نقدی کے خلاف جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دنیا کے بڑے بینکار اور ان کے زیر اثر حکومتیں اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کاغذی کرنسی کا استعمال ختم ہو جائے اور صرف ڈیجیٹل کرنسی (یعنی الیکٹرونک کرنسی) دنیا میں ہر جگہ استعمال ہونے لگے۔ اس سلسلے میں کیے گئے عملی اقدامات کیش کے خلاف جنگ (war on cash) کہلاتے ہیں۔
8 نومبر 2016ء کو بھارت میں بڑے نوٹوں کی منسوخی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔[1] 11دسمبر 2016 کو وینیزویلا نے بھی 100 بلیور کے نوٹ منسوخ کر دیے ہیں جو وینیزویلا کی کل کرنسی کا نصف ہیں۔

ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیاں کیش لیس (cashless) کہلاتی ہیں۔ یہ سب ادائیگیاں نیٹ ورکنگ کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ سوئیڈن کو پہلے کیش لیس ملک کا درجہ دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں خرید و فروخت اور دیگرادائیگیوں میں کیش کا استعمال صرف 3 فیصد رہ گیا ہے۔

امریکی فوجیوں کے زیر استعمال ایگل کیش کارڈ جو دنیا میں کہیں بھی موجود امریکی فوجی اسٹور پر خریداری کے لیے ڈیبٹ کارڈ کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مقصد[ترمیم]

  • ایک ماہر معاشیات Mr. Buiter کا کہنا ہے کہ اگر بینک پہلے ہی سے شرح سود منفی 6 فیصد کر چکے ہوتے تو2009–2008 میں بڑا عالمی مالیاتی بحران (the Global Financial Meltdown) نہ آتا۔ اس ماہر معاشیات کا تعلق سٹی بینک سے ہے۔

لیکن اگر بینک اپنے ڈپازیٹر (کھاتے دار) کو منافع دینے کی بجائے اس کی رقم میں سے کٹوتی کرنا شروع کر دیں گے تو لوگ بینک میں پیسے رکھنا بند کر دیں گے۔ جب بینکوں پر بُرا وقت آتا ہے تو وہ اپنے کھاتے داروں کی کچھ رقم ضبط کر لیتے ہیں جیسا کہ قبرص اور آسٹریا میں حکومت کی اجازت سے ہوا۔ اس عمل کو بیل ان (bail in) کہتے ہیں۔ اگر لوگ بینکوں میں رقم رکھنا بند کر دیں گے تو بینک بیل ان نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے بینک چاہتے ہیں کہ ساری لین دین بینکوں کے ذریعے ہی کی جائے اور ایسا صرف اُسی وقت ممکن ہے جب کیش کا وجود ہی ختم کر دیا جائے۔[2]

  • کیش کوئی بھی اپنے پاس ذخیرہ کر سکتا ہے جبکہ ڈیجیٹل کرنسی صرف بینک میں ہی ذخیرہ کی جا سکتی ہے۔ اس طرح بینک حکومت پر حکومت کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے۔
  • کیش لوگوں کو مالیاتی آزادی مہیا کرتا ہے۔ الیکٹرونی ذرائع سے رقم کی منتقلی سے لوگوں کو بینکوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اس طرح کوئی بھی لین دین مخفی نہیں رہے گی۔ بِنا کیش معیشت (cashless economy) لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔[3]
  • کیش کے خلاف جنگ کا اصل نشانہ دیانت دار شہری ہوں گے جن کی بچت اور آزادی ضبط ہو جائے گی۔
The real burden of the war on cash falls on honest citizens who are made vulnerable to wealth confiscation through negative interest rates, loss of privacy, account freezes and limits on cash withdrawals or transfers."[4]
  • امریکی فیڈرل ریزرو کے بارہویں اور مشہور چیر مین مسٹر ووکر (Mr. Volcker) نے ایک دفعہ کہا تھا کہ "سونا میرا دشمن ہے" یعنی سونا نوٹ چھاپنے والوں کا دشمن ہے۔ آج بھی بینکنگ نظام کو خطرہ ہے کہ سونے چاندی کی کرنسی کا دور واپس نہ آ جائے جو بینکاروں کی حاکمیت کو ختم کر دے گا۔ کیش لیس اکنومی میں سونے کی خرید و فروخت ممکن نہیں رہے گی۔[5]
  • ہر آدمی سے ٹیکس وصول کرنا ممکن ہو جائے گا اور حکومت ٹیکس کا ریٹ جب چاہے گی بڑھا دے گی۔
  • ڈیجیٹل پے منٹ کی مدد سے ہر شخص پر مکمل نظر رکھی جا سکے گی۔

Another motive is surveillance power that goes with increased use of digital payment.

