نفرت خواتین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نفرت خواتین یا خواتین سے کراہت (انگریزی: Misogyny) عورتوں یا لڑکیوں سے نفرت، ان کے لیے تعصب اور منفی جذبات کا نام ہے۔ اس کے ذریعے جنسی امتیاز اس طرح نافذ کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کو جو عورتوں کو کم تر نہ سمجھیں سزا دی جاتی ہے اور ایسے لوگوں کو سراہا جاتا ہے جو اس ذیلی درجہ بندی کے حامی ہیں۔ نفرت خواتین مختلف طریقوں سے ظاہر ہو سکتی ہے، جس میں سماجی استثائیت، جنسی امتیاز، دشمنی، مرد مرکزیت، پدرانہ تحکم، مردوں کا مقام خاص، عورتوں کو کم تر بتانا یا ان کی تذلیل، ان سے حق رائے دہی چھیننا، خواتین کے خلاف تشدد اور ان کی جنسی اشیا سازی شامل ہو سکتی ہے۔[1][2] نفرت خواتین تاریخ کے ہر دور میں رہا ہے، یہاں تک کہ اس کا ثبوت قدیم یونان میں بھی ملتا ہے۔ [3]

جدید دور کا سماجی میڈیا[ترمیم]

اگر بی بی سی اردو کے فیس بک صفحے کی گالی گلوچ کی فہرست شائع کی جائے تو اندازہ ہو گا کہ کس طرح اکیسویں صدی میں سماجی میڈیا نسل نے زبان میں ماں بہن کی مروجہ گالیوں کے بعد کیسے کیسے نادر نمونوں کا اضافہ کیا ہے۔[4] اسی طرح کی زبان کئی بار ٹویٹر، انسٹا گرام اور دیگر ذرائع پر استعمال کی گئی ہے۔

تحفظ کی قانونی کوشش[ترمیم]

2020ء میں ایک جرمنی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خواتین سے متعلق نازیبا اور نادست جملے بازی نفرت انگیزی سے متعلق جرمنی کے تعزیراتی قوانین کے دائرۂ عمل میں آتی ہے۔[5] جنسی تشدد، جنسی ہراسانی، جنسی امتیاز اور اسی طرح سے کئی تفرت کے پہلو دنیا کے اکثر ممالک میں قابل سزا تصور کیے جاتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Code، Lorraine (2000). Encyclopaedia of Feminist Theories (ایڈیشن 1st). London: Routledge. صفحہ 346. ISBN 978-0-415-13274-9. 
  2. Kramarae، Cheris (2000). Routledge International Encyclopedia of Women. New York: Routledge. صفحات 1374–1377. ISBN 978-0-415-92088-9. 
  3. Cicero, Tusculanae Quaestiones]], Book 4, Chapter 11.
  4. سوشلستان: 'عورت سے نفرت کو نارمل بنا دیا گیا ہے'
  5. مکالمہ : خواتین کی توہین نفرت انگیزی اور قابل سزا جرم ہے، جرمن عدالت