نور عالم خلیل امینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نور عالم خلیل امینی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1952  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مظفرپور، بہار، بھارت
وفات 3 مئی 2021 (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیوبند  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مزار قاسمی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی دارالعلوم مئو، دار العلوم دیوبند، مدرسہ امینیہ، شاہ سعود یونیورسٹی
استاذ سید محمد میاں دیوبندی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص محمد نجیب قاسمی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی،  اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں فلسطین في انتظار صلاح دین، پسِ مَرگ زندہ، وہ کوہ کَن کی بات
P literature.svg باب ادب

نور عالم خلیل امینی ( 18 دسمبر 1952 – 3 مئی 2021 ) ایک بھارتی مسلمان عالم اور عربی و اردو زبان کے مایۂ ناز ادیب تھے۔[3] وہ دار العلوم دیوبند میں عربی ادب کے استاذ تھے۔ ان کی کتاب فلسطین فی انتظار صلاح دین پر آسام یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا گیا ہے۔ مولانا امینی عربی زبان کے مصنف تھے اور ان کی کتاب مفتاح العربیہ مختلف مدارس میں درس نظامی کے نصاب میں شامل ہے۔

1952 میں پیدا ہوئے ۔ مولانا امینی کی تعلیم دارالعلوم مئو ، دار العلوم دیوبند ، مدرسہ امینیہ اور شاہ سعود یونیورسٹی سے ہوئی۔ ان کی تصانیف میں وہ کوہ کَن کی بات ، حرفِ شیریں ، مفتاح العربیہ اور فلسطین في انتظار صلاح دین شامل ہیں۔ ان کی وفات 3 مئی 2021 کو دیوبند میں ہوئی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

امینی 18 دسمبر 1952 کو مظفرپور، بہار میں پیدا ہوئے تھے۔[4] ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ امدادیہ دربھنگہ، دارالعلوم مئو اور دار العلوم دیوبند میں ہوئی۔ 1970 میں مولانا نے درس نظامی کی تکمیل کے لیے مدرسہ امینیہ میں داخلہ لیا۔ ان کے اساتذہ میں عبد الحق اعظمی، وحید الزماں کیرانوی اور محمد میاں دیوبندی شامل ہیں۔[5][2] انھوں نے شاہ سعود یونیورسٹی سے عربی زبان میں تخصص کیا[6]

خدماتی زندگی[ترمیم]

امینی 1972 سے 1982 تک دس سال ندوۃ العلماء لکھنؤ میں عربی ادب کی تدریس میں مشغول رہے۔[4] بعد میں انھوں نے دار العلوم دیوبند میں 39 سال کے عرصۂ دراز تک تدریسی خدمات انجام دیے۔[5]امینی سالہا سال عربی ماہانہ "الداعی" کے مدیرِ اعلیٰ رہے۔[7][8] 2017 میں انھیں "صدارتی سرٹیفکیٹ آف آنر" (Presidential Certificate of Honour) کے اعزاز سے نوازا گیا۔[9]محمد نجیب قاسمی سمیت ان کے تلامذہ کی تعداد 1000 سے زیادہ ہے۔[7][4]

امینی عربی و اردو زبان کے مصنف تھے۔ انھوں نے دونوں زبانوں میں بڑے پیمانہ پر تحریری کام انجام دیا اور اردو سے عربی میں تقریباً 25 کتابوں کا ترجمہ کیا۔[4] انھوں نے عربی زبان میں 500 سے زیادہ مضامین لکھے ، جو قومی و بین الاقوامی رسالوں میں شائع ہوئے ، جن میں دار العلوم دیوبند کے رسالوں ("ماہنامہ دار العلوم"؛ ا"لداعی") کے علاوہ؛ الفیصل ، الجزیرہ ، "الدعوہ" ریاض اور لکھنؤ کے البعث الاسلامی ، تعمیرِ حیات اور الفرقان جیسے ہندوستانی رسائل شامل ہیں۔[6] جن کتابوں کا امینی نے عربی میں ترجمہ کیا، جن میں ابو الحسن علی ندوی کی عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح اور مولانا الیاس اور ان کی دینی دعوت ؛ محمد تقی عثمانی کی حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق ؛ منظور نعمانی کیایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعیت اور بر صغیر میں محمد بن عبد الوہاب نجدی کے خلاف پروپیگنڈہ کے علمائے حق پر اثرات اور حسین احمد مدنی کی ہندوستان کی تعلیمی حالت انگریزی سامراج سے پہلے اور اس کی آمد کے بعد بھی شامل ہیں۔[4]

وفات اور اظہار تعزیت[ترمیم]

