نواب فیض النساء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نواب
نواب فیض النساء
(بنگالی میں: ফয়জুন্নেসা চৌধুরানী خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
نواب فیض النساء

نواب
دور حکومت 1883–1903
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1834  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 23 ستمبر 1903 (68–69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
خاندان تیموری خاندان (by birth)[1]
نسل Arshad-un-Nissa Choudhurani
Badr-un-Nissa Choudhurani
دیگر معلومات
پیشہ مصنفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

نواب بیگم فیض النساء چودھرانی (1834ء تا 1903ء) ہومنا آباد کی زمیندار تھیں جو آج کل بنگلہ دیش کے ضلع کومیلا کی پشم گاؤں ریاست ہے۔وہ خواتین کی تعلیم اور دوسرے سماجی کاموں کے لیے بہت مشہور ہیں۔ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں 1889ء میں ملکہ وکٹوریا نے فیض النساء کو "نواب" کے لقب سے نوازا۔ اس لقب "نواب" نے انہیں جنوبی ایشیا کی پہلی نواب خاتون کا اعزاز بخشا۔[3][4][5][6]

فیض النساء کا علمی و ادبی کام 1857ء کے بعد سے تعلق رکھتا ہے جب مسلمان ہر طرف سے تنزلی کا شکار تھے۔ فیض النساء نے اس دور میں اپنی تہذیب کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کی تعلیم کے لیے اسکول قائم کرنا شروع کیے۔ اس طرح انہوں نے مسلمان خواتین کو تعلیم سے روشناس کروا کے ناامید مسلمانوں میں اعتماد و مضبوطی کے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کی۔

مسلمان خواتین کی تعلیم کی حامی، ایک ہمدرد اور سماجی کارکن کے طور پر کام کرنے والی فیض النساء کومیلا میں پیدا ہوئیں جو آج کل کے بنگلہ دیش میں واقع ہے۔ ان کی شادی اپنے دور پرے کے کزن اور پڑوسی زمیندار ، محمد غازی سے 1860ء میں ہوئی۔ فیض النساء اس کی دوسری بیوی تھیں اور صرف دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد انہوں نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ان کی بیٹیوں کے نام ارشد النساء اور بدرالنساء ہیں۔ 1883ء میں اپنی والدہ کی وفات کے بعد وہ زمیندار بن گئیں اور پھر سماجی اور فلاحی کاموں میں ان کی مصروفیات میں اضافہ ہو گیا اور اس طرح 1889ء میں انہیں برٹش انڈیا کی پہلی نواب خاتون ہونے کا اعزاز ملا۔ انہوں نے دوسرے ادبی کام بھی سر انجام دیے جیسے سنگیت سار ، سنگیت لاہاری اور تتوا و جاتیا سنگیت وغیرہ۔ وہ اپنے پرخلوص علمی اور فلاحی کاموں، اسکولوں، مدرسوں اور ہسپتالوں کے قیام کے لیے جانی جاتی ہیں۔

ابتدائی زندگی اور پس منظر:
چودھرانی 1834ء میں پشم گاؤں جو ضلع کومیلا میں لکشم کے زیر تحت تھا، میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد احمد علی چودھری تھے جو شاہزادہ مرزا اورنگزیب، نواب، خان بہادر، مغل شہنشاہوں کی اولاد اور ہومنا آباد پشم گاؤں ریاست کے زمیندار کے طور پر بھی مشہور تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://en.wikisource.org/wiki/Page:The_Indian_Biographical_Dictionary.djvu/48
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb161670243 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ college نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  4. "Famous Bengali: Nawab Faizunnesa Chowdhurani ... | Bangladesh"۔ Mybangladesh.tumblr.com۔ 12 جون 2012۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2013۔
  5. "বাংলা সাহিত্যে মুসলমান নারী"۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 ستمبر 2013۔
  6. "নারী মহীয়সী"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 ستمبر 2013۔