نظیری نیشاپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمدحسین نظیری نیشاپوری گیارہویں صدی ہجری(وفات: 1021ھ/1612ء) کے عظیم فارسی شاعر ہیں۔

ان کا یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے

؎ درس ادیب اگر بود زمزمهٔ محبتی
جمعه به مکتب آورد طفل گریزپای را

ترجمہ: اگر معلم کا درس کوئی محبت کا نغمہ ہو تو وہ جمعے (یعنی تعطیل) کے دن بھی (مکتب سے ) گریزاں بچے کو مکتب میں لے آئے۔

اقبال اور نظیری[ترمیم]

علامہ محمد اقبال نے نظیری کے شعر کی بھی تضمین کی ہے۔ نظیری مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے عہد میں ہندوستان آیا تھا۔ اُس کا آبائی شہر نیشاپور تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://scipost.wikipg.com/wiki/titles/بهترین%20اشعار%20نظیری%20نیشابوری/20652