محمد حسن جان سرہندی کے فارسی زبان میں رسالے کا سندھی ترجمہ ہے۔

وفات[ترمیم]

مولانا حافظ نظر محمد سومرو 40 سال کی عمر میں بروز پیر 9 جمادی الثانی 1345ھ بمطابق 15 دسمبر 1926ء کو سندھ کے قصبہ دیہات میں وفات پاگئے اور دیہات ہی میں سپردِ خاک ہوئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ محمد عارف سومرو، مولانا حافظ نظر محمد سومرو دیہاتی، مشمولہ: روزنامہ نوائے وقت کراچی، 21 جولائی 2017ء، صفحہ 9
  2. ڈاکٹر قریشی حامد علی خانائی، مقالات خانائی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، ص 210-211