مندرجات کا رخ کریں

نفسیاتی علاج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بھارت میں بین الاقوامی نفسیاتی علاج کے ایک ورک شاپ کا اجلاس جو 2016ء میں انجام پایا تھا۔

ذہنی دباؤ، تفکر، اداسی اور معمولات زندگی میں عدم دلچسپی بہت ہی معمول کے انسانی رویے ہیں۔ یہ کئی یا تقریبًا ہر شخص میں کسی نہ کسی درجے میں پائے جاتے ہیں۔ بلکہ تناؤ اور حد سے زیادہ تجسس جیسی کیفیات انسان کو کسی بھی خطرے کی صورت حال کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ تاہم ماہرین نفسیات کے مطابق اگر ان علامات کا دورانیہ طویل ہو جائے اور شدت اتنی بڑھ جائے کہ باہمی تعلقات اور روزمرہ معمولات متاثر ہونے لگ جائیں تو پھر انھیں ایک بیماری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔[1] نفسیاتی علاج (انگریزی: Psychotherapy) اُن تدابیر پر محیط ہے جن سے کہ لوگوں کی دماغی کیفیات کے مطابق کسی طرح سے پریشان کن صورت حال دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ مثلًا، کسی کو مذہبی یا روحانی سوچ کے حوالے سے فکر دور کرنے کی کوشش کی جائے، تو کہیں مشاہیر کے تجربوں کا حوالہ دیا جائے، کہیں مستقبل کی خوشنمائی سے سکون پہنچانے کی کوشش کی جائے۔

مثال

[ترمیم]

سال 2019 میں بھارت کے ایک بڑے ٹی وی نیوز چینل نے ایودھیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی کے تنازع کے معاملے کی آخری سماعت کے ایک دن قبل ایک متنازع پروگرام نشر کیا، جس کا عنوان تھا: "جنم بھومی ہماری، رام ہمارے، مسجد والے کہاں سے پدھارے؟" اس پروگرام پر عوام اور سوشل میڈیا صارفین میں شدید رد عمل آیا، کیونکہ اسے فرقہ وارانہ منافرت بڑھانے کے طور پر دیکھا گیا۔ سماجی کارکنوں نے چینل کو قانونی نوٹس بھیجا اور معافی نامہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے نے میڈیا کی ذمہ داری اور خبروں کی سنسنی خیزی پر ایک اہم بحث کو جنم دیا۔[2]

یہ پروگرام اس لیے بھی تنقید کی زد میں آیا کہ اس نے عدالت کی سماعت سے ایک دن قبل نشر ہو کر عوام کے جذبات میں اشتعال پیدا کیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ میڈیا کو حقائق کی بنیاد پر خبر نشر کرنی چاہیے نہ کہ سنسنی خیزی کے لیے جذبات کو بھڑکایا جائے۔ عوامی رد عمل اور قانونی دباؤ کے بعد چینل نے بعض مواد کو ہٹایا اور وضاحتی بیان جاری کیا۔ یہ واقعہ میڈیا میں اخلاقیات، ذمہ داری اور فرقہ وارانہ حساسیت کے موضوع پر اہم مثال کے طور پر سامنے آیا۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ذہنی بیماریاں: وقت آ گیا ہے کہ مغالطے دور کیے جائیں
  2. "بابری مسجد مقدمہ کی رپورٹنگ کے دوران آج تک چینل کی زہر افشانی، سماجی کارکن ساکیت گوکھلے نے چینل کو قانونی نوٹس بھیجوایا"۔ 2020-03-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-03-27