نماز اشراق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

نماز اشراق یا چاشت سنت مؤکدہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ نماز پڑھنا ثابت ہے، جیسے کہ مسلم: (1176) میں عائشہ رضی اللہ عنہا  کی حدیث میں ہے کہ : (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور پھر جتنی اللہ تعالی توفیق دیتا تو آپ اس سے زیادہ بھی ادا کرتے تھے)

بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو بھی اس کی ترغیب دلاتے، جیسے کہ درج ذیل احادیث میں اس کا بیان  ہوگا۔

شیخ ابن باز   "مجموع الفتاوى" (11/389) میں کہتے ہیں کہ: 

"چاشت کی نماز سنت مؤکدہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی یہ نماز پڑھی ہے اور صحابہ کرام کو بھی اس کی ترغیب دلائی " انتہی

دوم:

نمازِ اشراق کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متعدد احادیث  وارد ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

1- ابو ذر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:  (تم میں سے ہر ایک کے   ہر جوڑ پر  ایک صدقہ واجب ہے،  چنانچہ   "سبحان اللہ" کہنا صدقہ  ہے، "الحمد للہ" کہنا صدقہ  ہے،   "لا الہ الا اللہ" کہنا  صدقہ  ہے،  "اللہ اکبر" کہنا صدقہ  ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے اور اس صدقے سے   اشراق کی دو رکعتیں کافی ہو جاتی ہیں) مسلم: (1181)

نووی کہتے ہیں:

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان:  (وَيَجْزِي مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعهُمَا مِنْ الضُّحَى)[یعنی:  اور اس صدقے سے   اشراق کی دو رکعتیں کافی ہو جاتی ہیں] میں " وَيَجْزِي " کو  پڑھنے کا طریقہ  یہ ہے کہ [پہلی]"یا" پر پیش پڑھی جائے تو اس کا مطلب ہوگا: قائم مقام ہونا، [یعنی: یہ دو  رکعتیں صدقے کے قائم مقام ہو جائیں گی] یا پھر اس پر زبر پڑھی چائے، تو اس کا مطلب ہوگا: کافی ہونا، [زبر پڑھنے کی صورت میں] اللہ تعالی کا فرمان: {لَا تَجْزِي نَفْسٌ} کوئی جان کافی نہ ہوگی[البقرة : 123] اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان: (تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہوگا) اسی  معنی سے تعلق رکھتا ہے، یہاں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ چاشت کی نماز کی کتنی فضیلت ہے اور اس کا کتنا بڑا مقام ہے، اسی طرح یہ بھی  ثابت ہوتا ہے کہ  اشراق کی نماز دو رکعتیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں" انتہی ماخوذ از امام نووی رحمہ اللہ کی کتاب: "شرح مسلم "<

2- بخاری: (1178) اور مسلم: (720)  میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین  چیزوں کی وصیت کی کہ میں انہیں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا: ہر ماہ تین دن کے روزے، اشراق کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا"

3- ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "مجھے میرے دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ان پر عمل پیرا  رہوں گا: ہر ماہ میں تین روزے، نماز اشراق اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں" مسلم: (1183)

قرطبی کہتے ہیں:

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابو درداء اور ابو ہریرہ کو وصیت  نماز اشراق کی  فضیلت، عظیم ثواب اور تاکیدی عمل  ہونے  پر دلالت کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس عظیم ثواب کے حصول کے لیے انہوں نے اسے کبھی نہیں چھوڑا" انتہی

"المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم"

3- ابو درداء اور ابو ذر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالی سے بیان کرتے ہیں کہ: (ابن آدم! میرے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں چار رکعات پڑھو، آخری حصہ میں میں تمہیں کافی ہو جاؤں گا) ترمذی: (437) اسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔

مبارکپوری کہتے ہیں:

"حدیث میں مذکور " دن کے ابتدائی حصہ " سے مراد ایک قول کے   مطابق نماز اشراق ہے اور ایک قول کے مطابق  نماز ضحی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ  فجر کی سنتیں اور  فرض مراد ہیں؛ کیونکہ شرعی طور پر دن کی ابتدا صبح سے ہی ہوتی ہے۔

مبارکپوری کہتے ہیں :میرے مطابق   امام ترمذی اور ابو داود رحمہما اللہ نے ان چار رکعتوں سے مراد نماز اشراق ہی لی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو  نماز اشراق کے باب میں ذکر کیا ہے۔

حدیث کے الفاظ: " میں تمہیں کافی ہو جاؤں گا " یعنی جو تمہاری ضروریات ہیں پوری کروں گا۔

اسی طرح : " آخری حصہ میں " یعنی دن کے آخری حصہ میں۔

طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہاری ضروریات اور حاجات  کے لیے کافی ہو جاؤں گا، تمہاری چار رکعتوں سے فراغت کے بعد  تمہیں پہنچنے والی  ہر  ناپسندیدہ چیز سے   تمہارا دفاع کروں گا"

یعنی مطلب یہ ہے کہ  میری عبادت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں تم وقت نکالو، میں دن کے آخری  لمحے میں تمہاری حاجت روائی کر کے ذہنی اطمینان دونگا"انتہی

"تحفۃ الأحوذی" (2/478)

4- ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (نمازِ اشراق  کی صرف اوّاب[رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا] ہی  پابندی کرتا ہے اور یہی صلاۃ الاوّابین ہے) ابن خزیمہ نے اسے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحيح الترغيب والترهيب" (1/164)

5- انس بن مالک  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (جس شخص نے فجر کی نماز با جماعت ادا کی، پھر سورج طلوع ہونے تک ذکر الہی میں مشغول رہا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو  یہ اس کے لیے  مکمل، مکمل، مکمل حج اور عمرے کے اجر کے برابر ہونگی) ترمذی: (586) البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح سنن ترمذی " میں حسن کہا ہے ۔

مبارکپوری رحمہ اللہ "تحفة الأحوذی بشرح جامع الترمذی" (3/158) میں کہتے ہیں:

"نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان : " پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں " یعنی سورج طلوع ہونے کے بعد۔

طیبی  کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ : نیزے کے برابر سورج طلوع ہونے کے بعد  جب مکروہ وقت  ختم ہو گیا تو دو رکعت ادا کیں، اس نماز کو نماز اشراق  کہا جاتا ہے، جو نماز ضحی کی ابتدائی  صورت ہے"