ضلع نواکھالی
| ضلع نواکھالی নোয়াখালী জেলা | |
|---|---|
| بنگلہ دیش کا ضلع | |
گھڑی وار اوپر سے دائیں طرف: بجرا شاہی مسجد، نلوا میاں باڑی جامع مسجد، نجھم دیپ، نواکھالی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا مرکزی کتب خانہ، رمضان میاں مسجد | |
بنگلہ دیش میں ضلع نواکھالی کا محل وقوع | |
![]() ضلع نواکھالی کا قابل توسیع نقشہ | |
| متناسقات: 22°42′N 91°06′E / 22.70°N 91.10°E | |
| ملک | |
| ڈویژن | چٹاگانگ ڈویژن |
| قیام | 1821ء |
| صدر مقام | مائجدی |
| حکومت | |
| • ڈپٹی کمنشنر | احمد قمر الحسن |
| رقبہ | |
| • کل | 3,685.87 کلومیٹر2 (1,423.12 میل مربع) |
| آبادی (2022ء)[1] | |
| • کل | 3,625,442 |
| • کثافت | 980/کلومیٹر2 (2,500/میل مربع) |
| نام آبادی | نواکھیلا |
| منطقۂ وقت | بنگلہ دیش معیاری وقت (UTC+06:00) |
| پِن | 3800 |
| ٹیلی فون کوڈ | 0321 |
| آیزو 3166 رمز | BD-47 |
| انسانی ترقیاتی اشاریہ (2022) | 0.661[2] متوسط · 22 میں سے 18واں |
| قابل ذکر کھیل کی ٹیمیں | NoFeL SC |
| ویب سائٹ | www.noakhali.gov.bd |
ضلع نواکھالی یا نواکھلی بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے، چٹاگانگ وِبھاگ کا ایک انتظامی علاقہ ہے۔[3][4] اس کا پرانا نام بھلوا تھا۔ آج کے بنگلہ دیش میں نواکھالی کو سب سے زیادہ خوش حال ضلع سمجھا جاتا ہے۔[5] تحصیلوں کی تعداد کے لحاظ سے نواکھالی بنگلہ دیش کا ”اے“ درجہ کا ضلع ہے۔[6] نواکھالی بنگلہ دیش کا واحد ضلع ہے جس کے نام پر کوئی شہر موجود نہیں۔
رقبہ اور محلِ وقوع
[ترمیم]نواکھالی ضلع کا کل رقبہ 3،685.87 مربع کلومیٹر (1،423.12 مربع میل) ہے۔[4][7] بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی حصے میں 22°07' سے 23°08' شمالی عرض البلد اور 90°53' سے 91°27' مشرقی طول البلد کے درمیان ضلع نواکھالی واقع ہے۔[4] دار الحکومت ڈھاکہ سے اس ضلع کا فاصلہ تقریباً 160 کلومیٹر ہے اور چٹاگانگ وبھاگ کے صدر مقام سے تقریباً 135 کلومیٹر۔ اس ضلع کے شمال میں کومیلا کُمِلّا اور چاندپور اضلاع، جنوب میں دریائے میگھنا اور خلیج بنگال، مشرق میں چٹاگانگ اور فینی اضلاع اور مغرب میں لکشمی پور اور بھولا اضلاع واقع ہیں۔
تاریخ
[ترمیم]قیام
[ترمیم]موجودہ نواکھالی ضلع پہلے فینی، لکشمی اور خود نواکھالی پر مشتمل ایک بڑا خطہ تھا جسے آج بھی ”بڑا نواکھالی“ (বৃহত্তর নোয়াখালী) کہا جاتا ہے۔
نواکھالی کو ضلع کا درجہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اس ابتدائی دور میں ملا جب برصغیر میں جدید ضلع انتظامیہ کے نظام کی آزمائش کی جا رہی تھی۔ ضلع نظام کے نفاذ سے قبل یہ خطہ موجودہ کُمِلّا، نواکھالی، فینی، برہمن باڑیا، چاندپور اور لکشمی پور کے مجموعے سمتٹ علاقے کا حصہ تھا۔ 1772ء میں کمپنی کے گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے برصغیر میں پہلی بار جدید ضلع انتظام کا آغاز کیا۔ انھوں نے آج کے بنگلہ دیش کو 19 اضلاع میں تقسیم کیا اور ہر ضلع میں ایک کلکٹر مقرر کیا۔ ان 19 میں سے ایک ضلع ”کلِنڈا“ تھا جو زیادہ تر نواکھالی کے علاقے پر مشتمل تھا۔ 