نواب قدسیہ بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نواب قدسیہ بیگم (گوہر بیگم) ریاست بھوپال کی پہلی خاتون نواب تھیں۔ انہوں نے ریاست بھوپال پر بیس سال حکومت کی۔

پیدائش[ترمیم]

نواب قدسیہ بیگم کا اصل نام گوہر بیگم تھا۔ آپ کی پیدائش 1215ھ میں بھوپال میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کا نام غوث محمد خان (فرزند نواب حیات خان والی بھوپال) تھا۔

تخت نشینی[ترمیم]

نواب قدسیہ بیگم کی شادی نواب نظیرالدولہ نظیرمحمد خان والی بھوپال سے 1232ھ میں ہوئی۔ شادی کے تین سال بعد نواب نظیر الدولہ وفات پا گئے اس نے اپنے پیچھے خرد سالہ بیٹی سکندر بیگم چھوڑی۔ قدسیہ بیگم کے شوہر کی وفات کے بعد عمائدین ریاست نے قدسیہ بیگم کو مختار ریاست مقرر کیا۔ اسی سال نواب قدسیہ بیگم کے والد نواب غوث محمد خان کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان مشکل حالات میں نواب بیگم نے بڑے حوصے سے کام لیا اور ریاست کا انتظام بڑی خوش اسلوبی سے چلاتی رہیں۔ نواب بیگم بڑی دانا، فیاض، دیندار اور دلیر خاتون تھیں۔ انہوں نے بھوپال میں ایک عظیم الشان جامع مسجد تعمیر کرائی۔ اس کے علاوہ لاکھوں روپے خرچ کر کے بھوپال کے شہریوں کو پانی مہیا کرنے کے لیے واٹر ورکس بنوایا۔

حکومت سے علاحدگی[ترمیم]

1250ھ میں نواب قدسیہ بیگم نے اپنی لخت جگر سکندر بیگم کی شادی نواب جہانگیر محمد خان سے کرا دی۔ شادی کے بعد جہانگیر محمد خان نے مطالبہ کیا کہ عنان حکومت اس کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ اس پر نواب قدسیہ بیگم نے ناراض ہو کر اس کو نظر بند کر دیا۔ نظر بندی میں نواب جہانگیر محمد خان کسی طرح بھاگ کر سیہور پہنچ گئے۔ سیہور میں نواب جہانگیر محمد خان نے کئی مواضعات پر قبضہ کر لیا۔ بہت سے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد نواب قدسیہ بیگم اور نواب جہانگیر محمد خان میں باقاعده لڑائی چھڑ گئی۔ اس جنگ میں انگریزوں نے مداخلت کرکے جنگ بند کرا دی اور جنگ کا فیصلہ کچھ یوں کیا کہ ریاست نواب جہانگیر محمد خان کے سپرد کر دی اور نواب قدسیہ بیگم کو چار لاکھ کی جاگیر دے کر ان کو عنان حکومت سے الگ کر لیا. یہ واقعہ 1252ھ کا تھا.

وفات[ترمیم]

نواب قدسیہ بیگم نے اپنی باقی زندگی اپنی ریاست بھوپال میں گزاری. آپ نے 1299ھ میں تقریبا 84 برس کی عمر میں وفات پائی۔

سیرت[ترمیم]

نواب قدسیہ بیگم کو عبادت و ریاضت سے بڑا شغف تھا۔ آپ روزانہ رات کو دو بجے کے قریب بیدار ہوتیں اور صبح آٹھ بجے تک تلاوت قرآن، نماز اور ذکر و اذکارمیں مشغول رہتیں۔ فرض نمازوں کے علاوہ تہجد کی بھی پابند تھیں اور نوافل بھی بڑی کثرت سے پڑھتی تھیں۔ اپنے متعلقین اور ملازمین کو بھی نماز کی تلقین کرتی رہتی تھیں۔ صدقات و خیرات کرنے میں بڑی کشاده دست تھیں۔ سینکڑوں غرباء اور مساکین ان کے دستر خوان پر پرورش پاتے تھے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ اسلام کی چار سو باکمال خواتین مولف طالب الہاشمی صفحہ 512 اور 513