نکولائی گوگول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
نکولائی گوگول
(یوکرینی میں: Микола Васильович Гоголь-Яновський гербу Яструбець ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (یوکرینی میں: Микола Васильович Яновський)،  (روسی میں: Николай Васильевич Яновский ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 20 مارچ 1809ء [1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 فروری 1852ء (43 سال)[1][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ماسکو [5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن دانیلوف خانقاہ   ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت روس   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ریاستی جامعہ سینٹ پٹیرزبرک   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ناول نگار ،  ڈراما نگار [8]،  مورخ ،  ادبی نقاد ،  معلم ،  شاعر ،  نثر نگار [8]،  عوامی صحافی ،  مصنف [7][8][9]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان یوکرینی زبان [10][11][12]  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان روسی [13][14][15]،  یوکرینی زبان   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل نثر ،  ادبی تنقید [16]  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ریاستی جامعہ سینٹ پٹیرزبرک   ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں تاراس بلبا   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر الیگزیندر پشکن   ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نکولائی واسیلیوچ گوگول (روسی: Никола́й Васи́льевич Го́голь؛ 20 مارچ، 1809– 21 فروری، 1852) یوکرائنی نژاد روسی ناول نگار، مختصر کہانی کے مصنف، ایک عظیم روسی مصنف اور ڈراما نگار تھا۔ گوگول روسی ادب میں تنقیدی حقیقت پسندی کے اسلوب کے بانی اور دنیا کے سب سے بڑے طنز نگاروں میں سے ایک ہے۔

گوگول نے عجیب و غریب تمثیلات کا استعمال کیا ہے، جس کی مثالیں ان کی تخلیقات "دا نوز"،"وائی"، "اوورکوٹ" اور "نیوسکی پروسپیکٹ" میں ملتی ہیں۔ یہ کہانیاں اور دیگر جیسے "ایک دیوانے کی ڈائری" کو بھی ان کی پروٹو-سیرئیلسٹ خصوصیات کے لیے نوٹ کیا گیا ہے۔ وکٹر شکلووسکی کے مطابق، گوگول کی تحریر کا عجیب و غریب انداز بدنام کرنے کی "اسٹرنینی" تکنیک سے مشابہت رکھتا ہے۔[17] ان کے ابتدائی کام، جیسے "دکنکا کے قریب ایک فارم پر شام"، ان کی یوکرینی پرورش، یوکرینی ثقافت اور لوک داستانوں سے متاثر ہوکر لکھے گئے۔ ان کی بعد کی تحریر نے عصری روس میں سیاسی بدعنوانی پر طنز کیا (گورنمنٹ انسپکٹر، مردہ روحیں)، حالانکہ گوگول کو زار نکولس اول کی سرپرستی بھی حاصل تھی جو اس کے کام کو پسند کرتے تھے۔[18] ناول "تارس بلبا" (1835)، ڈراما "شادی" (1842) اور مختصر کہانیاں،"کیسے ایوان آئیوانووچ، ایوان نکیفورووچ سے لڑا؟"، "پورٹریٹ" اور "دا کیریج" بھی ان کے مشہور کاموں میں سے ہیں۔

بہت سے مصنفین اور نقادوں نے روسی، یوکرائنی اور عالمی ادب پر ​​گوگول کے بہت زیادہ اثر کو تسلیم کیا ہے۔ گوگول کے اثر و رسوخ کو فیوڈور دوستووسکی، میخائل سالٹیکوف-شیڈرین، ریونوسوکے اکوتاگاوا، فرانز کافکا، میخائل بلگاکوف، ولادیمیر نابوکوف، فلینری او کونر اور دیگر نے تسلیم کیا۔[19] یوگینے۔میلکویر دی ووگ کے مطابق، "ہم سب گوگول کے اوور کوٹ کے نیچے سے نکلے ہیں۔"

ابتدائی زندگی[ترمیم]

گوگول روسی سلطنت کے پولٹاوا گورنری میں یوکرائنی کوساک قصبے سوروچینٹسی میں پیدا ہوئے۔[20] اس کی ماں کا تعلق لیونٹی کوسیارووسکی سے تھا، جو سنہ 1710ء میں لبنی رجمنٹ کے افسر تھے۔ ان کے والد واسیلی گوگول یانووسکی، جب گوگول کی عمر 15 سال کی تھی اس وقت فوت ہو گئے تھے، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یوکرائنی کوساک کی اولاد تھے۔ گوگول جانتا تھا کہ اس کے آبا و اجداد اوسٹاپ ہوہول (یوکرین)، پولش سروس میں ایک کوساک ہیٹمین، کو پولش بادشاہ سے اعلی عہدہ ملا تھا۔ اس خاندان نے پولش کنیت "جانوسکی" استعمال کیا اور واسیلیوکا میں خاندانی جائداد جانوشچائنا کے نام سے مشہور تھی۔[21]