1773ء میں ضلع نظام ختم کر دیا گیا اور اضلاع کو صوبائی دفاتر کے ماتحت کر دیا گیا۔ بعد ازاں 1787ء میں دوبارہ ضلع نظام قائم ہوا اور موجودہ بنگلہ دیش کو 14 اضلاع میں تقسیم کیا گیا۔ ان 14 میں سے ایک ”بُھلُوا“ ضلع تھا جو نواکھالی کے علاقے میں قائم ہوا۔ 1792ء میں تریپورہ (موجودہ کُمِلّا) کے نام سے ایک نیا ضلع قائم کیا گیا اور بھلوا کو اس میں شامل کر دیا گیا۔ اس وقت نواکھالی کا مرکزی خطہ، لکشمی پور، فینی اور چٹاگانگ کا سندویپ ”بھلوا پرگنہ“ میں شامل تھے، سوائے ہاتیا ذیلی ضلع کے جو الگ تھا۔ 1821ء تک بھلوا (موجودہ نواکھالی) تریپورہ ضلع کا حصہ رہا۔ بعد ازاں 1821ء میں بھلوا کے نام سے ایک مستقل ضلع قائم کرکے اسے تریپورہ سے الگ کر دیا گیا۔ 1868ء میں بھلوا ضلع کا نام بدل کر ”نواکھالی ضلع“ رکھا گیا۔
وجہ تسمیہ
[ترمیم]نواکھالی کا قدیم نام ’بھلوا‘ تھا۔ نواکھالی صدر تھانے کا پرانا نام ’سدھارام‘ تھا۔ مؤرخین کے مطابق کبھی تریپورہ کے پہاڑوں سے بہنے والی ڈاکاتیا ندی نے بھلوا کے شمال مشرقی حصے کو تباہ کن سیلاب میں ڈبو دیا جس سے کھیتی باڑی کو بہت نقصان پہنچا۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے 1660ء میں ایک بڑا نالہ کھودا گیا جو ڈاکاتیا ندی کے پانی کو رام گنج، سونائی موری اور چومہنی سے ہوتے ہوئے میگھنا اور فینی دریاؤں کی طرف لے جاتا تھا۔ مقامی زبان میں اس نئے نالے کو ’نوا کھال‘ (نیا کھالا) کہا جانے لگا۔ وقت کے ساتھ یہی نام بدل کر ’’نواکھالی‘‘ کی صورت اختیار کر گیا۔[8]
عمومی تاریخ
[ترمیم]نواکھالی کی تاریخ میں دو اہم عوامی تحریکیں نمایاں ہیں: 1830ء کی وہابی تحریک اور 1920ء کی خلافت تحریک میں یہاں کے عوام کی سرگرم شرکت۔ 1946ء میں برصغیر کے مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ اسی سلسلے میں نواکھالی کے ہندو باشندوں پر بھی سنگین حملے ہوئے جسے نواکھالی فسادات کہا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد مہاتما گاندھی حالات کا جائزہ لینے نواکھالی آئے۔ آج سونائی موری کے جویگا علاقے میں ان کے نام سے گاندھی آشرم موجود ہے۔
نواکھالی، لکشمی پور اور فینی کے تینوں سب ڈویژن مل کر ایک بڑا ضلع تھے جو چٹاگانگ وبھاگ (ڈویژن) کے تحت چل رہا تھا۔ 1984ء میں حکومتی فیصلے کے مطابق جب تمام سب ڈویژن اضلاع میں بدلے گئے تو لکشمی پور اور فینی الگ اضلاع بنا دیے گئے۔ یوں صرف نواکھالی سب ڈویژن پر مشتمل نواکھالی ضلع دوبارہ تشکیل پایا۔ اس وقت ضلع میں چھ تحصیلیں تھیں، بعد میں تین مزید تحصیلیں قائم کی گئیں۔ ہاتیا کا کچھ حصہ ضلع کے ساتھ جڑا ہوا ہے مگر اس کا بڑا حصہ میگھنا کی گھیرابندی میں ایک الگ جزیرہ ہے۔[8]
نواکھالی شہر
[ترمیم]نواکھ!لی بنگلہ دیش کا واحد ضلع ہے جس کے نام پر کوئی شہر نہیں۔ ضلع کا مرکزی شہر مائجدی کہلاتا ہے۔ 1948ء میں جب پرانا ضلع ہیڈکوارٹر میگھنا میں ڈوب گیا تو اسے آٹھ کلومیٹر شمال کی طرف منتقل کیا گیا اور 1950ء میں عارضی طور پر مائجدی میں قائم کیا گیا۔ برطانوی دور میں اس نئے شہر کی باقاعدہ منصوبہ بندی ہوئی۔ پرانے شہر کے ڈوبنے پر سرکاری دفاتر اور عدالتیں یہاں کھلے میدانوں اور دھان کے کھیتوں میں منتقل کی گئیں۔ 1953ء میں کالیتارا، سوناپور اور مائجدی کے علاقوں کو شامل کر کے نواکھالی میونسپلٹی کا اعلان کیا گیا۔ شہر کے بیچ میں تقریباً سولہ ایکڑ پر ایک بڑی دِگِہی کھودی گئی جسے ’’بڑو ڈِگھی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے گرد چکر نما سڑک اور سرکاری دفتری عمارتیں بنائی گئیں۔ پانی کی فراہمی بھی اسی دِگھی سے ہوتی تھی۔ مائجدی کو مستقل طور پر ضلع ہیڈکوارٹر کا درجہ 1962ء میں ملا۔
