نوابزادہ نصر اللہ خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
نوابزادہ نصر اللہ خان
Nawabzada nasrullah.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 13 نومبر 1916  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خطۂ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 ستمبر 2003 (87 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسلام آباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ایچی سن کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نوابزادہ نصراللہ خان[ترمیم]

نوابزادہ نصراللہ خان پاکستان کے معروف سیاستدان اور بہت پائے کے شاعر تھے اور ناصر تخلص کرتے تھے ۔نوابزادہ نصراللہ خان کا تعلق پٹھانوں کی لیلیزیئ شاخ سے تھا اور ان کے آبا و اجداد اٹھارویں صدی میں مظفر گڑھ کے علاقہ میں آباد ہوئے تھے۔ مظفرگڑھ سے تقریبا بیس کلومیٹر دور خان گڑھ کے علاقہ میں نوابزادہ نصر اللہ کا آبائی گھر اور زرعی زمین واقع ہے۔متحدہ ہندوستان میں انگریز حکومت نے نوابزادہ نصراللہ کے والد سیف اللہ کو انیس سو دس میں نواب کے خطاب سے نوازا اور گیارہ گاؤں الاٹ کیے تھے۔

نوابزادہ نصراللہ کا شمارتحریک آزادی پاکستان کے عظیم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔مجلسِ احرار کے سیکرٹری جنرل بھی رہے اور بعد ازاں پاکستان جمہوری پارٹی کی بنیاد رکھی جس کے تادم مرگ سربراہ رہے۔نواب زادہ نصر اللہ خاں کا یہ طرہ امتیاز رہا کہ انہوں نے سا ری زندگی اصولوں کی سیاست کی اورنظریات پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام اور مضبوط جمہوری سسٹم کے حوالے سے آپ کی کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

شخصیت[ترمیم]

ہمیشہ صاف ستھری چمکتی ہوئی سفید شلوار قمیض میں ملبوس نصراللہ خان ایک دلآویز شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا دستر خوان وسیع تھا اور کھانے کے وقت ہر مہمان ان کے ساتھ ان کے کمرے میں ان کے ساتھ کھانا تناول کرتا تھا۔ ٹیلی وژن پر کرکٹ میچ دیکھنا، خبریں سننا اور اخبارات پڑھنا ان کے پسندیدہ مشاغل تھے۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے اور آخری وقت میں اپنی سیاسی یاداشتیں لکھ رہے تھے ۔

ابتدائی زندگی پیدائش و آبا و اجداد[ترمیم]

نوابزادہ نصراللہ خاں 13نومبر 1916ء میں خان گڑھ میں پیدا ہوئے اور27ستمبر2003 ء کو اس دنیائے فانی سے عالمِ ابد کو سدھار گئے۔ان کا تعلق ملتانی پٹھانوں کی نورزئی شاخ سے تھا اور ان کے آبا و اجداد اٹھارویں صدی میں مظفر گڑھ کے علاقہ میں آباد ہوئے تھے۔ مظفرگڑھ سے تقریبا بیس کلومیٹر دور خان گڑھ کے علاقہ میں نوابزادہ کا آبائی گھر اور زرعی زمین واقع ہے۔نوابزادہ نصراللہ نے ایچی سن کالج لاہور جسے چیف کالج بھی کہا جاتا ہے سے تعلیم حاصل کی ، ایچی سن کالج ہمیشہ سے پاکستان کی اعلی ترین اشرافیہ کے بچوں کی تعلیم کا مرکز رہا ہے۔

انگریزی حکومت کی نوازشات[ترمیم]

قیامِ پاکستان سے قبل انگریز حکومت نے نوابزادہ نصراللہ کے والد سیف اللہ کو1910ء میں نواب کے خطاب سے نوازا اور گیارہ گاؤں الاٹ کیے تھے؛ لیکن نوابزادہ نصراللہ خان نے اپنی خاندانی روایت سے انحراف کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کی بجائے اقتدار کی مخالفت کی سیاست کا آغاز کیا۔

مجلس احرار میں شرکت[ترمیم]

نوابزادہ نصراللہ خان نے اپنی خاندانی روایت سے انحراف کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کی بجائے اقتدار کی مخالفت کی سیاست کا آغاز کیا۔ انھو ں نے1933ء میں طالب علم کی حیثیت سے ہی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا اور اپنے خاندان کے بزرگوں کے برعکس حکمران جماعت یونینسٹ پارٹی میں شامل ہونے کی بجائے مسلمانوں کی شدت پسند جماعت مجلس احرار میں شمولیت کی۔ احرار کا نصب العین انگریزوں کا برصغیر سے انخلاء تھا۔

پنجاب اسمبلی کی رکنیت[ترمیم]

قیام پاکستان کے بعد نصراللہ خان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر متحرک ہوئے اور انھوں نے انیس سو اکیاون کے صوبائی انتخابات میں خان گڑھ کے دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔ تاہم جب مسلم لیگ حکومت نے شہری آزادیوں پر پابندیاں لگانی شروع کیں تو نصراللہ خان نے ان پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور پارٹی سے مستعفی ہو گئے۔

