نواب وقار الملک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نواب وقار الملک (24 مارچ 1841 میرٹھ تا 27 جنوری 1917ء) جنکا اصل نام مشتاق حسین زبیری تھا مسلم لیگ کے ابتدائی اراکین میں سے تھے جنھوں نے اس جماعت کی بنیاد رکھی تھی نیز وہ ایک معروف ریاضی دان سر ضیاء الدین احمد زبیری جو علی گڑھ تحریک کے سرخیل تھے کے ماموں بھی تھے۔ نیز وہ ایک مسلم مصلح، مترجم،معلم اور حیدرآباد کے سرکاری اہلکار تھے نیز انھیں سرسید کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

ابتدای زندگی[ترمیم]

مولوی مشتاق حسین کمبوہ زبیری24 مارچ 1841 ءکو بھارتی ریاست یو پی کے علاقے میرٹھ امروہا میں فضل حسین کمبوہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی۔ مولوی راحت علی امروہی سے عربی‘ حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد انجینئرنگ کی ڈگری انجینئرنگ کالج (Roorki) رورکی سے حاصل کی۔

سیاست کا عملی آغاز پچیس سال کی عمر میں تحریک علی گڑھ سے کیا۔ سرسید احمد خان کے بہت بڑے مداح تھے اور مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کرنے میں سرسید احمد کے ساتھ تھے۔ نواب وقار الملک کے بھانجے معروف ریاضی دان سر ضیاءالدین کمبوہ علی گڑھ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر تھے۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی کی سائنٹیفک سوسائٹی کے 1866 میں ممبر بنے۔ آپ نے مسلمانوں کیلئے مغربی تجربات اور مشاہدات سے فائدہ اٹھانے کے لئے فرانسیسی کتاب ”انقلاب فرانس اور نپولین“ کا اردو میںترجمہ کیا۔ آپ ایم اے او کالج کی فنڈ کمیٹی کے قائم ہونے کے وقت سے اس کے ممبر رہے اور سرسید احمد خان کی تحریک کو کامیاب و مشہور بنانے کیلئے دن رات کام کیا۔

آپ نے ایم اے او کالج کی تعمیر کیلئے چندہ مہم میں شبانہ روز کام کیا اور اس وقت ساڑھے سات لاکھ روپے کا خطیر چندہ اکٹھا کر کے فنڈ میں جمع کرایا۔ آپ بلا کے ذہین فطین تھے۔ 1870 میں مضمون نویسی میں دوسرا انعام حاصل کیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں سرفہرست تھے 30 دسمبر1906 کو نواب وقار الملک‘ سر آغا خان‘ سر شفیع آف لاہور اور نواب سلیم اﷲ خان آف ڈھاکہ نے مل کر ڈھاکہ میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پورے ہندوستان سے تین سو نمائندوں نے اس اجلاس میں شرکت کی اسی اجلاس میں نواب سلیم اﷲ خان نے آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے ایک جماعت قائم کرنے کی تجویز دی اور یہ اجلاس کی صدارت نواب وقار الملک نے کی اس کا مرکزی دفتر لکھن¶ میں قائم کیا گیا۔ سر آغا خان چھ نائب صدور‘ جنرل سیکرٹری اور معاون سیکرٹری کے ہمراہ تین سال کی مدت کیلئے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

نواب وقار الملک کمبوہ آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اسی ناطے سے آپ کو مسلم لیگ اور پاکستان کا باپ کہا جاتا ہے۔ مولانا محمد علی جوہر نے مسلم لیگ کا آئین لکھا جو گرین بک ”سبز کتاب“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔


نواب وقار الملک کمبوہ بڑے ہی نظم و ضبط کے پابند تھے دوران ملازمت آپ نے امور دفتری ایمانداری سے سرانجام دیئے۔ آپ نے ریاست حیدر آباد دکن میں سیکرٹری قانون کے طور پر فرائض ادا کئے۔ اس کے بعد نظام آف دکن کے حکم پر محکمہ مال کو جوائن کیا۔ آپ نے وزیراعظم حیدر آباد دکن کے سیکرٹری کے طور پر بھی کام کیا بعد میں ریاست حیدر آباد دکن کے نائب وزیراعظم بھی بنے۔ آپ نے سترہ سال تک اپنی خدمات سرانجام دیں بطور سیکرٹری قانون و مال پر کام کیا آخر کار پنشن لیکر باعزت طریقے سے ریٹائر ہو گئے اور ایم اے او کالج کو جوائن کر لیا اور آخردم تک اس کی تعمیر و ترقی میں صرف کر دی۔

نواب وقار الملک کمبوہ کا مذہب کی طرف میلان زیادہ تھا آپ کے خیال میں طالب علموں کو مذہب کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دینی چاہئیے۔ طلباءکو پنجگانہ نماز کی تلقین کرتے اور نگرانی کرتے۔ آپ نے یو پی میں تحصیلدار کے عہدے سے صرف اسی لئے استعفیٰ دیا کیونکہ آپ کا کلکٹر آپ کو ظہر کی نماز کے لئے وقت نہ دیتا تھا۔ آپ کی دین سے محبت کو مولانا اشرف علی تھانویؒ‘ مولانا عبدالباری و دیگر علماءکرام پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

آپ کی بااصول زندگی اور کھرے پن کی بنیاد پر آپ کو 1908 حکومت ہندوستان نے نواب کے لقب سے نوازا۔ ریاست حیدر آباد کن کے نظام نے آپ کو آپ کی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کی بنیاد پر آپ کو ”وقار الدولہ“ ”وقار الملک“ اور انتسار جنگ“ کے القابات سے نوازا جو آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہیں۔

نواب وقت الملک کمبوہ نے 1912 ءمیں علی گڑھ سیکرٹری شپ کی خرابی¿ صحت کی وجہ سے استعفیٰ دے ۔ آپ نے 75 سال کی عمر میں 27 جنوری 1917 کو اس دارفانی سے کوچ کیا۔

انھوں نے انجنیئرنگ کالج رورکی سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ وہ ریاست حیدرآباد میں مشیر قانون رہے پھر انھیں نظام کے حکم پر محکمہ مالیات میں تعینات کیا گیا۔ اس کے بعد وہ نواب بشیر دولہ کے معتمد ،مشیر کے عیٓہدے ہر رہے اس کے بعد وہ وہ حیدرآباد کے ڈپٹی وزیر اعظم بنے تھے۔

مسلم مصلح[ترمیم]

9 دسمبر 1890 میں انھیں نواب کا لقب دیا گیا۔ 1892 میں انھوں نے علیگڑھ میں شمولیت حاصل کی وہ سر سید کے قریبی چاہنے والوں میں سے تھے۔ انھوں نے ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ کیا وہ سائنٹفک سوسائٹی کے متحرک رکن تھے اور اس کے چندہ میں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔1907 میں وہ ایم اے او کالج کے اعزازی سیکیٹری بنائے گئے۔ ایک بار سرسید ان کے متعلق کہتے ہیں کہ " مجھے اس شخص کی ایمانداری پر اس قدر یقین ہے کہ جس قدر مجھے اپنی موت پر"۔