نوروز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Nowruz
نوروز
White house haft seen.jpg
Haft-Seen, قصر سفید ceremony for Nowruz, 2008
عرفیت Also spelled Nourooz, Nouruz, Norouz, Norooz, Narooz, Nauruz, Nawroz, Noruz, Nohrooz, Novruz, Nauroz, Navroz, Naw-Rúz, Nowroj, Navroj, Nevruz, Newroz, Navruz, Navrez, Nooruz, Nauryz, Nevruz, Nowrouz, Наврӯз, ნავრუზი (Georgian), नवरेह (Kashmiri), નવરોઝ (Parsi Gujarati), नौरोज़ (Hindi)
منانے والے Flag of Iran.svg ایران
Flag of Afghanistan.svg افغانستان[1]
Flag of India.svg بھارت[2]
Flag of Kurdistan.svg عراقی کردستان
Flag of Armenia.svg آرمینیا[3]
Flag of Azerbaijan.svg آذربائیجان[4]
Flag of Georgia.svg جارجیا[5]
Flag of Iraq.svg عراق[6]
Flag of Kazakhstan.svg قازقستان[7]
Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of Kyrgyzstan.svg کرغیزستان[7]
Flag of Russia.svg روس[8]
Flag of Syria.svg سوریہ[9]
Flag of Tajikistan.svg تاجکستان[10]
Flag of Turkey.svg ترکی[11]
Flag of Turkmenistan.svg ترکمانستان[12]
Flag of Uzbekistan.svg ازبکستان
Ethnic and religious groups worldwide: Kurdish diaspora
Zoroastrians, Sufis, Ismailis, علوی شیعہs, Alawites, Babis, Bahá'ís and the Iranian diaspora and افغان مہاجرین. Also observed unofficially in Bosnia, قفقاز, جزیرہ نما کریمیا, بھارت,[13][14] Macedonia,[13][15] سربیا, and among Uyghurs and Salars of چین.
اہمیت نئے سال کا جشن
تقاریب The Haftsin setting, Chahârshanbe Sûrî, Sizdah Bedar, etc.
تاریخ March 19, 20, 21 or 22
دورانیہ ایک روز
تکرار مخاتم
NOWROUZiran

ایک قدیم ایرانی تہوار ہے جو آج بھی بکثرت منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار ایرانی مہنہ فروردینکے پہلے دن منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کی بنیاد حالانکہ پارسی مذہب پر مبنی ہے تاہم اسے کہیں مسلم ممالک میں اب بھی منایا جاتا ہے۔ نئے شمسی سال اور تیرہ سو ترانوے سال کے آغاز کی مناسبت سے تبریک وتہنیت عرض کرتے ہوئے نئے سال اور عید نوروز کے پہلے دن ہم آپ سے اس کی تاریخ اور اسے وجود میں لانے اور اب تک اسے باقی رکھنے میں جن لوگوں نے مدد کی ہے گفتگو کریں گے اور اس قدیم اور ایرانی جشن اور تہوار کے بارے میں جو نہ صرف کئی صدیوں سے ایران میں منایا جاتاہے بلکہ اس کے علل واسباب کی وجہ سے یہ جشن دوسرے ملکوں میں بھی منایاجاتاہے ۔

ممکن ہے موسم بہار کے آغاز کا جشن ارو اس موقع پر شہروں سے لوگوں کے باہر نکل جانے اور اجتماع کی روایت ایران کے کسانوں کی ہے اس لئے ایران کے کسان گذشتہ صدیوں سے اس طرح کا جشن منعقد کرکے بعض عقا‏ئد جیسے حلول بہار کو باطل پر کامیابی کی تشبیہ دے کر اس جشن میں شامل کردیا اور اسے ممکل طورپر ایرانی جشن میں تبدیل کردیا ۔ قدیم زمانے سے یہ عوامی جشن غیر سیاسی ہونے کی وجہ سے ایک عام عوامی جشن میں تبدیل ہوگیا اور آہشتہ آہستہ ایسے جشن میں تبدیل ہوگیا کہ حکومتوں نے بھی رسمی تقریب کے طورپراس جشن کو منتخب کرلیا ہے ۔

