نورانی قاعدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نورانی قاعدہ قرآن مجید کو سیکھنے سکھانے کے لیے جو قاعدے مرتب کیے گئے ہیں، ان سب میں نہایت مقبول و معروف کتابچہ ہے جس کے مصنف نور محمد حقانی ہیں اور مجلس دعوۃ الحق ہردوئی نے اسے از سر نو مرتب کرکے شائع کیا ہے۔ اس قاعدہ کو اس انداز پر لکھا گیا ہے کہ قرآن کو تجوید کے ساتھ پڑھنا سہل ہوجائے۔ نورانی قاعدہ 17 تختیوں پر مشتمل ہے؛ جن میں حروف تہجی، مفردات اور مرکبات کے تمام بنیادی اصول شامل ہیں۔ بھارت میں اس کی افادیت و مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ دار العلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، دار العلوم ندوۃ العلماء اور مجلس دعوۃ الحق ہردوئی جیسے بڑے مذہبی تعلیمی ادارے اور اس کے تمام ملحقہ مدارس میں یہی قاعدہ طلبہ کے درمیان میں رائج ہے۔

مصنف[ترمیم]

نورانی قاعدہ کے مصنف نور محمد حقانی ابن علی محمد لدھیانوی ہیں۔ ان کی پیدائش شہر لدھیانہ صوبہ پنجاب میں 1272ھ مطابق 1857ء میں ہوئی۔ کانپور و لکھنو میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد احمد علی سہارنپوری اور مظہر علی نانوتوی سے حدیث پڑھ کر درسیات کی تکمیل کی۔ وہ عبد الرحیم سہارنپوری کے خلیفہ مجاز بھی تھے، اس مناسبت سے عبد الرحیم رائے پوری ان کے پیر بھائی تھے۔ ایک اخبار جاری کیا جس کا نام ‘‘نور علی نور’’ رکھا، نیز ایک چھاپہ خانہ کی بنیاد رکھی جس کا نام مطبع حقانی تجویز کیا تھا۔ وطن میں اپنے والد کے قائم کردہ مدرسہ البنات کی باگ ڈور سنبھالی اور مدرسہ کی تجدید کرتے ہوئے انھوں نے اس کا نام بدل کر‘‘مدرسہ حقانیہ’’ رکھا جو تعلیم قرآن، تربیت اور افراد سازی میں مثالی نمونہ تھا۔ اس کی مقبولیت اس طرح ہوئی کہ اشرف علی تھانوی اور عبد الرحیم رائے پوری نے اپنے متعلقین کو اسی نظام اور قاعدہ کو اپنے یہاں رائج کرنے کا پابند کیا۔

تقسیم ہند کے بعد اس مدرسہ کو لائل پور فیصل آباد منتقل کر دیا گیا اور اب بھی وہاں تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔

نور محمد حقانی کا انتقال 1343 ہجری مطابق 1925 عیسوی میں ہوا۔[1]

ترتیب جدید[ترمیم]

نورانی قاعدہ بہت نافع تھا لیکن مشقیں اجمالی تھیں۔ ایک ہی زمین پر متعدد امور کی مشق درج تھی، اس کے علاوہ مزید ضروری قواعد و فوائد کے اضافہ کے ساتھ اسے محمد ابرار الحق حقی نے مرتب کیا۔ اضافوں کے بعد اس کی کل 28 تختیاں ہوگئیں اور چونکہ یہ ترمیم و اضافہ جدید طرز اور بچوں کی نفسیات سے ہم آہنگ اور قریب تر تھا، اس لیے اب پورے ہندوستان میں انہی کا مرتب کردہ نورانی قاعدہ رائج ہے۔[2]

عربی ترجمے[ترمیم]

نورانی قاعدہ کو دیگر عالمی اور زندہ زبانوں میں بھی منتقل کیا گیا اور مزید کام جاری ہے۔ اب تک اسے دو لوگوں نے معمولی فرق کے ساتھ عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ پہلا عربی ترجمہ "قاعدۃ النور" کے نام سے 1415ھ میں مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاد سعید احمد عنایت اللہ نے کیا جو مکتبہ امدادیہ مکہ سے شائع ہوا، اس کے اب تک متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

دوسرا عربی ترجمہ "القاعدۃ النورانیۃ" کے نام سے محمد فاروق الراعی نے کیا ہے جو مصنف کے نواسے لگتے ہیں یہ پہلی بار 1419ھ میں مجموعۃ الفرقان للتعلیم سے طبع ہوا، اس کے بھی اب تک متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔[3]

انگریزی ترجمہ[ترمیم]

ادارہ اشاعت دینیات دہلی نے اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا ہے، جس سے انگریزی خواں طبقہ کو بہت سہولت ہو گئی۔

بریل کوڈ[ترمیم]

بھارت کے شہر چینائی میں ایک تنظیم نے اسے بریل کوڈ میں بھی شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ تمل، گجراتی اور بنگلہ زبانوں میں بھی اس کے تراجم ہو چکے ہیں۔

شروح[ترمیم]

طلبہ کو نورانی قاعدہ پڑھانے میں مدد و سہولت کے لیے خود مولف نے ایک کتاب تحریر کی تھی جس کا نام "نورانی قاعدہ مع طریقہ" تعلیم رکھا۔ علاوہ ازیں "طریقہ تعلیم" کے نام سے محمد بلال میرٹھی نے ایک کتاب لکھی ہے جو اسے پڑھنے پڑھانے والوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ نیز محمد عبد القادر جیلانی نے بھی ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام "نورانی قاعدہ کیسے پڑھیں اور پڑھائیں" ہے، یہ کتاب مکتبہ صدیقیہ رائے ونڈ لاہور سے شائع ہوئی ہے [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نورانی قاعدہ، دار الفکر، اردو بازار، لاہور
  2. نورانی قاعدہ، طبع مکتبہ اشرفیہ ہردوئی، یوپی، ہند
  3. كتاب القاعدة النورانية ملون جديد : Free Download, Borrow, and Streaming : Internet Archive
  4. ۔http://www.elmedeen.com/read-book-4277