چومُہنی نواکھالی کا دوسرا بڑا مصروف شہر اور تجارتی مرکز ہے جو کبھی طباعت و اشاعت کا اہم گڑھ تھا۔
جنگِ آزادی کے واقعات
[ترمیم]22 اپریل 1971ء کو پاکستانی فوج نواکھالی صدر میں داخل ہوئی۔ 11 مئی کو انھوں نے ہاتیا پر حملہ کیا۔ افاجیا بازار میں 6 اور وچھکالی بازار میں 2 افراد کو قتل کیا۔ 15 جون کو سوناپور کے احمدیہ ہائی اسکول میں پاکستانی فوج سے لڑائی میں 70 مجاہدین مارے گئے۔ 18 جون کو شریپور گاؤں میں 70 بے گناہ دیہاتیوں کو قتل کیا گیا۔ 2 جولائی کو مجاہدین نے بگم گنج کے چاندرا گنج اسکول کے راکاعار کیمپ پر حملہ کیا۔ 19 اگست کو گوپال پور یونین کے نويہاٹ بازار میں درجنوں افراد کو قتل کیا گیا۔ 4 ستمبر کو کمپنی گنج میں سلیس گیٹ کے قریب لڑائی میں 6 مجاہدین مارے گئے۔ اس کے بعد مختلف چھوٹی جھڑپوں میں مزید کئی مجاہدین قتل ہوئے۔[4] نواکھالی ضلع 7 دسمبر 1971 کو آزاد ہوا۔
محمد روح الامین (1935ء–10 دسمبر 1971ء)، جو نواکھالی کے باسی تھے، جنگ آزادی کے شہید مجاہد اور بنگلہ دیش کے سات ’بیر شریشٹھوں‘ میں سے ایک ہیں۔ وہ سونائی موری کے باگ پانچڑا گاؤں میں پیدا ہوئے۔ مارچ 1971ء میں چٹاگانگ بحریہ سے نکل کر تریپورہ پہنچے اور سیکٹر 2 میں شامل ہو گئے، جہاں انھوں نے دلیری سے جنگ میں حصہ لیا۔
- جنگ آزادی کی یادگاریں
- گونو قبُر (اجتماعی قبر): 1 (کمپنی گنج کے 14 نمبر سلیس گیٹ کے پاس)
- سمْرتی ستمبھ (یادگاریں): 3 (چومہنی، سونائی موری سوناپور اور پی ٹی آئی گراؤنڈ ضلع ہیڈکوارٹر)
- بدھیہ بھومی: 1 (کبیر ہاٹ ہائی اسکول کے پاس والی جگہ)[4]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑
- ↑ ""Sub-national HDI - Area Database"". Global Data LaB (بزبان انگریزی). Retrieved 2020-03-18.
- ↑ এনসাইক্লোপিডিয়া অফ ব্রিটানিকা
- ^ ا ب پ ت ٹ Sirajul Islam; Sajahan Miah; Mahfuza Khanam; Sabbir Ahmed, eds. (2012). "Noakhali District". Banglapedia: the National Encyclopedia of Bangladesh (بزبان انگریزی) (Online ed.). Dhaka, Bangladesh: Banglapedia Trust, Asiatic Society of Bangladesh. ISBN:984-32-0576-6. OCLC:52727562. OL:30677644M. Retrieved 2026-02-11.
- ↑ "দেশের সবচেয়ে ধনী জেলা নোয়াখালী". RTV (بزبان بنگالی). 29 Jan 2025.
- ↑ "জেলাগুলোর শ্রেণি হালনাগাদ করেছে সরকার" (بزبان بنگالی). বাংলানিউজ২৪. 17 Aug 2020. Retrieved 2025-11-21.
- ↑ "সংরক্ষণাগারভুক্ত অনুলিপি" (بزبان بنگالی). Archived from the original on 2018-09-26. Retrieved 2018-10-05.
- ^ ا ب "সংরক্ষণাগারভুক্ত অনুলিপি" (بزبان بنگالی). Archived from the original on 2018-09-26. Retrieved 2018-10-05.
