نور محمد ترہ کئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نور محمد ترہ کئی
(پشتو میں: نور محمد ترکۍ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Nur Muhammad Taraki.JPG 

مناصب
Standard of the President of Afghanistan.svg صدر افغانستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
30 اپریل 1978  – 14 ستمبر 1979 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد القادر دگروال 
حفیظ اللہ امین  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 15 جولا‎ئی 1917[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 اکتوبر 1979 (62 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  شاعر،  مصنف،  صحافی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان پشتو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

نور محمد ترہ کئی (15 جولائی 1971ء - 8 اکتوبر 1979ء) سرد جنگ کے دوران میں ایک افغان کمیونسٹ سیاست دان تھے جو 1978ء سے 1979ء تک افغانستان کے صدر رہے۔ وہ کابل کے نواح میں واقعہ ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور کابل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے اپناسیاسی کیریئر بطور صحافی شروع کیا۔ وہ افغانستان کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDPA) کے بانی ارکان میں شامل تھے اور پہلی کانگریس میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر منتخب ہوئے۔ انہوں نے 1965ء کے افغان پارلیمانی انتخابات میں ایک امیدوار کے طور پر حصہ لیا لیکن نشست حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ 1966ء میں انہوں نے پارٹی کے اخبار خلق کا پہلا شمارہ شائع کیا، لیکن حکومت کی جانب سے جلد ہی اسے بند کر دیا گیا۔

انہوں نے PDPA کے خلق ونگ کی قیادت کی، 1978 ء میں نور محمد تر ہ کئی نے حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل کے ساتھ انقلاب کی قیادت کی اورجمہوری جمہوریہ افغانستان کی بنیاد رکھی۔جس کے بعد وہ پہلے ملک کے صدر منتخب ہوئے۔نور محمد تر ہ کئی کی مدت صدارت مختصر اور تنازعات کا شکار رہی ۔ ان کی دور ااقتدار میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم رہی۔ یکم جنوری 1979 کو انہوں نے ملک میں زرعی اصلاحات کا آغاز کیا جو ملک میں مقبول نہ ہوئیں۔ ریاستی پریس نے انہوں عظیم لیڈر اور عظیم استاد کے طور پر پیش کیا[2]۔ حفیظ اللہ امین کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ رہے ، جس کی وجہ سے بعد میں 14 ستمبر 1979 کو ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا[3]۔ان کی وفات کے بعد دسمبر 1979ء میں سویت یونین نے افغانستان میں براہ راست مداخلت کی۔

سیاست کے علاوہ 1940 کی وہائی میں انہوں نے سوشلزم کے نظریات پر کچھ ناول اور کہانیاں بھی لکھیں[4]۔

ہلاکت[ترمیم]

انقلابِ ثور کو اپنے آغاز سے ہی اندرونی و بیرونی سازشوں کا سامنا تھا۔8 اکتوبر 1979کو اور سویت یونین کی شہ پر پارٹی میں موجود کچھ عناصرکی سازش  کے نتیجے کامریڈ نور محمد ترہ کئی کر دیے گئے۔ نور محمد ترہ کئی کی ہلاکت کے بعد اس کی بیوی اور بھائی سمیت وسیع پیمانے پر اس کے خاندان کے 28 مرد او ر خواتین کو  جیل میں ڈال دیا گیا[5]۔ ان کی ہلاکت کے بعد حفیظ اللہ امین نے اقتدار پر قبضہ کر لیا مگرمحض تین ماہ ہی کابل میں اپنے انجام سے نہ بچ سکا اس کے بعد جب ببرک کارمل اقتدار میں آئے تو ان سب کو رہا کر دیا گیا۔

کابل نیو  ٹائمزکے 2 جنوری 1980ء ایڈیشن میں اس وقت کی وزیر تعلیم وزیر اناحیتا شرحبزاد نے ترہ کئی کو "ملک کے شہید بیٹے" کا خطاب دیتے ہوئے حفیظ اللہ امین کو آمر، پاگل اور امریکی سامراج کا جاسوس کہا[6]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Nur-Mohammad-Taraki — بنام: Nur Mohammad Taraki — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. Before Taliban: Genealogies of the Afghan Jihad by David B. Edwards, 2002.
  3. Malik Hafeez۔ Soviet-Pakistan Relations and Post-Soviet Dynamics, 1947–92۔ صفحہ 263۔ آئی ایس بی این 978-1-349-10573-1۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. Shaista Wahab & Barry Youngerman, A Brief History of Afghanistan، Infobase Publishing (2007)، p. 137
  5. My Three Lives on Earth: The Life Story of an Afghan American by Tawab Assifi
  6. "VOL. XVII NO. 2"۔ Kabul New Times۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