نواب بہادر یار جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نواب بہادر یار جنگ
Bahadur Yar Jung.jpg
پیدائش محمد بہادر خان
3 فروری 1905ء
حیدرآباد، دکن، ریاست حیدرآباد، برطانوی ہندوستان، موجودہ بھارت
وفات 25 جون، 1944ء (عمر: 39 سال)
حیدرآباد، دکن، ریاست حیدرآباد، برطانوی ہندوستان، موجودہ بھارت
وجۂ وفات مخالف جماعت کے جانب سے حقہ میں زہر دیا گیا
آخری آرام گاہ حیدرآباد، دکن، ریاست حیدرآباد، برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے، برطانوی ہندوستان، موجودہ بھارت
قومیت برطانوی ہندوستان
دیگر نام قائد ملت، بہادر یار جنگ
مادر علمی مدرسہ دارالعلوم، موجودہ سٹی کالج، حیدرآباد
وجۂ شہرت نمایاں شخصیت تحریک پاکستان، فلسفی، سرگرم عمل شریعت، قانون، اسلام آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، آل انڈیا مسلم لیگ، تحریک خاکسار
سیاسی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، آل انڈیا مسلم لیگ، تحریک خاکسار
مذہب اسلام
شریک حیات تلمین خاتون
والدین والد: نواب یاسر یار جنگ والدہ: خاتون

نواب بہادر یار جنگ (اصل نام سعدی خان) ، پیدائش: 1905ء، وفات: 1944ء تحریکِ پاکستان میں مسلمانوں کے ایک رہنماء تھے۔ حیدر آباد دکن میں پیداہوئے۔ نسلاً سدو زئی پٹھان تھے۔ والد نواب نصیر یار جنگ جاگیردار تھے۔ بیس بائس سال کی عمر میں سماجی بہبود کے کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ مسلم ممالک اور مسلمانوں کے حالات سے گہرا شغف تھا۔ اسلامی ملکوں کا دورہ بھی کیا۔ برطانوی اقتدار کے مخالف تھے۔ حیدرآباد کے جاگیردار ان کے اس رویے سے نالاں تھے لیکن ان کی مخالفت نے ان کی عزم کو اور پختہ کیا اور وہ برصغیر کے مسلمانوں کی بہتری کے لیے آخر دم تک کوشاں رہے۔ آپ نے مجلس اتحاد المسلمین کی بنیاد ڈالی۔ اس جماعت نے ریاست اور ریاست کے باہر، مسلمانوں کی بہتری کے لیے بڑا کام کیا۔ آپ کا شمار چوٹی کے مقرروں میں ہوتا ہے۔

مارچ 1940ء میں مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس منعقدہ لاہور میں شرکت کی۔ اور بڑی معرکہ آرا تقریر کی۔ آل انڈیا سٹیٹس مسلم لیگ کے بانی اور صدر تھے۔ سیاسی سرگرمیوں کی بنا پر والئی ریاست کی طرف سے پابندیاں بھی عائد ہوئیں ۔ آپ نے خطاب و منصب چھوڑا۔ جاگیر سے بھی دشت کش ہوگئے لیکن اپنے نظریات سے منحرف نہ ہوئے۔

وفات[ترمیم]

کہا جاتا ہے کہ 25 جون 1944 کو حرکت قلب بند ہونے سے آپ کا انتقال ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو زہر دیا گیا


بیرونی روابط[ترمیم]