اقدامات[ترمیم]

2012 میں Better than Cash Alliance کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدہ میں فورڈ فاونڈیشن، یو ایس ایڈ، سٹی بینک، ماسٹر کارڈ، ویزا کارڈ اور اقوام متحدہ کی کئی ایجنسیاں شامل تھیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ تمام ادائیگیاں الیکٹرونی طریقے سے ہوں اور خاص طور پر ترقی پزیر ممالک میں کیش بالکل ختم کر دیا جائے۔ یہ وہ ادارے ہیں جو دنیا کی شائید ہر حکومت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

مختلف ممالک میں صورت حال[ترمیم]

حالیہ چند سالوں میں

  • انڈیا نے8 نومبر 2016 کو 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔[6] مودی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ انڈیا کو کیش لیس اکنومی بنانا چاہتا ہے۔[7]
  • آسٹریلیا میں سٹی بینک نے اعلان کیاہے کہ وہ 24 نومبر 2016 سے کیش کی لین دین بالکل بند کر دے گا۔ آسٹریلیا میں 100 ڈالر کا نوٹ بہت جلد بند ہونے والا ہے۔
  • اٹلی میں ایک ہزار یورو سے بڑی کیش ادائیگی پرپابندی لگا دی گئی ہے۔
  • سوئزرلینڈ نے ایک لاکھ فرانک سے بڑی کیش ادائیگی پر پابندی تجویز کی ہے۔
  • روس نے دس ہزار ڈالر سے بڑی کیش ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔
  • اسپین نے 2500 یوروسے بڑی کیش ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔
  • میکسیکو نے دو لاکھ پیسو سے بڑی کیش ادائیگی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
  • یوراگوئے نے پانچ ہزار ڈالر سے بڑی کیش ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔
  • فرانس نے کیش ادائیگی کی حد 3000 سے کم کر کے 1000 یورو کر دی ہے۔
  • جرمنی نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ پورے یورو زون میں5000 یورو سے بڑی رقم کی ادائیگی پر پابندی لگا دی جانی چاہیے اور 500 یورو کا نوٹ ختم کر دینا چاہیے۔ ڈپٹی فائینینس منسٹر Michael Meister کا کہنا ہے کہ اگر پورے یورو زون میں یہ ممکن نہیں تو بھی جرمنی میں یہ ہو جانا چاہیے۔[8]
  • امریکہ کی ٹریژری کے سابقہ سیکریٹری لیری سمرس نے فروری 2016 کے وسط میں مطالبہ کیا ہے کہ 100 ڈالر کا نوٹ ختم کر دینا چاہیے۔[9]
  • یورپی مرکزی بینک نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ 500 یورو کا نوٹ ختم کر رہا ہے۔ اس طرح یورپ میں کرنسی کی مقدار 30 فیصد کم ہو جائے گی۔[10]
  • امریکی فیڈرل ریزرو کی سربراہ جینیٹ یلین کا کہنا ہے کہ
Janet Yellen: “cash is not a convenient store of value.”
10 سب سے زیادہ کیش لیس ممالک
ملک کا نام[11] بغیر کیش ادائیگی
فیصد
debit card رکھنے
والے افراد۔ فیصد
بیلجیئم 93 86
فرانس 92 69
کینیڈا 90 88
برطانیہ 89 88
سوئیڈن 89 96
آسٹریلیا 86 79
نیدرلینڈ 85 98
متحدہ امریکہ 80 72
جرمنی 76 88
جنوبی کوریا 70 58

منفی شرح سود[ترمیم]