ان کے کے والد نے یوکرینی کے ساتھ ساتھ روسی زبان میں بھی شاعری لکھی تھی اور وہ اپنے تھیٹر میں شوقیہ ڈراما نگار تھے۔ جیسا کہ انیسویں صدی کے اوائل میں بائیں بازو کے یوکرائنی لوگوں کی عام بات تھی، یہ خاندان سہ زبانی، یونی یوکرینی کے ساتھ ساتھ روسی بولنے والا تھا اور زیادہ تر پڑھنے میں پولش زبان کا استعمال کرتا تھا۔ ماں اپنے بیٹے کو نکولا کہتی تھی، جو روسی نکولائی اور یوکرائنی میکولا کا مرکب ہے۔ بچپن میں، گوگول نے اپنے چچا کے ہوم تھیٹر میں اسٹیج ڈراموں میں مدد کی۔

سنہ 1820ء میں، نکولائی گوگول نیزہن (اب نزین گوگول اسٹیٹ یونیورسٹی) کے ایک اعلیٰ فنی اسکول گئے اور سنہ 1828ء تک وہیں رہے۔ یہیں سے انھوں نے لکھنا شروع کیا۔ وہ اپنے اسکول کے ساتھیوں میں مقبول نہیں تھے، جو اسے اپنا "پراسرار بونا" کہتے تھے، لیکن ان میں سے دو یا تین کے ساتھ انھوں نے دیرپا دوستی قائم کی۔ بہت جلد انھوں نے ایک قنوطی مزاج پیدا کر لیا، جس کی نشان دہی ایک دردناک خود شناسی اور بے پناہ خواہش تھی۔

سنہ 1828ء میں اسکول چھوڑنے کے بعد، گوگول مبہم لیکن پرجوش امیدوں سے بھرا سینٹ پیٹرزبرگ چلا گیا۔ وہ ادبی شہرت کا خواہاں تھا اور اپنے ساتھ جرمن خوبصورت زندگی کی ایک رومانوی نظم لے کر آیا، "ہانس کوخیلگارٹن" اور اسے اپنے خرچے پر، قلمی نام "وی۔الوف" سے شائع کروایا۔ اس نے یہ نظم جتنے جرائد کو بھیجی، سب نے عالمی سطح پر اس کا مذاق اڑایا۔ اس نے تمام کاپیاں خرید کر تلف کر دیں، دوبارہ کبھی شاعری نہ کرنے کی قسم کھائی۔

ادبی ترقی[ترمیم]

