نقش لائلپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نقش لائلپوری
Naqsh Lyallpuri.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 24 فروری 1928[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
فیصل آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 جنوری 2017 (89 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ نغمہ نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

جسونت رائے شرما (24 فروری 1928 – 22 جنوری 2017)، ان کا اصلی نام تھا، ویسے وہ اپنے قلمی نام نقش لائلپوری سے مشہور ہیں۔ وہ بھارتی غزل گو شاعر اور بالی وڈّ کے فلمی گیت نگار تھے۔ انہوں نے نہایت اعلی گیت لکھے۔  رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے، لتا کی آواز میں 1973 میں آئی فلم ‘دل کی راہیں’ کا گیت)؛ الفت میں زمانے کی ہر رسم کو ٹھکراؤ (1994 کی فلم ‘دور گرل’ کا گیت)؛ مجھے پیار تم سے نہیں ہے… (رونا لیلیٰ کی آواز میں 1977 میں بنی فلم ‘گھروندا’ کا گیت)؛ نا جانے کیا ہوا جو تجھ کو چھو لیا، لتا کی آواز میں 1981 کی فلم ‘درد’ کا گیت) ۔ نقش لائلپوری کے لکھے گیت محمد رفیع، لتا منگیشکر، مکیش، آشا بھونسلے اور کشور کمار جیسے گائکوں نے گائے ہیں اور مدن موہن، نوشاد، جےَ دیوَ، سپن-جگموہن، روندر جین، ہنس راج بہل، حسن لال-بھگت رام وغیرہ جیسے سنگیتکاروں نے ان کے گیتوں کو سنگیتبندھ کیا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

جسونت رائے شرما کا جنم 24 فروری 1928 کو ایک پنجابی براہمن گھرانے میں لائلپور (آج کے فیصل آباد اور موجودہ پاکستان) میں ہوا تھا۔[2][3] ان کے والد ایک مکینک انجینئر تھے اور چاہتے تھے کہ جسونت بھی انجنیئر بنے۔ وہ جسونت کے شعر و ادب سے لگاؤ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ جب ان کی عمر آٹھ سال کی تھی تو ان کی والدہ چیچک کی وجہ سے انتقال کر گئیں اور ان کے والد نے دوسری شادی کر لی، جس کی وجہ سے باپ بیٹے کے رشتے میں دراڑ آگئی۔  

1946 میں شرما نے اشاعت گھر ہیرو پبلیکیشنز میں کام کیا اور بعد میں کام کی تلاش کے لیے لاہور چلے گئے۔ بھارت کی تقسیم کے بعد، یہ خاندان لکھنؤ چلا گیا۔ بعد میں شرما نے قلمی نام "نقش" اپنا لیا اور اردو شاعروں کی روایت کے مطابق جنم ستھان کے ساتھ جوڑنے کے لیے اس میں "لائلپوری" کا اضافہ کر لیا۔[4]

لائلپوری 1951 میں ممبئی چلے گئے اور ٹائیمز آف انڈیا میں ایک پروف ریڈرکی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا۔ بڑے پاپڑ بیلے۔ اس نے کملیش سے شادی کی، جس سے ان کے تین بیٹے، باپن، راجیندر اتے سنیت پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کے دیگر لوگوں نے بھی لائلپوری کو اپنے تخلص کے طور پر اپنالیا۔ لائلپوری اپنی بیوی کو اپنی "طاقت کا ستون" مانتے تھے جس نے اس کے ناکام برسوں میں ان کا ڈٹّ کے ساتھ دیا تھا۔ ان کا بیٹا راجیندر "راجن" لائلپوری ایک سنموٹوگرافر ہے۔[5]

تخلیقات[ترمیم]

لائلپوری 1950 کی دہائی میں ہندی فلموں میں کام کرنے کے لیے ممبئی آئے تھے۔ انہوں نے سٹیج ناٹک لکھنا شروع کیے اور اداکار رام موہن کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی، جو اداکار اور ڈائریکٹر جگدیش سیٹھی کا معاون تھا۔ موہن نے لائلپوری کو سیٹھی سے ملوایا، جس نے ان کی شاعری سنی اور انہیں اپنی اگلی فلم کے گئت لکھنے کا کہا۔ جگدیش سیٹھی اس وقت ‘جگو’ فلم بنا رہے تھے۔  ‘جگو’ کے آشا بھونسلے کے گائے اور ہنسراج بہل کے کمپوز کیے گیت ‘اگر تیری آنکھوں سے آنکھیں ملا دوں…” کے ذریعے فلموں میں ان کا داخلہ ہوا۔

1970 کی دہائی تک لائلپوری کے کام کو کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ انہوں نے گزر بسر کے لیے محکمہ ڈاک میں کام کیا۔ سنگیت ڈائریکٹر نے انہیں ٹی-وی لڑیوں کے گیت نگاری کی راہ دکھائی اور ان کو ہندی ٹیلی ویژن کی لڑی “ شریکانت “ کے گیت لکھنے کو کہا۔ لائلپوری نے تقریباً 40 پنجابی فلموں کے ساتھ ساتھ 50 ٹیلی ویژن سیریل کے لیے گیت لکھے۔

لائلپوری نے مدن موہن، خیام، جیدیو، نوشاد اور روندر جین سمیت کئی بالیوڈّ سنگیت ڈائریکٹروں اور سریندر کوہلی، ہنسراج باہل، وید سیٹھی اور ہسنلال بھگترام جیسے پنجابی سنگیت کمپوزروں کے ساتھ کام کیا۔  1970 میں ان کی پہلی ی فلم 'فکر' کے دور سے ڈائریکٹر بی۔ آر۔ اشارہ کے ساتھ قریبی تعلق تھا، جس کے ساتھ مکیش کا گایا لائلپوری کا گانا "میں تو ہر موڑ پر تجھ کو دونگا صدا' مشہور ہوا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/2059573 — بنام: Naqsh Lyallpuri — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. Devesh Sharma۔ "Naqsh Lyallpuri: DK Bose Is An Embarrassment"۔ iDiva۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2017۔
  3. "Naqsh Lyallpuri: A playlist of his top songs"۔ Hindustan Times۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2017۔
  4. Narayan, Hari۔ "A forgotten lyricist from Punjab"۔ The Hindu۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 جنوری 2017۔
  5. "Old is Gold: Naqsh Lyallpuri (Feb 24,1928 – Jan 22 2017)"۔ The Film Writers' Association۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2017۔