نوشاد علی (کرکٹ کھلاڑی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نوشاد علی رضوی ٹیسٹ کیپ نمبر 50
Noshad ali.jpeg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازی-وکٹ کیپر
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 6 83
رنز بنائے 156 4322
بیٹنگ اوسط 14.18 36.31
100s/50s -/- 9/-
ٹاپ اسکور 39 158
گیندیں کرائیں - -
وکٹ - -
بولنگ اوسط - -
اننگز میں 5 وکٹ - -
میچ میں 10 وکٹ - -
بہترین بولنگ - -
کیچ/سٹمپ 9/- 141/34
ماخذ: [1]

نوشاد علی رضوی انگریزی:Naushad Ali Rizvi(پیدائش:1 اکتوبر 1943ءگوالیار، بھارت) ایک پاکستانی کرکٹر ہے۔[1] جنہوں نے پاکستان کی طرف سے 6 ٹیسٹ میچ کھیلے نوشاد علی رضوی برطانوی دور میں گوالیار کے مقام پر پیدا ہوئے وہ ایک پاکستانی ریٹائرڈ آرمی آفیسر اور سابق کرکٹر ہیں وہ پاک فوج میں بطور کرنل ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے 1965ء میں پاکستان کے وکٹ کیپر اور اوپننگ بلے باز کے طور پر چھ ٹیسٹ کھیلے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ[ترمیم]

انہوں نے 1960 سے 1979 تک پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی، نو سنچریاں بنائیں۔ وہ میچ ریفری اور ایڈمنسٹریٹر بھی رہ چکے ہیں انہوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان،کراچی،شمال مغربی سرحدی صوبہ (اب کے پی کے)پشاور کرکٹ ایسوسی ایشن،پنجاب، راولپنڈی، اور پاکستان سروسز کےلیے بھی کرکٹ کھیلی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی[ترمیم]

نوشاد علی نے 1965ء کے سیزن میں اپنا ٹیسٹ کیرئیر مکمل کر لیا اور ان کے تمام ٹیسٹ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے خلاف تھے یوں کیا جا سکتا ہے کہ ان کا ٹیسٹ کیرئیر 22 جنوری 1965ء سے 9 اپریل 1965ء تک ہی محدود رہا اور اس کی وجہ غالباً یہ ہو سکتی ہے کہ ان کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر انہیں مزید مواقع نہیں دئیے گئے۔

1965ء پاکستان کا دورہ نیوزی لینڈ[ترمیم]

سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ولنگٹن کے مقام پر حنیف محمد کی قیادت میں میدان میں اتری نیوزی لینڈ کی ٹیم نے 266 رنز بنائے بیری سنکلئیر نے 65 اور بیون کنگڈن نے 42 کا جادو جگایا آصف اقبال نے 48/5 اور عارف بٹ 46/3 کی کارکردگی کے حامل ٹھہرے پاکستان کی ٹیم کی ٹیم 146 رنز بنا سکی نوشاد علی نے محمد الیاس کے ساتھ اوپننگ کی مگر صرف 11 پر ہی آوٹ گئے عبدالقادر جمیل 46 اور آصف اقبال 30 کی مدد نہ کرتے تو پاکستان 187 سکور تک نہ پہنچ پاتا دوسری اننگز میں نوشاد علی کچھ زیادہ پراعتماد نہ تھے اور محض 3 پر ہی اپنی وکٹ ایک مشکل کیچ کی صورت میں موٹز کو تھما گئے یہ میچ برابری پر ختم ہوا دوسرا ٹیسٹ اکلینڈ میں ختم ہوا پہلی اننگز میں نوشاد علی 14 اور دوسری باری میں صرف 8 تک محدود رہے اور اسی طرح سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں کرائسٹ چرچ میں 12 اور 20 بنا کر مایوس کیا اور تین ٹیسٹ میچوں میں صرف 68 رنز بنائے اور وکٹوں کے پیچھے 5 کیچ پکڑے[2]

1965ء نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان[ترمیم]

1965ء میں ہی نیوزی لینڈ نے پاکستان کا جوابی دورہ کیا تو دورہ نیوزی لینڈ میں توقعات کے مطابق کھیل پیش نہ کرنے کے باوجود نوشاد علی کو ٹیم میں برقرار رکھا گیا۔راولپنڈی کے پہلے ٹیسٹ میں ایک ہی اننگ کھیلنے کو ملی اور وہ صرف 2 رنز تک محدود رہے لاہور کے دوسرے ٹیسٹ میں 9 اور 38 ان کی محنت کا ثمر تھے جبکہ کراچی کا ٹیسٹ ان کے کیرئیر کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوا جہاں نوشاد علی نے 39 اور 9 رنز بنائے 39 رنز ان کے کیرئیر کا بہترین سکور تھے اس سیریز میں نوشاد علی نے 88 رنز سکور کئے جو کسی طور ایک قابل قبول پرفارمنس نہیں تھی اس لئے وہ اس کے بعد کبھی دوبارہ قومی ٹیم کا حصہ نہ بن سکے۔

اعدادوشمار[ترمیم]

نوشاد علی نے 6 ٹیسٹ میچ کی 11 اننگز میں 156 رنز بنائے جس میں 39 ان کا سب سے زیادہ سکور تھا۔یہ رنز 14.19 کی اوسط سے بنائے گئے جبکہ 83 فرسٹ کلاس میچوں کی 115 اننگز میں 16 بار ناٹ آئوٹ رہ کر انہوں نے 4322 رنز بنائے۔ 158 ان کا بہترین سکور تھا 36.31 کی اوسط سے بنائے ان رنزوں میں 9 سنچریاں اور 20 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں اس کے علاوہ انہوں نے وکٹ کیپر کے طور پر 9 کیچز بھی پکڑے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد[ترمیم]

نوشاد علی نے ریٹائر ہونے کے بعد ایمپائرنگ میں بھی قسمت آزمائی۔کی۔ انہوں نے 5 ٹیسٹ 13 ون ڈے اور ایک فرسٹ کلاس میچ بھی سپروائز کیا انہوں نے کرکٹ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھی مختلف حیثیتوں میں اپنے فرائض ادا کیے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Naushad Ali (cricketer)". 
  2. https://www.espncricinfo.com/player/naushad-ali-42061