منفی شرح سود کا مطلب ہوتا ہے کہ بینک میں رقم رکھنے پر بینک منافع دینے کی بجائے اصل رقم میں سے کٹوتی کریں گے۔
اس وقت دنیا میں 23 ممالک ایسے ہیں جہاں شرح سود منفی ہو چکی ہے۔ یورو زون میں کل 19 ممالک ہیں اور ان سب ممالک میں شرح سود منفی ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ ڈنمارک، سوئیڈن اور سوئزرلینڈ میں بھی شرح سود منفی ہو چکی ہے۔[12] ناروے کے سب سے بڑے بینک نے بھی کیش کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔[13]

29 جنوری 2016 کو جاپان نے بھی شرح سود گرا کر منفی 0.1 فیصد کر دی ہے۔ اس طرح دنیا کی 20 فیصد جی ڈی پی اب ایسے سینٹرل بینکوں کے کنٹرول میں ہے جہاں شرح سود منفی ہو چکی ہے۔[14]

سینٹرل بینک شرح سود- فیصد
سوئیڈن منفی 1.1
سوئیزرلینڈ منفی 0.75
ڈنمارک منفی 0.65
یورپیئن سینٹرل بینک منفی 0.3
جاپان منفی 0.1

فائدہ/ نقصان[ترمیم]

  • کہا جاتا ہے کہ کیش ختم ہونے سے سوئیڈن میں بینک ڈکیتیوں کی واردات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بینک خود ڈاکو بن سکتے ہیں۔ وہ جب چاہے ٹرانزیکشن چارجز بڑھا سکتے ہیں یا منفی شرح سود (کٹوتی) میں اضافہ کر سکتے ہیں یا بیل ان (bail in) کر سکتے ہیں۔
  • پروپگینڈا یہ کیا جاتا ہے کہ جرائم پیشہ لوگ کیش استعمال کرتے ہیں۔ کیش ختم کرنے سے جرائم ختم ہو جائینگے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ کیش کی ایجاد سے پہلے بھی جرائم موجود تھے۔[15]
  • اگر کبھی زلزلے، سیلاب یا جنگ کی وجہ سے نیٹ ورک خراب ہو جائے تو کیش لیس معاشرے میں لوگوں کی اپنی جمع پونجی تک رسائی ختم ہو جائے گی۔ کیش استعمال کرنے میں ایسے رسک کم ہیں۔
  • کیش لیس معاشرے میں ہیکریا غیر ملکی ایجنسیاں لوگوں کو پلک جھپکتے کنگال کر سکتی ہیں۔ 5فروری 2016ء کو شمالی کوریا کے ایک ہیکر Park Jin Hyok نے نیویارک کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو میں بنگلہ دیش کے سینٹرل بینک کے اکاونٹ سے دس کروڑ ڈالر نکال لیے اور انہیں فلیپائن اور سری لنکا کے کیسینو سے وصول کر لیا۔[16][17][18] اسی طرح 17 جولائی 2017ء کو CoinDash نامی کرپٹو کرنسی کے کھاتے سے کسی ہیکر نے 70 لاکھ ڈالر بذریعہ ہیکنگ چرا لیے۔[19]27 اکتوبر 2018ء کو پاکستان کے 22 بینکوں کا ڈاٹا چرا لیا گیا جو ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستانیوں کے کروڑوں روپے ان کے اکاونٹ سے نکال لیے گئے۔[20] یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ سمجھا جاتا ہے۔[21]
  • جب ہندوستان نے سونے پر امپورٹ ڈیوٹی میں بہت اضافہ کر دیا تو سونے کی اسمگلنگ بہت بڑھ گئی۔ اسمگلنگ در حقیقت بہت زیادہ ٹیکس کے خلاف عوامی احتجاج ہوتا ہے۔ کیش فری ملک میں عوام احتجاج کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
  • کیش لیس اکنومی میں یہ ممکن ہو جائے گا کہ حکومت لوگوں کے بینک اکاونٹ یا کریڈٹ کارڈ سے ٹیکس پہلے کاٹ لے بعد میں اگر فرصت ملے تو شنوائی کرے۔[22]
  • کیش لیس ملک جنگ لڑنے اور اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا۔
“When you have a fully digital system you have no weapon to defend yourself if someone turns it off,”[23][24]
  • کیش کی موجودگی میں بچت کرنے والے اور اس کی بچت کے درمیان کوئی تیسرا فرد حائل نہیں ہوتا۔ کیش لیس معاشرے میں بچت اور بچت کرنے والے کے درمیان تھرڈ پارٹی ہمیشہ موجود رہے گی-[25]
  • کیش لیس معاشرے میں رشوت دینے اور لینے کے لیے سونا اور چاندی استعمال ہو گی۔
  • جب امریکی فضائیہ کے چار سابقہ ڈرون پائیلٹوں نے امریکی قتل و غارت گری کی تفصیلات فاش کر دیں تو فیڈرل ریزرو نے ان کے بینک اکاونٹ اور کریڈٹ کارڈ منجمد کر دیے حالانکہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں ہوا۔ اس مثال سے پتہ چلتا ہے کہ اب لوگ [26] Deep State کی غلامی پر مجبور ہو جائینگے۔[27]
کرنسی عوام کی معاشی حالت
سونے چاندی کے سکے معاشی آزادی
کاغذی کرنسی آدھی غلامی
کیش لیس اکنومی مکمل غلامی[28]