ایران کے معروف دانشور ، ریاضی داں اور منجم ابو ریحانی کے نزدیک نوروز خلقت کی پیدائش کا جشن ہے اور ایسا دن ہے جو لوگوں کو ا س بات پر تیار کرتاہے کہ اپنی پرانی چیزوں کو نئی چیزوں میں تبدیل کرکے خود کو آراستہ اور اپنی روح کو تازگی عطاکرے ۔ نوروز اکیس مارچ مطابق یکم فروردین یعنی نئے سال کے آغاز جشن کا دن ہے جو بہت ہی قدیم چشن شمار ہوتاہے ، نئے سال کی تحویل اور بہار کے معتدل لمحات کے ساتھ جشن نوروز کا آغاز ہوتاہے ۔

نوروزکی تاریخ پیدایش اور سرچشمے کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں لیکن تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ایران میں جشن نوروز پانچ سو اڑتیس برس قبل مسیح  یعنی حکومت کورش اورہخامنشی بادشاہ کے زمانے میں رائج تھا  انھوں نے باقاعدہ  طورپر اس کو قومی جشن قراردیا اوراس دن  وہ فوجیوں کی ترقی، پبلک مقامات، ذاتی گھروں کی پاک  سازی  اورمجرمین کو معاف کرنے کے سلسلے میں پروگرام اور تقریبات کا اہمتام  کرتے تھے ۔  ہخامنشی بادشاہ داریوش یکم کے زمانے مین تخت جمشید میں نوروز کی  تقریب منعقد ہوتی تھی اور یہاں کے پتھروں پر لکھی ہوئی تحریروں سے پتہ چلتاہے کہ ہخامنشیوں کے دور میں لوگ نوروز کا جشن بڑے اہمتام  کے ساتھ مناتے تھے اور پرشکوہ اجتماعات ہوتے تھے ۔ ثبوت وشواہد سے پتہ چلتاہے کہ  دیریوش اول نےقبل مسیح چودہ سو سولہ میں نوروز کی مناسبت  سے سونے کا سکہ بنایا اور سکہ کے ایک طرف  تیر چلاتے ہوئے ایک فوجی کی تصویر بنائی  گئی ہے ۔
اشکانیان اور ساسانیان کے دور میں بھی نوروز کا جشن منایاجاتاتھا اور ایرانیوں کا اہم ترین سالانہ جشن شمار ہوتا ہے  ، ساسانیان کے دور میں  عید نوروز کا جشن کئی دن تک منایاجاتا تھا اور دو دوروں یعنی چھوٹے اور بڑے نوروز میں تقسیم ہوجاتا تھا ۔

ایران میں اسلام کے آنے ،ایرانیوں کے مسلمان ہونے اور ساسانیوں اور آل بویہ کے برسر اقتدار آنے کے بعدعید نوروز بڑے اہمتام اور وسیع پیمانے پر منایا جانے لگا۔ سلجوقیوں کے دور میں ایرانی منجمین کے ماہرین کی ایک تعداد منجملہ خیام ، گاہشمار ایرانی کلنڈر کی تدوین اور قدیمی گاہشمارکلنڈر کی اصلاح کے لئےجمع ہوئے ۔ منجمین کے ماہرین نے نوروزکو بہار کا پہلا دن اور فروردین کی پہلی تاریخ قرار دیا اور کلنڈر کو اس کے مطابق مرتب اور منظم کیا ۔ گاہشمار کے مطابق جو جلالی کلنڈر کے نام سے معروف ہے نوروز کو بہار کے آغاز میں ثابت رکھنے کے لئے یہ طے ہوا کہ ہر چار برس میں ایک بار سال کے دنوں کو تین سے پینسٹھ کے بجائے تین سو چھیاسٹھ دن معین کئے جائیں ۔ البتہ گاہشمار جلالی کلنڈر تحریک مشروطہ سے پہلے تقریبا ایک صدی قبل باقاعدہ رائج نہیں تھا بعد میں مبدا، ناموں اورمہینوں میں تبدیلی کے بعد بارہ سو نواسی ہجری شمسی میں کلنڈر کی شکل میں رائج ہوگیا ۔

