نو نہال سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نو نہال سنگھ
نو نہال سنگھ

معلومات شخصیت
پیدائش 11 فروری 1821  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 6 نومبر 1840 (19 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قلعۂ لاہور،  لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سکھ
والد کھڑک سنگھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ چاند کور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
مہاراجہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
8 اکتوبر 1839  – 6 نومبر 1840 
دیگر معلومات
پیشہ شہزادہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مہاراجا نو نہال سنگھ (پنجابی زبان: ਨੌਨਿਹਾਲ ਸਿੰਘ) سکھ سلطنت کا تیسرا حکمران تھا۔ اکتوبر 1840ء میں اپنے باپ کھڑک سنگھ کو معزول کرکے تخت نشیں ہوا اور 6 نومبر 1840ء کو قلعہ لاہور کی دیوار گر جانے کے باعث زخمی ہوا اور جانبر نہ ہو سکا اور فوت ہوا۔

عہد حکومت[ترمیم]

1837ء میں نونہال سنگھ کی شادی شیام سنگھ اٹاری والا کی بیٹی صاحب کور عرف بی بی نانکی سے ہوئی۔ مہاراجا کھڑک سنگھ کی نااہلی کی وجہ سے سکھ امرا اس کے خلاف ہو گئے اس مخالفت کو ڈوگرہ پریوار نے مزید ہوا دی سکھوں کو انگریزوں کی غلامی سے خوف زدہ کیا اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ کھڑک سنگھ کو معزول کیاجائے ا ورا س کی جگہ اس کے بیٹے نونہال سنگھ کو تخت نشن کیا جائے کھڑک سنگھ کی بیوی مہارانی چاندکور اور بیٹے نونہال سنگھ نے وزیرا عظم دھیان سنگھ سے عہد لیا کہ کھڑک سنگھ پر آنچ نہیں آئے گی۔ چنانچہ 5اکتوبر 1839ء کو رات کے وقت وزیر اعظم دھیان سنگھ،اس کے بھائی سوچیت سنگھ اور گلاب سنگھ،اس کا بیٹا ہیرا سنگھ ،دھیان سنگھ کا رفیق خاص لال سنگھ اور دیگر رفقا کے ہمراہ کھڑک سنگھ کی خواب گاہ (متصل شیش محل)میں داخل ہوئے۔ کھڑک سنگھ نے حالات کو سمجھتے ہوئے ڈوگروں کے خلاف مزاحمت کی مگر مہارانی چاندکور،نونہال سنگھ نے کنیزوں کے ساتھ مل کر اسے بے بس کر دیا۔ مہاراجا کھڑک سنگھ کو معزول کرکے اس کی حویلی (موجودہ نسبت روڈ لاہور)میں نظر بند کر دیا گیا۔ کھڑک سنگھ کا مقرب خاص چیت سنگھ دھیان سنگھ کے ہاتھوں قتل ہواجبکہ اس کے اہل و عیال اور دوست موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اگلے دن نونہال سنگھ کی حکومت کا اعلان کیا گیا۔ حکومت کے اختیارات ملتے ہی مہاراجا نونہال سنگھ نے دربار میں نجومی اور جوتشی بلوائے جنہوں نے اپنے حساب کتاب اور ستاروں کے علم اور زائچوں کی مدد سے اسے خوشخبری دی کہ وہ اپنے آنجہانی دادا رنجیت سنگھ کی طرح عظیم الشان حکمران ثابت ہوگا اس کی سلطنت کی حدود میں دہلی اور بنارس بھی شامل ہوں گے یہ سن کر مہاراجا نونہال سنگھ بہت خوش ہوااس نے ان نجومیوں اور جوتشیوں کو انعام واکرام سے نوازا۔ حکومت کے اصل اختیارات وزیر اعظم دھیان سنگھ کے ہاتھ میں تھے نونہال سنگھ صرف ایک کٹھ پتلی کی طرح تھانونہال سنگھ نااہل حکمران تھا سیاسی تدبر اور صلاحیت کا فقدان تھا کیونکہ اس کی سیاسی تربیت کمی تھی۔ اسے سیر وشکار کے علاوہ کسی کام میں دلچسپی نہیں تھی۔ نومبر1840ء کے ابتدائی ایام میں وہ اپنے باپ کھڑک سنگھ کے بار بار بلانے پر نونہال سنگھ صرف ایک بار اسے ملنے آیا مگر اس نے گستاخی، بدتمیزی اور درشت رویہ سے اپنے باپ سے گفتگوکی اس نے اپنے باپ کو سکھ قوم کا غدار کہا اورانگریز وں کا وفادار کہا ۔ کھڑک سنگھ معزول ہونے کے بعد 10ماہ تک زندہ رہا۔ اس کی حویلی (موجودہ نسبت روڈ لاہور) میں اور ایک روایت کے مطابق اندرون لاہور ایک حویلی میں نظربند رکھا گیا۔ وہاں جوالہ سنگھ نام کا ایک حکیم مقرر کیا گیا، جو دھیان سنگھ کا ایک خاص آدمی تھا۔ اس نے معزول مہاراجا کو زہر خوانی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی، جس کے نتیجہ میں مہاراجا کھڑک سنگھ پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر 5 نومبر 1839ء کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مہاراجا کی وفات کی خبر کا باقاعدہ اعلان قلعہ لاہور میں توپیں چلا کر کیا گیا۔ مہاراجا کھڑک سنگھ کی چتا میں دو بیواؤں اور سات کنیزوں نے ستی ہونا قبول کیا۔ جب یہ عورتیں چتا میں بٹھائی گئیں تو وزیر اعظم دھیان سنگھ نے ان سے کہا کہ نوجوان راجا (نونہال سنگھ) کے لیے خیروبرکت کی دعائیں کریں، مگر وہ چپ رہیں۔