سینٹ پیٹرز برگ میں ان کے قیام نے گوگول کو اپنی شناخت کے حوالے سے ایک خاص فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ یہ ہنگامہ آرائی کا دور تھا۔ سابق پولش-لتھوانیائی دولت مشترکہ کی سرزمین میں نومبر کی بغاوت روسی قوم پرستی کے عروج کا باعث بنی۔ شروع میں، گوگول نے کنیت گوگول-ایانووسکی استعمال کی، لیکن جلد ہی یہ اس کے لیے تکلیف دہ ہو گئی۔ پہلے تو اس نے اسے روسی آواز والے "آئیوانوف" تک مختصر کرنے کی کوشش کی، لیکن سنہ 1830ء کے دوسرے نصف میں اس نے اپنے کنیت کے پولش حصے کو یکسر ترک کر دیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی ماں کو ایک خط میں نصیحت کی کہ وہ اسے صرف "گوگول" کہہ کر مخاطب کریں، کیونکہ پولستانی، سینٹ پیٹرزبرگ میں "مشتبہ" بن چکے تھے۔ زار کے حکام نے یوکرین کے دانشوروں کو پولستانیوں سے تعلقات منقطع کرنے کی ترغیب دی، روسی سلطنت کے ورثے کے ایک حصے کے طور پر ایک محدود، لوک داستانی یوکرائنی خصوصیت کو فروغ دیا۔ سنہ 1831ء میں، گوگول کی یوکرینی کہانیوں کی پہلی جلد "دیکانکا کے قریب ایک فارم پر شام" ایک قلمی نام "رودی پینکو" کے تحت شائع ہوئی، جو اس رجحان کے مطابق تھی اور اسے فوری کامیابی حاصل ہوئی۔ دوسری جلد سنہ 1832ء میں شائع ہوئی، اس کے بعد سنہ 1835ء میں "مرگوروڈ" کے عنوان سے کہانیوں کی دو جلدیں اور "عربیسک" کے عنوان سے متفرق نثر کی دو جلدیں شائع ہوئیں۔ اس وقت، روسی ایڈیٹرز اور نقاد جیسے کہ نکولائی پولوائے اور نکولائی نادیزدین نے گوگول کو ایک علاقائی یوکرائنی مصنف کے طور پر دیکھا اور اس کے کاموں کو یوکرائنی قومی کرداروں کی مخصوص وضاحت کے لیے استعمال کیا۔ گوگول کے ان ابتدائی نثری کاموں کے موضوعات اور انداز، نیز اس کے بعد کے ڈرامے، یوکرائنی زبان کے مصنفین اور ڈراما نگاروں کے کام سے ملتے جلتے تھے جو ان کے ہم عصر اور دوست تھے، بشمول ہیری کویتکا-اوسنوویانینکو۔ تاہم، گوگول کا طنز بہت زیادہ نفیس اور غیر روایتی تھا۔ اگرچہ یہ کام روسی زبان میں لکھے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ یوکرینیائی الفاظوں سے بھرے ہوئے تھے، یہی وجہ ہے کہ جلد کے آخر میں یوکرینی الفاظ کی ایک لغت شامل کی گئی تھی۔

اس وقت، گوگول میں یوکرائنی کوساک کی تاریخ کے بارے میں جنون پیدا ہوا اور اس نے کیف کی سینٹ ولادیمیر امپیریل یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ سے رابطے کی کوشش کی۔ الیگزینڈر پشکن اور روسی وزیر تعلیم سرگئی اوارووف کی حمایت کے باوجود، ایک سرکاری عہدیدار نے اس بنیاد پر اس تقرری کو روک دیا تھا کہ گوگول نااہل ہے۔ اس کی افسانوی کہانی، "تارس بلبا"، زیپوراژیا کے کوساک کی تاریخ پر مبنی تھی اور اس کی دلچسپیوں میں اس مرحلے کا نتیجہ تھی۔ اس دوران، اس نے مورخ اور ماہر فطرت میخائلو میکسیموویچ کے ساتھ بھی گہری اور زندگی بھر کی دوستی قائم کی۔

سنہ 1834ء میں، گوگول کو سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں قرون وسطیٰ کی تاریخ کا پروفیسر بنا دیا گیا۔ یہ ایک ایسی نوکری تھی، جس کے لیے اس کی کوئی اہلیت نہیں تھی۔ یہ تدریسی عہدہ، اس کے لیے ایک تباہی ثابت ہوا: اس نے پڑھائی اور پڑھانے کے تمام دکھاوے چھوڑ دیے اور بالآخر سنہ 1835ء میں اس نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔

سنہ 1832ء اور 1836ء کے درمیان، گوگول نے بڑی توانائی کے ساتھ کام کیا اور پشکن کے ساتھ اس کا گہرا رابطہ تھا، لیکن اس نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اپنے عزائم کو ادب میں کامیابی سے پورا کرنا ہے۔ اس وقت کے دوران، روسی نقاد اسٹیپن شیویریف اور ویساریون بیلنسکی نے، پہلے کے نقادوں کی مخالفت کرتے ہوئے، گوگول کو یوکرائنی سے روسی مصنف میں تبدیل کیا۔ 19 اپریل، 1836ء کو سینٹ پیٹرزبرگ کے الیگزینڈرنسکی تھیٹر میں اس کی کامیڈی "دی گورنمنٹ انسپکٹر" کے پریمیئر کے بعد ہی آخرکار اسے اپنے ادبی پیشے پر یقین آیا۔ یہ کامیڈی، جو روسی صوبائی بیوروکریسی پر ایک طنز ہے، صرف شہنشاہ نکولس اول کی مداخلت کی بدولت اسٹیج کی جاسکی۔ زار ذاتی طور پر ڈرامے کے پریمیئر میں موجود تھا، جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ "کامیڈی میں کچھ بھی برا نہیں ہے، کیونکہ یہ صرف ایک برے صوبائی عہدیداروں کا خوشگوار مذاق ہے۔"