جلالی کلنڈر عرفی سال کو فطری سال کے ساتھ تطبیق کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔اور نہ صرف نوروز بہار کے اول میں یا منجمین کی اصطلاح میں بہار نقطہ اعتدال میں قرار پایا  ہے بلکہ تام عرفی موسم حقیقی موسم کے ساتھ منطبق ہوگئے ۔

یہ بات دلچسپ ہےکہ جس سال کا جلالی کلنڈر کے ساتھ حساب کیاجاتاہےعیسوی سال کے برخلاف ہر دس ہزار برس میں اس میں اور حقیقی سال کے درمیان تقریبا تین دن کا فرق ہوجاتاہے ۔ لیکن ہمیشہ حقیقی سال کے مطابقہ ہوتاہے اور کبھی بھی اس سے پیچھے نہیں رہتاہے ۔اسی لئے جلالی کلنڈرمیں عیسوی سال ثابت نہیں نہیں فقط سالانہ رصد کی بنیاد پر معین ہوتے ہیں۔

ان روایات اور تاریخی دستاویزات کے علاوہ نوروز اور اس کی تاریخ کے بارے میں افسانوی کہانیاں بھی ہیں جو ایران کی بعض قدیمی کتابوں منجملہ شاہنامہ فردوسی اور تاریخ طبری میں موجود ہیں ۔ ان کتابوں میں جمشید اور گاہ کیومرث کو نوروز کے بانیوں کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے ۔ حکوت جمشید کے دور کو طلائی دور کے نام سے یا کیا گیا ہے کہ جس میں تمام نعمتیں موجود تھیں اور لوگ خوش حال اوررفاہ میں تھے ۔شاہنامہ میں آیا اہےکہ جمشید آذربائجان سے گذرتے وقت حکم دیا کہ اس کے لئے وہاں ایک تخت رکھا جائے اور خود اپنے سر پر ایک زرین تاج رکھکر ا سپر بیٹھ گئے اور سورج کی کرنیں جب اس پر پڑیں تو دنیا نورانی ہوگئی اور لوگوں نے خوش ہوکر جشن منایا اوراس دن کا نام نو روز یعنی روز نو رکھدیا ۔


نوروز کے بارے میں نوروز نامہ معتبر ترین کتاب ہے جسے حکیم عمر خیام نیشا بوری نے سن چار سواسی  شمسی مطابق گیارہ سو ایک عیسوی میں لکھا ہے ۔  یہ کتاب جشن روز کی پیدائش اور اس کے آداب ورسوم  کے بارے میں ہےاوراس میں  نوروز سے متعلق تاریخی اور افسانوی واقعات کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔

خیام نے نورز نامہ میں نوروز کو موضوع قرار دے کر جو ایران کا قومی جشن ہے خداوند متعال کی حمد وستایش کے بعدلکھا ہے کہ میں نے اپنے ایک دوست کی خواہش پر اسے لکھا ہے ۔اس میں لکھا ہے کہ جمشید نے اس کا نام نوروز رکھااور جشن منایا ۔ اس کے بعص دوسرے بادشاہوں اور لوگوں نے ان کی پیروی کی ۔