"آخر کار صرف چند لوگ جو پورے امریکا کی ڈیجیٹل کرنسی کو کنٹرول کر سکتے ہیں وہ کیش لیس معاشرے میں سارے لوگوں کو کنٹرول کریں گے۔ اس کے نتیجے میں ساری آزادی لازماً ختم ہو جائیگی۔"

The relatively few people who may ultimately control all of the digital wealth of Americans will virtually have control of all the people in a cashless society. This results in a definite loss of freedom and liberty.[29]

بیل ان اور بیل آوٹ[ترمیم]

جب کسی بڑے بینک یا ادارے کو ہونے والے بہت بڑے نقصان کو حکومت ٹیکس دہندہ کی دی ہوئی رقم سے پورا کرتی ہے تو اسے بیل آوٹ کہتے ہیں۔ لیکن جب حکومت بینک کو اجازت دیتی ہے کہ اپنے کھاتے داروں کی کچھ رقم ہضم کر کے اپنے نقصان کو پورا کر لو تو اسے بیل ان یا hair cut کہتے ہیں۔
10 اپریل 2016 کو آسٹریا کے ایک بینک نے اپنے سینیئر کھاتے داروں کے اکاونٹ سے 54 فیصد کٹوتی (bail in) کا اعلان کیا ہے تا کہ بینک کو درپیش 8.5 ارب ڈالر کے خسارے کا ازالہ کیا جا سکے۔[30] پرتگال، یونان، اٹلی، ڈنمارک، ہنگری اور قبرص میں یہ سب کچھ پہلے ہی ہو چکا ہے۔[31]

7 اگست 2016 کو ہانگ کانگ کے بٹ کوائن کے ایکسچینج Bitfinexنے اعلان کیا کہ وہ اپنے تمام گاہکوں کی بٹ کوائن کی شکل میں جمع شدہ رقم میں سے 36 فیصد کٹوتی کر رہا ہے کیونکہ کسی ہیکر نے ایکسچینج سے 119,756 بٹ کوائن چرا لیے ہیں جن کی مالیت 7 کروڑ ڈالر تھی۔[32]

میکسیکو[ترمیم]

میکسیکو کے مشرقی صوبے میں دیہاتیوں نے بینک کے رویے سے تنگ آ کر چاندی کے سکے جو Libertad کہلاتے ہیں استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

میکسیکو کا ایک اونس کا چاندی کا سکہ جو Libertad کہلاتا ہے۔

اقتباس[ترمیم]

  • انڈیا کے لوگوں کو سونا خریدنے سے روکنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے۔ انکا کیش ختم کر دو۔
The Only Way to Stop Indians Buying Gold? Take Away Their Cash [33]
  • غیر یقینی صورت حال میں کیش ہی بادشاہ ہوتا ہے لیکن سینٹرل بینک بڑے منظم طریقے سے بتدریج کیش ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

In uncertain times, “cash is king,” but central bankers are systematically moving to eliminate that option.[34]

  • دھوکا دہی پر قائم کرنسی نظام کی بقا اسی میں ہے کہ رقم کا مالک بالکل بے بس ہو جائے۔

"The preservation of an insolvent currency system requires that the owners of currency have no way to protect it..."[35]