Nikolai Gogol's; The Government Inspector", 1924

سنہ 1836ء سے 1848ء تک، گوگول جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے ذریعے سفر کرتے ہوئے بیرون ملک مقیم رہا۔ گوگول نے سنہ 1836ء اور 1837ء کا موسم سرما پیرس میں گزارا۔ روسی غیر ملکیوں اور پولش جلاوطنوں کے درمیان، وہ اکثر پولش شاعروں ایڈم مکیوز اور بودان زیلیسکی سے ملتا رہا اور بالآخر اس نے روم میں ہی رہائش اختیار کرلی۔ سنہ 1836ء کے بعد کے بارہ سالوں میں سے زیادہ تر، گوگول اٹلی میں تھا، جہاں اس نے روم میں اپنے مداح پیدا کرلیے۔ اس نے آرٹ کا مطالعہ کیا، اطالوی ادب پڑھا اور اطالوی موسیقی میں دلچسپی لینا شروع کردی۔

روم، اٹلی میں مینشن پر یادگاری تختی، جہاں گوگول رہ چکا ہے۔

پشکن کی موت نے گوگول پر ایک مضبوط تاثر پیدا کیا۔ پشکن کی موت کے بعد کے سالوں کے دوران ان کا بنیادی کام طنزیہ مہاکاوی "مردہ روحیں" تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ، اس نے دوسرے بھی کام کیے؛ "تاراس بلبا" (1842) اور "دی پورٹریٹ" کو دوبارہ کاسٹ کیا، اپنی دوسری کامیڈی، "شادی" (زینتبا) کو مکمل کیا،  اس کی سب سے مشہور مختصر کہانی، "دی اوور کوٹ" ہے۔

سنہ 1841ء میں، "مردہ روحیں" کا پہلا حصہ تیار تھا اور گوگول اس کی اشاعت کی نگرانی کے لیے اسے روس لے گیا۔ یہ سنہ 1842ء میں ماسکو میں، سنسرشپ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے، ایک نئے عنوان "چیچیکوف کی مہمات" کے تحت شائع ہوا۔ اس کتاب نے زبان کے سب سے بڑے نثر نگاروں میں سے ایک کے طور پر ان کی ساکھ قائم کی۔

بعد کی زندگی اور موت[ترمیم]

"مردہ روحیں" کی کامیابی کے بعد، گوگول کے ہم عصر اسے ایک ایسے عظیم طنز نگار کے طور پر ماننے لگے جس نے امپیریل روس کے نامعقول پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خود بھی "مردہ روح" تھے لیکن دانتے کی "طربیہ سماوی" کے ایک منصوبہ بند جدید دور کا پہلا حصہ۔ پہلا حصہ انفرنو کی نمائندگی کرتا تھا۔ دوسرے حصے میں نیک لوگوں اور گورنروں کے زیر اثر بدمعاش چیچیکوف کی بتدریج تطہیر اور تبدیلی کو دکھایا گیا ہے۔[22]

اپریل، 1848ء میں، گوگول یروشلم کی زیارت سے روس واپس آیا اور اپنے آخری سال پورے ملک میں بے چینی میں گزارے۔ دارالحکومتوں کا دورہ کرتے ہوئے، وہ میخائل پوگوڈین اور سرگئی اکساکوف جیسے دوستوں کے ساتھ رہا۔ اس عرصے کے دوران، اس نے اپنے پرانے یوکرائنی دوستوں، میکسیموچ اور اوسیپ بوڈیانسکی کے ساتھ بھی زیادہ وقت گزارا۔ اس نے ایک روحانی بزرگ، ماتوی کونسٹنٹینووسکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا، جسے وہ کئی سالوں سے جانتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ کونسٹنٹینوفسکی نے گوگول میں اپنے تمام تخیلاتی کاموں کے گناہ پر اصرار کر کے تباہی کے خوف کو تقویت بخشی۔