امینی کا انتقال 3 مئی 2021 کو دیوبند میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہوا۔[7] علمائے کرام؛ بالخصوص ابو القاسم نعمانی ، ارشد مدنی ، محمد سفیان قاسمی اور محمود مدنی نے ان کی وفات پر غم کا اظہار کیا۔[10] ان کی نماز جنازہ ارشد مدنی نے پڑھائی اور انھیں دار العلوم دیوبند کے قاسمی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔[11] آسام یونیورسٹی میں ابو الکلام نے نور عالم خلیل امینی کی تحریروں میں فلسطين في إنتظار صلاح دين کے خصوصی حوالہ کے ساتھ سماجی و سیاسی پہلوؤں کے عنوان پر اپنا ڈاکٹریٹ مقالہ لکھا۔[12]

تصانیف[ترمیم]

نور عالم کی عربی اردو کتابوں میں سے کچھ کے نام مندرجۂ ذیل ہیں:[13]

اردو[ترمیم]

  • وہ کوہ کَن کی بات (علامہ وحید الزماں کیرانوی کی سوانحِ حیات)
  • فلسطین کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں
  • پسِ مَرگِ زندہ
  • حرفِ شيریں
  • موجودہ صلیبی صہیونی جنگ
  • کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے؟
  • خط رقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں؟

عربی[ترمیم]

  • مفتاح العربیہ (مکمل دو حصے) اس کتاب کو مختلف مدرسوں میں درس نظامی نصاب میں پڑھایا جاتا ہے۔[8]
  • فلسطين في انتظار صلاح دين (عربی)
  • المسلمون في الهند
  • الصحابة و مكانتهم في الإسلام
  • مجتمعاتنا المعاصرة والطريق إلى الإسلام
  • الدعوة الإسلامية بين الأمس واليوم
  • متی تكون الكتابات مؤثرة؟
  • تعلّموا العربیة فإنہا من دینکم
  • العالم الهندي الفريد الشيخ المقرئ محمد طيب

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://thenewscaravan.com/maulana-noor-alam-khalil-amini-a-senior-maestro-of-the-islamic-educational-institution-darul-uloom-and-a-great-scholar-of-arabic-language-died-after-a-long-illness-he-was-70-the-news-of-his-death/
  2. ^ ا ب نایاب حسن قاسمی. "مولانا نور عالم خلیل امینی". دار العلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ (ایڈیشن 2013). دیوبند: ادارہ تحقیق اسلامی. صفحات 247–252. 
  3. "مولانا نور عالم خلیل امینی عربی و اردو کی مشترکہ لسانی روایت کے علم بردار تھے:ابرار احمد اجراوی" [Noor Alam Khalil Amini was well versed in the common linguistic tradition of Arabic and Urdu]. قندیل آنلائن. 3 May 2021. اخذ شدہ بتاریخ 04 مئی 2021. 
  4. ^ ا ب پ ت ٹ قاسمی، محمد نجیب. "آہ! عربی واردو زبان وادب کا شہسوار چل بساaway". سیاسی تقدیر. اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2021. 
  5. ^ ا ب "حضر ت مولانانور عالم خلیل امینیؒ کا انتقال ملت اسلامیہ کا بڑا علمی خسارہ: امارت شرعیہ". قندیل آنلائن. اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2021. 
  6. ^ ا ب نور عالم خلیل امینی. "حالات مصنف". پس مرگ زندہ (ایڈیشن پانچواں، فروری 2017). دیوبند: ادارہ علم و ادب. صفحہ 933. 
  7. ^ ا ب پ "معروف عالم دین مولانا نور عالم خلیل امینی کا انتقال ، علمی وادبی حلقہ سوگوار" [Famous Islamic scholar Nūr Alam Khalil Amini passes away]. ملت ٹائمز. 3 مئی 2021. 02 مئی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 03 مئی 2021. 
  8. ^ ا ب "Maulana Noor Alam Khalil Amini nominated for President's Award". سیاست (اخبار). اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2020. 
  9. President Awards the Certificate of Honour 2017، HRD Ministry, GoI، اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2020 [مردہ ربط]
  10. "देवबंद: नहीं रहे दारुल उलूम के वरिष्ठ उस्ताद मौलाना नूर आलम, दुनिया के इस्लामिक जगत में था बड़ा नाम" [Noor Alam Khalil Amini, senior teacher of Darul Uloom Deoband, no more.]. امر اجالا (بزبان ہندی). اخذ شدہ بتاریخ 3 مئی 2021. 
  11. "Maulana Noor Alam Khalil Amini, a senior maestro of the Islamic educational institution Darul Uloom and a great scholar of Arabic language, died after a long illness". دی نیوز چراون. اخذ شدہ بتاریخ 05 مئی 2021. 
  12. ابو، الکلام (2013). Socio-Political Aspects in the Writings of Noor Alam Khalil Amini with Special Reference to Falastin Fi Intezari Salahidin (ڈاکٹریٹ). آسام یونیورسٹی. 
  13. مہتاب، احسن، ویکی نویس (16–31 جنوری 2017). "اردو کے فروغ میں علمائے دیوبند کا 150 سالہ کردار" [150 year role of the scholars of Darul Uloom Deoband in the propagation of Urdu]. فکر انقلاب. آل انڈیا تنظیم علمائے حق ٹرسٹ. 5 (112): 535.