نمیرا سلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نمیرا سلیم
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1975 (عمر 45–46 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی کولمبیا یونیورسٹی
ہافسٹرا یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مہم جو،  فن کار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نمیرا سلیم (انگریزی: Namira Salim) کراچی، پاکستان میں پیدا ہونے والی ایک جویندہ اور فنکارہ ہیں۔ وہ اپریل 2007ء میں قطب شمالی [1] اور جنوری 2008ء میں قطب جنوبی [2] پر پہنچنے والی پہلی پاکستانی ہیں۔ وہ ماؤنٹ ایورسٹ پر اسکائی ڈائیو کرنے والی ایشیائی اور پہلی پاکستانی ہیں جنہوں نے تاریخی پہلے ایورسٹ اسکائی ڈائیوز 2008ء کی ٹیم کے ساتھ یہ کارنامہ سر انجام دیا۔[3] نمیرا رچرڈ برینسن کی ورجن گیلیکٹ کی واحد پاکستانی رکن ہیں جو دنیا کی پہلی تجارتی خلائی لائنر ہے۔ انہیں خلا میں جانے والی پہلی پاکستانی بھی تصور کیا جاتا ہے۔

44 سالہ پاکستانی نژاد خلا باز خاتون نمیرہ سلیم گذشتہ 13 سال سے وہ برطانیہ میں خلائی سیاحت کے حوالے سے کام کر رہی ہیں۔

نمیرہ سلیم 10 جنوری 2008ء کو جنوبی فرانس میں مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ مہم جو خاتون نمیرہ سلیم نے قطب جنوبی پر قدم رکھا اور وہاں پہلی مرتبہ پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل کیا.یہ پرچم انہیں 24 دسمبر 2007ء کو پاکستان کے نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومرو نے دیا تھا۔ نمیرہ سلیم اس سے قبل 21 اپریل 2007ء کو قطب شمالی میں بھی پاکستان کا پرچم لہرا چکی تھیں. وہ پرچم انہیں 29 جنوری 2007ء کو جنرل (ر) پرویز مشرف نے عطا کیا تھا۔ نمیرہ سلیم پہلی پاکستانی خاتون تھیں جنہیں قطبین پر پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ نمیرہ خلائی سفر کے لیے لاکھوں لوگوں میں سے منتخب ہونے والی خاتون ہیں جنہیں ایک سال کے طویل غوروخوض کے بعد اس خلائی سفر کا حصہ بننے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ انہوں نے 2015ء میں خلائی سفر کے ذریعے امن کے فروغ کے لیے ایک غیر منافع بخش ادارہ قائم کیا.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "آرکائیو کاپی". 22 فروری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2018. 
  2. "آرکائیو کاپی". 22 فروری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2018. 
  3. "آرکائیو کاپی". 22 فروری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2018. 

بیرونی روابط[ترمیم]