مبالغہ آرائی پر مبنی اس کے روحانیت کی تلاش کے طریقوں نے اس کی صحت کو نقصان پہنچایا اور وہ گہری افسردگی کی حالت میں چلا گیا۔ 24 فروری، 1852ء کی رات، اس نے اپنے کچھ مسودات کو جلا دیا، جس میں "مردہ روحیں" کے دوسرے حصے کا زیادہ تر حصہ تھا۔ اس نے اس کی وضاحت ایک غلطی کے طور پر کی کہ یہ ایک عملی مذاق تھا جو شیطان نے اس پر کھیلا تھا۔ اس کے فوراً بعد، وہ بستر پر لیٹ گیا اور کھانے پینے سے انکار کر دیا اور نو دن بعد شدید کرب کی حالت میں مر گیا۔ گوگول کی تدفین سے پہلے ماسکو یونیورسٹی کے سینٹ تاتیانا چرچ اس کی ماتمی تقریب منعقد کی گئی میں اور پھر اس کے ساتھی سلاووفائل الیکسے خومیاکوف کے قریب دانیلوو خانقاہ میں دفن کیا گیا۔ اس کی قبر پر ایک بڑے پتھر (گلگوتھا) سے نشان لگایا گیا تھا، جس کے اوپر ایک روسی آرتھوڈوکس صلیب تھی۔[23] سنہ 1931ء میں، جب روس پر کمیونسٹوں کی حکومت تھی، ماسکو حکام نے خانقاہ کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا اور گوگول کی باقیات کو نووڈیویچی قبرستان میں منتقل کر دیا۔[24] اس کی لاش منہ کے بل پڑی ہوئی ملی، جس نے اس سازشی نظریے کو جنم دیا کہ گوگول کو زندہ دفن کر دیا گیا ہے۔ حکام نے گلگوتھا پتھر کو نئی قبر پر منتقل کیا، لیکن صلیب کو ہٹا دیا؛ سنہ 1952ء میں، سوویت یونین نے اس پتھر کی جگہ گوگول کا مجسمہ رکھ دیا۔ بعد میں اس پتھر کو گوگول کے مداح میخائل بلگاکوف کی قبر کے لیے دوبارہ استعمال کیا گیا۔ سنہ 2009ء میں، گوگول کی پیدائش کی دو سو سالہ تقریب کے سلسلے میں، مجسمے کو نووڈیویچی قبرستان کے عجائب گھر میں منتقل کر دیا گیا تھا اور اصل آرتھوڈوکس صلیب کی ایک نقل کے ساتھ اصل گولگوتھا پتھر واپس کر دیا گیا۔[25]

سینٹ پیٹرزبرگ میں نصب گوگول کا مجسمہ

ماسکو میں گوگول کی پہلی یادگار، ارباط اسکوائر پر ایک علامتی مجسمہ، مجسمہ ساز نیکولے آندرییف کے گوگول کے تصور کی نمائندگی کرتا تھا نہ کہ حقیقی انسان کی۔[26] سنہ 1909ء میں اس کی نقاب کشائی کی گئی، اس مجسمے کو الیا ریپن اور لیو ٹالسٹائی کی جانب سے گوگول کی اذیت زدہ شخصیت کے شاندار پروجیکشن کے طور پر سراہا گیا۔ اکتوبر انقلاب کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ جوزف اسٹالن کو یہ مجسمہ پسند نہیں آیا اور اس کی جگہ سنہ 1952ء میں ایک زیادہ آرتھوڈوکس سوشلسٹ ریئلسٹ یادگار نے لے لی۔[27] اس میں آندرییف کے اصل کام کو تباہی سے بچانے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کی گئی ہیں۔ سنہ 2014ء کے مطابق یہ مجسمہ اب اس گھر کے سامنے نصب ہے جہاں گوگول کی موت ہوئی تھی۔[28]

انداز[ترمیم]

ڈی ایس میرسکی نے گوگول کی کائنات کو "سب سے شاندار، غیر متوقع اور سخت ترین معنوں میں، حقیقی، الفاظ کے جادوگر کے ذریعہ تخلیق کردہ دنیاوں میں سے ایک" کے طور پر نمایاں کیا ہے۔[29] گوگول کی تحریر کی ایک خصوصیت حقیقت اور لوگوں کے بارے میں ان کا 'تاثر پرست' نظریہ ہے۔ اس نے بیرونی دنیا کو عجیب و غریب شکل میں تبدیل ہوتے دیکھا، جو ایک واحد تحفہ ہے جو خاص طور پر اس کی گوتھک کہانیوں، "ایک خوفناک انتقام" اور "ایک سحر زدہ مقام" میں شاندار مقامی تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے فطرت کے تخیل کی تفصیل کے عجیب و غریب ٹیلے ہیں، جس کے نتیجے میں چیزوں کا ایک غیر مربوط انتشار پیدا ہوتا ہے؛[30] "اس کے لوگ پیکر تصویر ہیں، جو نقش نگار کے طریقہ کار سے تیار کیے گئے ہیں، جو نمایاں خصوصیات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ان خاکوں میں ایک یقین، سچائی اور ناگزیریت ہے، جو ایک اصول کے طور پر غیر متوقع حقیقت کے معمولی لیکن قطعی جھٹکے سے حاصل کیا جاتی ہے، جو بظاہر نظر آنے والی دنیا سے مستعار لیتا ہے۔"[31] اس نے رومانیت،  مزاح نگاری اور تاثر پرستی کے پیش رو کے طور پر کام کیا۔[32]