  • ڈوئیچے بینک کے چیف ایگزیکیوٹو آفیسر John Cryan کی پیشنگوئی ہے کہ غالباً آئندہ دس سالوں میں کیش بالکل ختم ہو جائے گا۔

voters don’t get a say in who runs the country. Instead, a “shadow government” of elites, cronies, lobbyists, bureaucrats, politicians, and zombies – aka the Deep State – is permanently in power.[36]

  • وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ انڈیا کو کیش ختم کرنے کے لیے بڑے نوٹ منسوخ کرنے کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔

But, as WSJ adds, India has to do more than void notes if it wants to wean itself off cash.[37]

  • اپنی کتاب The New Case for Gold میں جیمز ریکارڈز لکھتے ہیں کہ اگر کاغذی کرنسی ختم ہو جائے تو بینک اکاونٹ میں سے آپ کے اربوں ڈالر راتوں رات غائب ہو سکتے ہیں یا حکومت پابندی لگا سکتی ہے کہ آپ 300 ڈالر سے زیادہ رقم ایک دن میں نہیں نکال سکتے۔

“Digital wealth is subject to power outages, infrastructure and exchange collapses, hackers, and online theft. What good is even a billion-dollar portfolio if it can be wiped out overnight? What if the government shuts down the banks and reprograms the ATMs to limit you to $300 a day for gas and groceries?”

  • مکمل حاکمیت کی نشانی وہ میڈیا (ذرائع ابلاغ ) ہیں جو تحقیق اور سچائی جاننے کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتے اور بس پروپیگینڈا پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ پورا کا پورا مغربی میڈیا ایک لمبے عرصے سے صرف پروپیگینڈا کرنے میں مصروف ہے۔ متحدہ امریکا میں جب 6 عظیم میڈیا کارپوریشنوں کا قیام عمل میں آیا تو سارے آزاد جرنلسٹ اب پروپیگینڈا کرنے والوں میں تبدیل ہو گئے کیونکہ وہ ان اداروں کے مالکان نہ رہے۔ حکومت ہمیں وہاں لے آئی ہے جہاں وہ ہمیں دیکھنا چاہتی ہے یعنی مکمل بے اختیار اور بے خبر۔

The sign of a totalitarian or authoritarian state is a media that feels no responsibility to investigate and to find the truth, accepting the role of propagandist instead. The entire Western media has been in the propaganda mode for a long time. In the US the transformation of journalists into propagandists was completed with the concentration of a diverse and independent media in six mega-corporations that are no longer run by journalists. The government has us where it wants us—powerless and disinformed.[38]

  • جرنلسٹ کا کام سچ کو تباہ کرنا، ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا، غلط تاویل دینا، ذلیل کرنا، قارون کے آگے دُم ہلانا اور محض روٹی کی خاطر اپنے آپ کو، اپنے ملک کو اور اپنی قوم کو بیچ دینا ہے۔ ہم پس منظر میں چھپے امیروں کے غلام اور آلہ کار ہیں۔

The business of the journalist is to destroy truth, to lie outright, to pervert, to vilify, to fawn at the feet of Mammon, and to sell himself, his country, and his race, for his daily bread. We are tools and vassals of rich men behind the scenes..."[39]

  • ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں چند ہائی ٹیک کمپنیاں جو اکثر حکومت سے ملکر کام کرتی ہیں، نہ صرف ہماری بیشتر کارروائیوں پر نظر رکھتی ہیں بلکہ بڑے غیر محسوس طریقے سے ہماری سوچ، احساسات اور گفتگو کو کنٹرول بھی کر لیتی ہیں۔ آج جو ٹیکنولوجی ہمارے اطراف موجود ہے وہ کوئی بچوں کا بے ضرر کھلونا نہیں ہے بلکہ اس نے پوری دنیا کے لوگوں کی سوچ کوبدلنا ممکن بنا دیا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ نہ کسی کو خبر ہو نہ کوئی ثبوت باقی رہے۔ ایسے طریقوں کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اور یہ طریقے موجودہ قوانین کے دائیرے سے بالکل باہر ہیں۔

We are living in a world in which a handful of high-tech companies, sometimes working hand-in-hand with governments, are not only monitoring much of our activity, but are also invisibly controlling more and more of what we think, feel, do and say. The technology that now surrounds us is not just a harmless toy; it has also made possible undetectable and untraceable manipulations of entire populations – manipulations that have no precedent in human history and that are currently well beyond the scope of existing regulations and laws.[40]

  • جن لوگوں پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے اور جو نظر لوگ رکھتے ہیں ان کے درمیان غلام اور آقا کا رشتہ ہوتا ہے۔ اپنے آپ سے دوبارہ پوچھیئے کہ ہم سب شہری ہیں یا غلام؟

"The relationship between those who are constantly watched and tracked, and those who watch and track them, is the relationship between masters and slaves." Ask yourself again. Are we citizens or are we slaves?

