نکاراگوا میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

2007 میں امریکی ادارے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق نکاراگوا میں 1200 سے 1500 مسلمان آباد ہیں جن میں سے زیادہ سنی ہیں ان کا تعلق فلسطین لیبیا اور ایران سے ہے اس کے علاوہ کچھ مقامی مسلمان بھی موجود ہیں۔ ماناگوا میں اسلامی ثقافتی مرکز قائم ہے جس میں تقریبا 320 افراد بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ گریناڈا، ماسیا، لیون اور چنٖڈیگا سے مسلمان بھی نماز جمعہ کے لیے یہیں اکٹھے ہوتے ہیں۔ مئی 2007 کو ایرانی اثر و رسوخ کی وجہ سے اس سنی مرکز کو شیعہ مرکز میں تبدیل کر دیا گیا۔ شیعہ رہنما کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔[1]

پس منظر[ترمیم]

ابتدائی ہجرت[ترمیم]

19ویں صدی کے دوران مسلمانوں کی بڑی تعداد ہجرت کر کے آئی اکثریت کا تعلق فلسطین سے ہے مسلمانوں کی آمد وسطی امریکا میں سب سے بڑی ہجرت سمجھی جاتی ہے البتہ مسلمانوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے گزمان کے مصنف کے مطابق انسیویں صدی کے آخر سے 1917 تک سلطنت عثمانیہ کے زوال کے دوران 40 فلسطینی خاندان ہجرت کر کے نکاراگوا آئے[2]

پہلے مسلمانوں نے حکومتی دباؤ پر اسلامی روایات کو چھوڑ کر مسیحی روایات کو اپنا لیا 1890 اور 1940 کے مختلف ادوار کے دوران لاطینی امریکن ممالک میں عرب باشندوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی گئی تاہم کچھ عرب باشندے پہلے سے موجود تھے جو ملک کی ہر سرگرمی میں شامل تھے ۔[3]

1960 تا 2000 کی ہجرت[ترمیم]

فلسطینی مسلمان نکاراگوین انقلاب کی دسویں سالانہ تقریب میں فلسطینی اورسینڈنسٹا کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔

مسلمانوں کا دوسرا گروہ 1960 کو نکاراگوا میں پہنچا اس گروہ کا تعلق فلسطین سے ہے اس گروہ کو 1972 کے زلزلے اور 1979 کے انقلاب سے بہب نقصان پہنچا اس کی وجہ سے ان میں سے کئی خاندان واپس فلسطین یا دوسرے امریکی ممالک میں چلے گئے جو واپس نہ گئے انہیں بہب نقصان اٹھانا پڑا آخری مرتبہ مسلمان 1990 کی دہائی میں آئے یہ وہ مسلمان تھے جو پہلے چلے گئے تھے انھوں نے اسلام پھیلانے کے لیے کوششیں شروع کر دی۔[4]

2000 کے اندازے کے مطابق ملک میں تقریبا 500 فلسطینی مسلم خاندان آباد ہیں ان کا تعلق رملہ یروشلم بیت اللحم اور بیت جلہ سے ہے نکاراگوا عربوں کی آبادی لحاظ سے وسطی امریکا میں سر فہرست ہے

حالیہ واقعات[ترمیم]

اسلامی ثقافت نکاراگوا تنظیم کے صدر فہمی حسن کے مطابق مسلم آبادی کا تعلق فلسطین اور لبنان سے ہے اور کچھ مقامی باشندے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے [5] 1999 میں سان جوآن میں ملک کی پہلی مسجد تعمیر کی گئی اس میں ایک ہزار لوگوں کے لیے گنجائش ہے مسجد میں اسلامی تعلیم دی جاتی ہے نماز جمعہ اور ماہ رمضان میں نماز تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے تاہم مسجد کے اخراجات چھوٹی سی مسلم برادری برداشت نہیں کر سکتی اس لیے پانامہ کے مسلمان اس سلسلے میں امداد کرتے ہیں مسجد میں سکول اور کتب خانہ بھی موجود ہے خواتین و جضرات کے لیے مذہبی جلوس منعقد کیے جاتے ہیں اس مقصد کے لیے ہسپانوی زبان میں اشتہار بھی چھپوائے جاتے ہیں[6] ایک اور اسلامی مرکز سینٹرو کلچرل اسلامکو نکاراگوا بنایا گیا ہے یہ شیعوں کا اسلامی مرکز ہے یہ لوگ ایران سے 1979 میں ایرانی انقلاب اور 1991 میں ایران عراق جنگ کے دوران آئے یہ لوگ عربی یا ہسپانوی کی بجائے ابھی تک فارسی بولتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. International Religious Freedom 2007 (Released October 2007, covers period of June 2006 to May 2007)
  2. Roberto Marín Guzmán (2000)۔ A Century of Palestinian Immigration Into Central America: A Study of Their Economic and Cultural Contributions۔ Editorial Universidad de C.R.۔ صفحات 49–59۔ آئی ایس بی این 9977-67-587-2۔ 
  3. Christina Civantos (2005)۔ Between Argentines and Arabs: Argentine orientalism, Arab immigrants, and the writing of identity۔ SUNY Press۔ صفحہ 224۔ آئی ایس بی این 0-7914-6601-9۔ 
  4. The Islamic Bulletin, Islam in Nicaragua
  5. Edwin Sánchez, Primer Imán de Nicaragua. El Nuevo Diario. Domingo 14 de Marzo de 2004
  6. Elhamalawy, Salma Celebrating Ramadan from Chile to China. October 2003

نوٹس[ترمیم]