وہ پہلو جس کے تحت گوگول حقیقت کو دیکھتا ہے اس کا اظہار روسی لفظ پوشلوسٹ سے ہوتا ہے، جس کا مطلب کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ "چھوٹا پن اور روحانی اور اخلاقی پستی، جو کسی گروہ یا معاشرے میں وسیع ہے۔ اس سے پہلے اسٹرن کی طرح، گوگول ممنوعات اور رومانوی وہموں کو ختم کرنے والا عظیم ادیب تھا۔ اس نے فحش ادب کو ترقی دے کر روسی رومانویت کو کمزور کیا جہاں اس سے پہلے صرف اعلیٰ اور خوبصورت لوگ تھے۔ "گوگول کی خصوصیت لامحدود ضرورت کا احساس ہے جو جلد ہی بالکل خالی پن اور ایک بھرپور طربیے کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جو اچانک مابعد الطبیعیاتی خوف میں بدل جاتا ہے۔"[33] اس کی کہانیاں اکثر پیتھوس اور طنز کو ایک دوسرے سے باندھتی ہیں، جبکہ "دی ٹیل آف آئیون ایوانووچ نے ایوانووچ نکیفورووچ سے کیسے جھگڑا کیا" ایک خوش کن مزاح کے طور پر شروع ہوتا ہے اور اس مشہور قول پر ختم ہوتا ہے، "اس دنیا میں سب کچھ بے مزہ ہے، حضرات!"

سیاست[ترمیم]

اس بات سے گوگول حیران ہو گیا جب کچھ ناقدین اس کے ڈرامے، "دی گورنمنٹ انسپکٹر" کو زار نکولس اول کی سرپرستی کے باوجود زارزم کے خلاف فرد جرم سے تعبیر کیا۔ گوگول جو خود، جو نو سلاوی تحریک کا پیروکار تھا، رومانوف خاندان اور روسی آرتھوڈوکس چرچ دونوں کو ایک الہامی مشن سمجھتا تھا۔ فیوڈور دوستوفسکی کی طرح، گوگول نے ان انقلابی روسیوں سے شدید اختلاف کیا جنھوں نے آئینی بادشاہت اور آرتھوڈوکس چرچ کو ختم کرنے کا پرچار کیا۔ گوگول نے اپنے کام کو ایک ایسی تنقید کے طور پر دیکھا جو روس کو بہتری کی طرف لے جائے گا۔

اپنی کتاب "سلیکٹڈ پیسیجز فرام کورسپنڈنس ود ہز فرینڈز" (1847) میں آمریت، غلامی اور آرتھوڈوکس چرچ کا دفاع کرنے کے بعد، گوگول اپنے سابق سرپرست ویزارین بیلنسکی کے حملوں کی زد میں آگیا۔ کارل مارکس کے معاشی نظریات کی عوامی سطح پر تبلیغ کرنے والے پہلے روسی دانشور، بیلنسکی نے گوگول پر جمود کا دفاع کرنے ہوئے اور اپنے قارئین کو دھوکا دینے کا الزام لگایا۔[34]

اثرات اور تشریحات[ترمیم]