نصراللہ خان کی سیاست میں جمہوریت اور اسلام اہم عناصر رہے۔ انھوں نے ممتاز دولتانہ کی زرعی اصلاحات کی مخالفت میں پیر نوبہار شاہ کے ساتھ مل کر انجمن تحفظ حقوق زمینداران تحت الشریعہ بھی قائم کی اور بعد میں 1953ء میں ختم نبوت تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس تحریک کو دبانے کے لیے پاکستان میں پہلی بار فوج کو استعمال کیا گیا۔

انیس سو چھپن میں پاکستان کا پہلا دستور بنا تو نصراللہ خان اس کو بنانے والی دستور ساز اسمبلی کا حصہ تو نہیں تھے لیکن اس کے تحفظ کرنے والوں میں پیش پیش رہے۔ جنرل ایوب خان نے 1958ء میں فوجی راج قائم کیا تو نصراللہ خان کی سیاست کا سب سے سرگرم دور شروع ہوا۔ وہ اس وقت تک عوامی لیگ میں شامل ہوچکے تھے جس کے سربراہ حسین شہید سہروردی تھے۔

نصراللہ خان نے 1962ء کے بالواسطہ انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور ان کی کوششوں سے جنرل ایوب خان کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کا اتحاد ڈیموکریٹک فرنٹ (این ڈی ای) وجود میں آیا۔ وہ اس اتحاد کے کنوینر تھے اور ایوب خان کے بالواسطہ انتخاباتی نظام کے خلاف انیس چھپن کے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت[ترمیم]

1965ءکے صدارتی انتخاب میں نصراللہ خان نے بانی پاکستان کی بہن فاطمہ جناح کی حمایت میں حزب مخالف کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں ایک بار پھر اہم کردار ادا کیا۔ گو فاطمہ جناح ایک متنازع انتخابات میں ہار گئیں اور نصراللہ خان کو بھی قومی اسمبلی انتخابات میں شکست ہوئی لیکن پارلیمانی نظام کی بحالی کے لیے جمہوری تحریک زور پکڑتی چلی گئی۔

نصراللہ خان نے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات پیش کرنے کے بعد عوامی لیگ کا الگ دھڑا قائم کر لیا تھا لیکن ایوب خان کے فوجی راج کو ختم کرنے کے لیے انھوں نے شیخ مجیب کی جماعت سمیت تمام جماعتوں کو جمہوری مجلس عمل (ڈیک) کے اتحاد میں جمع کر لیا جس کی عوامی مہم کے دباؤ میں ایوب خان نے سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کے لیے گول میز کانفرنس منعقد کی۔

جمہوریت کی بحالی کیلئے اہم سیاسی خدمات[ترمیم]

نصراللہ خان نے ایوب خان کے خلاف سیاسی اتحاد بنانے کا جو کام شروع کیا وہ مرتے دم تک ان کی پہچان بن گیا اور وہ متضاد سیاسی جماعتوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کرنے کے ماہر بن گئے۔ انھوں نے انھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حزب مخالف کی سیاست کی جن کی حکومتوں کوگرانے کا وہ باعث رہے۔ ان کے حامی انھیں بابائے جمہوریت کہتے تھے اور ان کے مخالفین کہتے تھے کہ وہ جمہوریت کے دور میں مارشل لگوانے کے لیے اور مارشل لا کے دور میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کام کرتے ہیں۔

انیس سو ستر کے انتخابات میں نصراللہ خان نے غلام مصطفے کھر کے ہاتھوں دو حلقوں میں شکست کھائی لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت بنی انھو ں نے پیر پگاڑا کی سربراہی میں حزب مخالف کو متحد کر لیا اور انیس سو ستتر کے انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی اور بھٹو کی زبردست مقبولیت کے سامنے نو جماعتوں کا قومی اتحاد تشکیل دے دیا۔

قومی اتحاد کی انتخابات میں دھاندلیوں کے الزام کے خلاف تحریک کا نتیجہ جنرل ضیا کے مارشل لا کی صورت میں نکلا تو چند سال بعد ہی نصراللہ خان نے پیپلز پارٹی کو اس کے زبردست مخالفین کے ساتھ بٹھا کر ضیاالحق حکومت کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کی بنیاد رکھ دی جس نے جنرل ضیا الحق کے خلاف1983ء میں زبردست احتجاجی تحریک چلا کر فوجی رہنما کو ریفرنڈم کرانے اور انیس سو پچاسی کے انتخابات کرانے پر مجبور کر دیا۔