حویلی نو نہال سنگھ

مشہور سکھ مصنف ہربنس سنگھ نے اپنی کتاب Death of Prince Nau Nihal Singhمیں تحریرکیا ہے کہ ابھی کھڑک سنگھ کی لاش کو جلے ہوئے تھوڑاسا وقت ہوا تو مہاراجا نونہال سنگھ نے امرا کے ہمراہ قلعہ کی واپسی کا قصد کیا کیونکہ وہ چتا کی سخت گرمی کو برداشت نہیں کرپا رہا تھا اس نے دریائے راوی کے کنارے بنائے گئے تالاب میں غسل کیا اور قلعہ کی جانب چل پڑا۔ وہ اپنے دوستوں اور رفقا کے ہمراہ چل رہاتھا کہ روشنائی دروازہ کی پرانی اور بوسیدہ عمارت اس پر آن گری جس کے نیچے دب کر نونہال سنگھ اور ادھم سنگھ (گلاب سنگھ کا بیٹا) دونوں زخمی ہو گئے۔ ادھم سنگھ موقع پر ہلاک ہو گیا مگر نونہال سنگھ زندہ تھا وہ نیم بے ہوش تھا وزیر اعظم دھیان سنگھ نے پالکی کے ذریعے مہاراجا کو قلعہ منتقل کیا حکیموں اور ویدوں نے اس کا سرتوڑ علاج کیا مگراہالیان لاہورنے تیسرے دن مہاراجا کی موت کی خبر سنی۔ اس واقعہ کو مؤرخین نے اتفاقی حادثہ کانام دیا مگر (Encyclopedia of Sikhism, Vol. III, p. 212). کے مطابق یہ ایک سازش تھی جسے وزیر اعظم دھیان سنگھ نے تشکیل دیاتھا مگر بغور جائزہ لیاجائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم دھیان سنگھ کو اس کٹھ پتلی مہاراجا سے کسی قسم کی کوئی شکائت نہ تھی تمام اختیارات وزیر اعظم دھیان سنگھ کے پاس تھے۔ تاہم یورپی مصنفین کانن گھم (Cunningham)،(گارڈنرGardner)سمتھ،(سٹین بیکSteinback)بھی اس نقطہ کی حمایت کرتے ہیں کہ یہ ایک سازش تھی جس کا خالق وزیر اعظم دھیان سنگھ تھا۔

ایک اور نقطہ قابل غور ہے کہ جن پالکی برداروں نے مہاراجا نونہال سنگھ کو روشنائی دروازے سے زخمی حالت میں اٹھا کر اس کی خواب گاہ تک پہنچایا تھا ان میں سے دو پالکی بردار وحشیانہ انداز میں قتل کر دیے گئے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کرگلے کاٹے گئے تھے جبکہ دو پالکی بردار منظر سے غائب ہو گئے وہ کہا ں گئے انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ ہو سکتا ہے کہ پالکی بردار مہاراجا کی موت کے واقعات و حقائق سے آگاہ ہوچکے تھے ان کے افشا ہونے سے کئی اعلیٰ عہدے دار بے نقاب ہوسکتے ہوں اس لیے انہیں منظر عام سے ہمیشہ کے لیے غائب کر دیا گیا۔

نونہال سنگھ لا ولد تھا۔ اس کی ماں چاندکور نے افواہ پھیلا دی کہ اس کی بہو صاحب کور عرف بی بی نانکی امید سے ہے اس لیے چاند کور نے اس آنے والے بچے کے نام پر حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور ملکہ مقدس کا خطاب اختیار کیا۔

ماقبل 
کھڑک سنگھ
مہاراجہ سکھ سلطنت
8 اکتوبر 1839ء6 نومبر 1840ء
مابعد 
چاند کور