By abolishing cash, they seek to lock everyone’s money holdings into the fractional-reserve banking system and make the system completely run-proof for all time.

  • تمہاری حکومت تمہاری دولت اور بھلائی کی سب سے بڑی دشمن ہے۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کرنسی کنٹرول کے ذریعے لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ڈوبتے جہاز میں ہی بیٹھے رہیں۔

Your government is by far the most serious threat to your money and wellbeing.....In effect, currency controls force people to stay with a sinking ship.[41]

  • یہ روتھشیلڈ خاندان کا منصوبہ تھا کہ بینکنگ سسٹم کو ایسا بنا دو جسے لوگ سمجھ ہی نہ پائیں۔

“The few who understand the system will either be so interested in its profit, or so dependent on its favours, that there will be no opposition from that class, while on the other hand, the great body of people, mentally incapable of comprehending the tremendous advantage that capital derives from the system, will bear its burdens without complaint, and perhaps without even suspecting that the system is inimical to their interests.”[42]

  • 8 ستمبر 2016 کو Wells Fargo بینک پر اپنے گاہکوں کے ساتھ دھوکا دہی ثابت ہونے پر ساڑھے 18 کروڑ ڈالر کا جرمانہ کیا گیا۔

On Thursday (8th Sept. 2016), Wells Fargo was fined $185 million, (including a $100 million penalty from the Consumer Financial Protection Bureau, the largest penalty the agency has ever issued) for engaging in pervasive fraud over the years which included opening credit cards secretly without a customer’s consent, creating fake email accounts to sign up customers for online banking services, and forcing customers to accumulate late fees on accounts they never even knew they had. Regulators said such illegal sales practices had been going on since at least 2011.

  • 7 فروری 2019ء کو Wells Fargo کی آن لائن بینکنگ اور موبائل ایپ نے کام چھوڑ دیا جس کی وجہ سے کھاتے دار اپنے بینک اکاونٹ تک رسائی سے محروم ہو گئے۔ یہ ایک ہفتے میں دوسری بار ہونے والا خلل تھا۔
"Wells Fargo's online banking and mobile app went down Thursday morning, leaving customers unable to access their accounts and conduct banking needs. It is the second time their system has gone down in less than a week. "[43]
  • اگر (امریکی) حکومت کے اہم اداروں اور سیاسی پارٹیوں کی ہیکنگ ہو سکتی ہے توبینکوں کی کیوں نہیں ہو سکتی؟

If supposedly important government agencies and political parties can be hacked, why would the banking system be unhackable?

  • کالا دھن ختم کرنے اور دہشت گردوں کی مالی امداد بند کرنے کے بہانے ابھی مزید قوانین بنیں گے جو کیش کی لین دین کے خلاف ہوں گے تاکہ ٹیکس دینے والوں کو مزید نچوڑا جا سکے۔

Expect more legislative and regulatory action against cash transactions under the guise of fighting against money laundering, terrorist financing, and tax havens as governments continue to try to squeeze as much money as possible from taxpayers.

  • بہت بڑے پیمانے پر آزادی سلب کرنے کی جتنی صلاحیت بینکنگ سسٹم میں ہے اتنی کسی اور میں نہیں۔

The value of advocating for decentralized and physical alternatives to the banking system may not be easily grasped by the activists of today, but few other things have the potential to erode freedom on such a massive scale.[44]

  • "دھکیلنے کی بجائے لوگوں کو خاموشی سے غلامی کی جانب ہانک دو"

Soft-sell the people into their own enslavement instead of forcing them.[45]

  • “It’s a sign that the authoritarians are clinging to power so they can collect the revenues collect the taxes and make sure you’re not getting around the system. That’s what the cashless society is all about."[46]
  • تین چیزیں امیر ترین لوگوں کا ایجنڈا ہیں: عالمی کرنسی، عالمی ٹیکس کا نظام اور عالمی حکمرانی

the elite, whoever they may be—George Soros, to be sure, but Christopher Dodd?—have three things on their agenda: “world money, world taxation, and world order.”[47]