نصراللہ خان کی اتحادی سیاست جنرل ضیا کی موت کے بعد شروع ہونے والے جمہوری ادوار میں بھی چلتی رہی۔ انھوں نے پہلے بے نظیر بھٹو کی 1988ء کے انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کو گرانے کے لیے متحدہ اپوزیشن یا کوپ کے نام سے حزب مخالف کی جماعتوں کو اکٹھا کیا اور جب بے نظیر کی حکومت کو صدر اسحاق خان نے رخصت کر دیا تو 1990ءکے انتخابات کے بعد بننے والی نوازشریف کی حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی سے مل کر آل پارٹیز کانفرنس کی بنیاد رکھ دی۔

کشمیر کمیٹی کی قیادت[ترمیم]

بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت واحد حکومت تھی جس میں نصراللہ خان نے حکومت میں شمولیت کی اور حزب اختلاف سے دور رہے۔ وہ اس دور میں قومی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بنے۔ جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کو صدر فاروق لغاری نے رخصت کیا تو نصراللہ خان ایک بار پھر نئے انتخابات کے بعد بننے والی نواز شریف حکومت کے خلاف سرگرم ہو گئے۔پاکستان کی تاریخ میں نوابزادہ نصراللہ نے پوری دنیا میں کشمیر کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا ۔

جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا[ترمیم]

بارہ اکتوبر کو جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نصراللہ خان کا بڑا کارنامہ دو دائمی حریفوں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو بحالی جموریت کی تحریک (اے آر ڈی) میں اکٹھا کرنا تھا۔نصراللہ خان نے اپنے لیے حزب اختلاف کے رہنما کا کردار چنا اور پچاس سال سے زیادہ اسے بڑی خوبی سے نبھایا۔ وہ بہت شائستہ اور فصیح گفتگو کرتے تھے۔ ان کی آواز بھاری اور دل آویز تھی۔ وہ اپنی تقریروں میں جا بجا بر محل شعروں کا استعمال کرتے اور ان کے منہ سے اپنے بدترن مخالفین کے بارے میں بھی کوئی ناشائستہ بات نہیں سنی گئی۔

نصراللۃ خان لاہو رمیں ریلوے اسٹیشن کے پاس نکلسن روڈ کے ایک سادہ سے کرائے کے مکان میں رہتے تھے جو ان کی جماعت کا صدر دفتر بھی تھا اور جس کے چھوٹے سے کمرے میں پاکستان کے بڑے بڑے سیاست دان سیاسی معاملات پر ان سے مشورے اور بات چیت کے لیے آتے۔

اپنے پچپن سال کے سیاسی کیریر میں نصراللہ خان عوام کے مقبول رہنما تو شاید نہیں بن سکے لیکن وہ رہنماؤں کے رہنما تھے۔ ہر وہ حکمران جس نے اقتدار میں ان کی مخالفت سے تنگ آکر ان کو برا بھلا کہا، اقتدار سے نکالے جانے کے بعد ان کے آستانے پر حاضری دیتا نظر آیا۔

وفات[ترمیم]

نوابزادہ نصراللہ 27 ستمبر 2003 کو 87 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے لاہور میں انتقال کر گئے۔ اس طرح صاف ستھری اور عمدہ سیاست کرنے والے ایک عظیم رہنما سے ملک محروم ہو گیا ۔

اولاد[ترمیم]

نوابزادہ نصراللہ خان کے دو بیٹے نوابزادہ منصور احمد خان اور نوابزادہ افتخار احمد خان ہیں جو پاکستانی سیاست سے وابستہ ہیں نوابزادہ منصور احمد خان صوبائی اور نوازادہ افتخار احمد خان قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ دونوں اصحاب اپنی سیاسی پارٹی بدلتے رہتے ہیں۔

منتخب کلام[ترمیم]

کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں

کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں

میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں

غم نہیں گر لبِ اظہار پر پابندی ہے

خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں

کُشتگانِ ستم و جور کو بھی دیکھ تو لیں

اہلِ دانش جو جفاؤں کو وفا کہتے ہیں

کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی

آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں

یوں تو محفل سے تری اُٹھ گئے سب دل والے

ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں

یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے

چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں

بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا

دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں

آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں

میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں

اُن کے ہاتھوں پہ اگر خون کے چھینٹے دیکھیں

مصلحت کیش اسے رنگِ حنا کہتے ہیں

میری فریاد کو اِس عہد ہوس میں ناصر

ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں


کشمیری مجاہد کے جذبات

پھر شورِ سلاسل میں سرورِ ازلی ہے

پھر پیشِ نظر سنتِ سجادِ ولی ہے

غارت گرئ اہلِ ستم بھی کوئی دیکھے

گلش میں کوئی پھول، نہ غنچہ، نہ کلی ہے

کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہجراں

کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے؟

دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل

اٹھو، کہ یہی وقت کا فرمانِ جلی ہے

ہم راہروِ دشتِ بلا روزِ ازل سے

اور قافلہ سالار حسین ابنِ علی ہے

اک برقِ بلا کوند گئی سارے چمن پر

تم خوش کہ مری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے


مزید دیکھیے[ترمیم]