نواب مظفر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نواب مظفر خان
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1818  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مظفر خان سدوزئی بلوچ ملتان کا حاکم تھا۔ 1818 میں مہاراجا رنجیت سنگھ نے اپنی فوج دیوان بھوانی داس کی سربراہی میں ملتان بھیجی۔ مہاراجا کا مقصد مظفر خان سدوزئی بلوچ سے ملتان کو آزاد کروانا تھا۔ مظفر خان نے انکار کر دیا۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ مظفر خان قلعے میں محصور ہو گیا۔ مہاراجا رنجیت سنگھ نے اپنی مشہور توپ ” زمزمہ“ اور فوج بھیجی۔ اس جنگ میں مظفر خان اپنے 7 بیٹوں کے ساتھ ہلاک ہو گیا۔


جو سرخرو شد بسوئے جنت بگفت رضوان [بیا مظفر خان سدوزئی]:

"میرافغانان حضرت سدو والئی ہرات کی چوتھی پشت میں نواب شجاع خان سدوزئی نے 1763ء بمطابق 1177ھ میں ملتان کی گورنری،احمد شاہ درانی سے پٹہ پر لی تھی-یہ وہی نواب ہے جس نے 1748 میں مو جودہ شہرشجاع آباد بسایا اور نواب مظفر خان اس کا شجاعت مند اورغیرت مند بیٹا تھا- نواب مظفر خان سدوزئی افغانستان کی درانی حکومت کی جانب سے صوبہ ملتان کا آخری گورنر تھا جس کے نام پر مظفر گڑھ کا ضلع قائم ہے،وہ 1757ء میں پیدا ہوا۔13 سال کی عمر میں مظفر گڑھ کا علاقہ مظفر خان کی نگرانی میں دے دیا گیا۔۔ 1778ء میں والد(شجاع خان) کی وفات کے بعد ملتان کا گورنر بنا۔ ۔ملتان کے ایک بڑے بزرگ حضرت حافظ جمال سے تلواراور تیر اندازی میں مہارت حاصل کی۔

1790ء میں مظفر خان نےدفاعی نقطہ نظر سے مظفرگڑھ کا قلعہ تعمیر کروایا۔قلعہ میں داخل ہونے کے لیے چار دروازے بنائے گئے۔جن میں مشرق کی جانب ملتانی دروازہ،مغربی جانب قندھاری دروازہ،جبکہ شمالی جانب پشاوری دروازہ اور جنوبی جانب بہاولپوری(ریا ستی دروازہ) شامل تھا۔ لیکن آج کل صرف دو دروازے مو جود ہیں۔ بعد میں مظفر خان کے نام سے ہی یہ علاقہ مظفر گڑھ مشہور ہوا، ملتان سے35 کلو میٹر کے فاصلے پر یہ اب ضلعی صدر مقام ہے۔8 فروری 1780کوجب تیمور شاہ درانی ملتان آیا تو مظفر خان نے اس کا شایان شان استقبال کیا اور کہا " اے آمدنت باعث آبادی ما " تو بادشاہ بہت خوش ہوا اور نواب کوایک بڑے دربار میں صفدر جنگ کا خطاب دیا۔ نواب مظفرخان سدو زئی نے ملتان اور مظفر گڑھ میں آبپاشی کے لیے نہری نظام قائم کیا۔مسافروں کے لیے سرائے تعمیر کروائیں۔مظفرگڑھ کا قلعہ تعمیر کروایا ،جو آج اندرون شہر کہلاتا ہے۔غریب طلبہ کے لیے وظائف مقرر کیے ۔

نواب مظفر خان سدوزئی کی ساری زندگی سکھوں سے لڑتے لڑتے گزر گئی۔سکھوں نے ملتان پر پہلا حملہ 1768میں کیا۔ پھر 1802-1804-1807—1812-1810-1817 تک ملتان متواترسکھوں کے حملوں کی زد میں رہا۔آخر کار سکھوں نے فروری 1818ء میں ملتان شہر کا محاصرہ کر لیا اورنواب مظفر خان سدوزئی نے بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے4 ماہ کی طویل جنگ کے بعد 2 جون1818کو اپنے بیٹوں،بیٹی اور رفقا کار کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا۔ اس مقصد کے لیے رنجیت سنگھ سکھوں کی ایک بڑی فوج لے کر ملتان آیا تھا۔اس وقت کے تاریخ دان لکھتے ہیں 2 جون کی دوپہرنواب مظفر خان نے ظہر کی نماز پڑھی اور سبز لباس زیب تن کیا۔اور اپنے چار لڑکوں شاہ نواز خان،اعزاز خان،شہبازخان،حق نواز خان،بیٹی صبیحہ اختر بھتیجے نصراللہ خان اور اقرباء و رفقا کار کے ہمراہ جنگ میں شامل ہو کر سکھوں سے لڑتے لڑتے شہادت کا رتبہ پایا-ملتان کے اس وقت کے ایک شاعر نے نواب مظفر خن سدوزئی کی بیٹی صبیحہ اخترکی جنگ میں شمولیت اور شہادت پراس طرح منظر کشی کی ہے۔ "او تاں گئی اے گھول گھمائی سارے خویش توں اس کوں حوراں مہندی لائی وچ رن دے" 1891ءمیں کلکتہ سے شائع ہونے والی کتاب "ارلی ہسٹری آف ملتان" کا مصنف سید لطیف لکھتا ہے کہ نواب مظفر خان کا مقبرہ بہاء الدین زکریا کے جنوبی داخلی دروازے کے سامنے ہے۔سبز رنگ کی چمک دار ٹائلوں سے مزین ہے۔مقبرے کے دروازے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اور فارسی میں یہ عبارت نقش ہے۔جس کا اردو میں ترجمہ کچھ یوں ہے۔ "بہادروں کا بہادر بیٹا حاجی سدوزئی مظفر-لڑائی کے دن اس نے عسکری قوت کے ساتھ بھرپورمقابلہ فتح و کامرانی کے لیے کیا،جب اس کا الفاظ(سننا) ختم ہوا-تو اس نے پکارا میں واقف ہوں آج نصرت کا دن ہے1233ھ یعنی 1818 عیسوی"- مشرقی دیواروں پر یہ کتبہ- " اس گلستان کا گنبد ایک پرانی دنیا کی طرف توجہ دلاتا ہے-عمارت سلیقہ مندی کا مظہر ہے-یہ نو سیاروں میں زحل کی حیثیت رکھتا ہے۔جب تاریخ کے حوالے سے میں نے دریافت کیا تو کہا: اس کی شاندار خوبصورتی- پیر محمد(مستری) نے کی...".

حوالہ جات[ترمیم]