  • the effort to eliminate cash perfectly - as an “attack on individual freedom.” [48]
  • انڈیا وہ چوہا بن چکا ہے جس پر بڑے مالیاتی تجربے کیے جاتے ہیں مثلاً نومبر 2016ء میں بڑے نوٹوں کی منسوخی یا آج (20 ستمبر 2019ء) کی موڈرن منی تھیوری کا تجربہ۔

India has somehow become the gunniea pig for huge monetary experiments: whether it is the Nov 2016 cash elimination, or today's MMT test[49]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. A Well-Kept Open Secret: Washington Is Behind India’s Brutal Experiment of Abolishing Most Cash
  2. there is a “war on cash” being waged on various fronts around the world.
  3. transparently totalitarian
  4. James Rickards via The Daily Reckoning
  5. "Gold Is Now Effectively Illegal" In India - The Consequences Of Creating A Cashless Society
  6. Bloomberg
  7. India’s Modi Admits Plan Shifting Nation To “Cashless Society”
  8. "The Death of Cash"
  9. eliminating $100 bills could lower crime rates
  10. BLOOMBERG- Fight Against (Banking) Crime?
  11. The world's most cashless countries
  12. IceCap
  13. Norway’s Biggest Bank Demands Cash Ban: officially sanctioned theft
  14. شرح سود کا منفی ہو جانا سینٹرل بینکوں کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے
  15. The Ban On Cash Is Coming, Soon
  16. Meet The North Korean Evil Genius Who Hacked Sony, The Bangladesh Central Bank, And Launched WannaCry
  17. Chinese Hackers Break Into NY Fed, Steal $100 Million
  18. Gamblers Laundered $50M In Stolen Bangladesh Reserves For "Elite North Korean Hackers" By Playing Baccarat
  19. Over $7 Million Stolen After CoinDash Initial Coin Offering Hacked
  20. Hackers steal data from ‘almost all Pakistani banks’: FIA
  21. With Over $6 Million Missing, Pakistan Just Got Hit With The Biggest Cyber Attack In Its History
  22. Kasy Fiskalne In Polish
  23. Sweden's 'Cash Rebellion' Fears "We Have No Weapon Fight Back...If Putin Invades"
  24. "Cashless" Sweden Suddenly Warns Citizens: Hoard Banknotes & Coins In Case Of Cyber-Attack Or War
  25. Visualizing The Global War On Cash
  26. Shadow Government
  27. The Deep State & The War On Cash
  28. Cashless society = TOTAL SLAVERY
  29. Is The Tyranny Of A Cashless Society Coming?
  30. First "Bail In" Under New European Rules
  31. یورپیئن پارلیمنٹ
  32. Hacked Bitcoin Exchange Users to Lose 36%
  33. Bloomberg
  34. Negative Interest, the War on Cash, and the $10 Trillion Bail-in
  35. بینکوں کی بقا اسی میں ہے کہ رقم کا مالک بے بس ہو
  36. Control, Tax, Confiscate: Larry Summers is a spokesman for the Deep State.
  37. Indian Currency Crashes To Record Low As Cash Exchange Of Old Notes Suspended
  38. Do Americans Live In A False Reality Created By Orchestrated Events?
  39. John Swinton on the independence of the press
  40. manipulations that have no precedent in human history
  41. Casey Research’s Handbook for Surviving the Coming Financial Crisis.
  42. The Final Wakeup Call (against a world system of slave labour)
  43. Wells Fargo System Outage Continues, Bank Blames Power Shutdown After Smoke Detected
  44. Cash No Longer King: Europe Accelerates Move To Begin Elimination Of Paper Money
  45. آئی ایم ایف- انٹرنیشنل مافیا فیڈریشن؟
  46. "Central Bankers Are Always Wrong...Especially Before A Bust"
  47. THE ROAD TO RUIN The Global Elites' Secret Plan for the Next Financial Crisis by James Rickards
  48. Ron Paul: "A Cashless Society Is Very, Very Dangerous"
  49. India Launches MMT: Indian Stocks Soar After Surprise Central Bank-Funded Tax Cut