نفلى حج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جس شخص پر حج فرض ہو یا اس نے حج کی نذر مانی ہو اور وہ خود حج کرنے پر قادر ہو، اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنا فرض حج یا نذر مانا ہوا حج کسی سے گرائے اور نفلی حج کی دو صورتیں ہیں :

  1. اس نے حجۃ الاسلام نہیں کیا توہ وہ نہ خود نفلی حج کر سکتا ہے نہ کسی سے نفلی حج کرا سکتا ہے۔
  2. اس نے حجۃ الاسلام کر لیا ہے تو وہ کسی سے نفلی حج کراسکتا ہے خواہ وہ حج کر سکتاہو یا عاجز ہو۔ امام ابو حنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے۔[1]

آزاد بالغ آدمی کی طرف سے نفلی حج کرنے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ فرض حج ادا کر چکا ہو، کیونکہ فرض حج مقدَّم ہے پھراس حج کی قضاء ہے جسے حالتِ وقوف میں فاسد کیا ہو، پھر نذر کا حج، پھر دوسرے کی نیابت میں حج کرنا اور اس کے بعد نفلی ہے۔ یہ ترتیب ضروری ہے اور حج اسی ترتیب سے واقع ہوگا اگرچہ اس کے خلاف نیت کرے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر تبیان القرآن، غلام رسول سعیدی،النجم،39
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