نفلی حج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آزاد بالغ مرد وعورت کی طرف سے نفلی حج کرنے کے لیے یہ ترتیب لازم ہے

  • فرض حج ادا کر چکا ہو، کیونکہ فرض حج مقدَّم ہے۔
  • اس حج کی قضاء ہے جسے حالتِ وقوف میں فاسد کیا ہواگر کسی کے فرض حج میں ایسی غلطی ہوئی جس سے حج فاسد ہو گیا ہو اس کی قضا لازم ہے
  • نذر کا حج، اگر کسی نے نذر مانی ہو۔
  • کسی کی نیابت میں حج کرنا اسے حج بدل بھی کہتے ہیں
  • نفلی حج ہے۔ یہ ترتیب ضروری ہے اور حج اسی ترتیب سے واقع ہوگا اگرچہ اس کے خلاف نیت کرے ۔[1]

اُمُّ الْمُؤْمِنِین سَودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرض حج ادا کر چکی تھیں۔ جب آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دوبارہ نفلی حج وعمرہ کے لیے عرض کی گئی تو فرمایا کہ: میں فرض حج کر چکی ہوں۔ میرے رب عزوجل نے مجھے گھر میں رہنے کا حکم فرمایا ہے۔ خدا کی قسم! اب میرے بجائے میرا جنازہ ہی گھر سے نکلے گا۔ راوی فرماتے ہیں، خدا کی قسم! اس کے بعد زندَگی کے آخِر ی سانس تک آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہاگھر سے باہَر نہیں نکلیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. لباب الاحیاء، صفحہ 93،امام محمدبن محمدغزالی،ناشر مکتبۃالمدینہ باب المدینہ کراچی
  2. تفسیرِ درّمنثور ج 6 ص 599