چنانچہ ہم کہہ چکے ہیں نوروز کا نام خیام کے نام سے جڑا ہوا ہے باوجود اس کے کہ وہ ایک دانشور اور فلسفی تھے انھوں نے اپنے اشعار میں دنیا کی گردش پرتوجہ دی ہے اور اسے اپنابنیادی نظر یہ قراردیا ہے ۔درحقیقت وہ ایسے شخص ہیں جنوں نے اس گردش کو دیکھا ہے اور اسے محسوس کیا ہے انھوں نے سال سال اور مہینوں کی آمد ، انسان کے بوڑھے ہونے اور زمانے کے گذرنے اور فانی ہونے کو مکمل طور پر درک کیا ہے ۔ اسی لئے خیام نے زندگی اور نوروز کے بہار کے بارے میں جو اشعار کہے ہیں ان میں اور دوسروں کے اشعار میں بنیادی فرق پایاجاتا ہے ۔ انھوں نے موت وزندگی کے بارے میں فلسفیانہ اور عمیق رباعیات کہی ہیں ایسی رباعیات وہ شخص کہہ سکتا ہے جس نے دنیا کے بارے میں بہت دقیق اور باریکیوں کے ساتھ غور وفکر کی ہے ۔ اسی لئے ہر سال کی آمد پر خیام کی یاد آتی ہے جنھوں نے دنیا کا دقیق ترین کلنڈر مرتب کیا اورہمیں خوبصورت ترین اشعار تحفے میں دئیے اور نوروز کی تاریخ بھی لکھ دی تاکہ ان کے بعد کی نسلیں جب نوروز کا جشن منائيں تو وہ افتخار کے ساتھ نوروز کے پرشکوہ اور قدیم جشن کو یاد کرسکیں ۔

اعتراض[ترمیم]

مسلم علماء کے ایک طبقے نے اس جشن میں مسلمانوں کے شامل ہونے کو غلط اور ممنوع قرار دیا ہے۔[16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Cite error: حوالہ بنام Goodsell کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  2. "Nowruz observed in Indian Subcontinent". www.iranicaonline.org. اخذ کردہ بتاریخ 29 December 2013. 
  3. Armenian News-NEWS.am, "Armenian President congratulates Kurds on Novruz", March 21, 2011. Accessed via online: [1] at March 22, 2011
  4. Cite error: حوالہ بنام azerbaijan کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  5. "Nowruz Declared as National Holiday in Georgia". civil.ge. 21 March 2010. http://www.civil.ge/eng/article.php?id=22108۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 March 2013. 
  6. "20 March 2012 United Nations Marking the Day of Nawroz". Ministry of Foreign Affairs (Iraq). اخذ کردہ بتاریخ 18 April 2012. 
  7. ^ 7.0 7.1 Cite error: حوالہ بنام stan کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  8. "Россия празднует Навруз [Russia celebrates Nowruz]" (Russian میں). Golos Rossii. 21 March 2012. http://rus.ruvr.ru/2012_03_21/69129482/۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 March 2013. 
  9. "Arabs, Kurds to Celebrate Nowruz as National Day". اخذ کردہ بتاریخ 11 March 2013. 
  10. Cite error: حوالہ بنام tajikistan کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  11. Emma Sinclair-Webb, Human Rights Watch (Organization), "Turkey, Closing ranks against accountability", Human Rights Watch, 2008. "The traditional Nowrouz/Nowrooz celebrations, mainly celebrated by the Kurdish population in the Kurdistan Region in Iraq, and other parts of Kurdistan in Turkey, Iran, Syria and Armenia and taking place around March 21"
  12. "General Information of Turkmenistan". sitara.com. اخذ کردہ بتاریخ 26 December 2012. 
  13. ^ 13.0 13.1 "Nowruz celebrations". Euronews.com. 2013-03-20. اخذ کردہ بتاریخ 2013-03-27. 
  14. Persian Cultural Roots, Jacelyn Michael, Celebrating Nowrus, ed. Paul Beran and B. Summer Hughes, [2], 3.
  15. Persian Cultural Roots, Jacelyn Michael, Celebrating Nowrus, 3.
  16. http://afghanpaper.com/nbody.php?id=91331