"مردہ روحیں" کی اشاعت سے پہلے ہی، بیلنسکی نے گوگول کو روسی زبان کے پہلے حقیقت پسند مصنف اور فطری مکتب فکر کے سربراہ کے طور پر تسلیم کیا، جس کے لیے اس نے گونچاروف، ترگنیف، دمیتری گریگوروچ، ولادیمیر ڈاہل اور ولادیمیر سولوگب جیسے مصنفین کو بھی سراہا، گوں کہ گوگول خود بھی ایسی ادبی تحریک کے وجود کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار نظر آیا۔ اگرچہ اس نے "کئی نوجوان مصنفین" کو سمجھا، جنھوں نے "حقیقی زندگی کا مشاہدہ کرنے کی ایک خاص خواہش کا اظہار کیا"، اس نے ان کے کاموں کی ناقص ساخت اور اسلوب کو سنوارا۔[35] اس کے باوجود، بنیاد پرست نقادوں کی بعد کی نسلوں نے گوگول (وہ مصنف جس کی دنیا کی نگاہ روسی دار الحکومت کی سڑکوں پر گھومتی ہے) کو ایک عظیم حقیقت پسند کے طور پر تسلیم کیا، جسے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے "گوگولی ستم ظریفی کی فتح" قرار دیا ہے۔[36] ادبی جدیدیت کے دور نے گوگول کے کام میں دلچسپی کا احیاء اور رویہ میں تبدیلی دیکھی۔ روسی رسمیت کے اہم کاموں میں سے ایک "دی اوور کوٹ" کی ایچن بام کی دوبارہ تشخیص تھی۔ 1920ء کی دہائی میں، روسی مختصر کہانی لکھنے والوں کے ایک گروپ نے، جسے سیراپیئن برادرز کے نام سے جانا جاتا ہے، نے گوگول کو اپنے پیشروؤں میں رکھا اور شعوری طور پر اس کی تکنیک کی نقل کرنے کی کوشش کی۔

اس دور کے سرکردہ ناول نگاروں، خاص طور پر یوگینی زمیاتین اور میخائل بلگاکوف، نے بھی گوگول کی تعریف کی اور اس کے نقش قدم پر چل پڑے۔ سنہ 1926ء میں، ویسیولڈ میئر ہولڈ نے " دا گورنمنٹ انسپکٹر" کو "مضحکہ خیز صورت حال کی مزاحیہ فلم" کے طور پر اسٹیج کیا، جس نے اپنے متوجہ تماشائیوں کے سامنے لامتناہی خود فریبی کی شکار  ایک بدعنوان دنیا کو ظاہر کیا۔ سنہ 1934ء میں، آندرے بیلی نے اس تاریخ تک گوگول کی ادبی تکنیکوں کا سب سے پیچیدہ مطالعہ شائع کیا، جس میں اس نے مدت کے لحاظ سے گوگول کے کام میں مروجہ رنگوں اور افعال کو ان کے تاثراتی استعمال اور  ان کے نحو کے اظہاری انقطاع اور پیچیدہ آہنگ، اس کے جملوں کے نمونے اور اس کے ہنر کے بہت سے دوسرے اسرار کا تجزیہ کیا۔ اس کام کی بنیاد پر، ولادیمیر نابوکوف نے گوگول کے شاہکاروں کا خلاصہ بیان شائع کیا۔[37]

کام[ترمیم]

افسانہ

• ہانز کوخیلگارٹن (1829) (رومانوی)

ناول

• دیکانکا کی ایک شام (جسے یوکرین کے گاؤں، دیکانکا کے ویجیلز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) (1831-1832)

• دی سوروچینسی کا میلہ -

• مڈسمر نائٹ -

• مئی کی ایک رات

• گمشدہ ڈسپیچ

• کرسمس کی رات

• خوفناک انتقام -

• ایوان فیوڈورووچ شوپونکا اور اس کی خالہ -

• سحر زدہ مقام

• میروگوروڈ (ہیملیٹ ایونگز کے سیکوئل کے طور پر کام کرنے والی مختصر کہانیاں)

• ماضی کا ایک گھرانہ

• تارس بلبا

• وائے

• دو آئیوانوں کا جھگڑا (1835)

• دا پورٹریٹ (1842)، دوسرا ورژن

• دا اوورکوٹ (1843)

پیٹرزبرگ میں لکھے گئے ناول

• ارابیسک

• نیوسکی پروسپیکٹ

• ایک پاگل کی ڈائری

• ناک

• دا کیریئج

• دا کوٹ

• روم کا تعاون

• دا پورٹریٹ (پہلا ورژن)

• روم

• دی نائٹس آف دی ولا (1835-1836)

رومانوی

• تارس بلبا، (1835؛ 1839 - حتمی اور توسیع شدہ ورژن)

• مردہ روحیں، پہلا حصہ (1842)

• مردہ روحیں، حصہ دوم (نامکمل؛ بعد از مرگ ایڈیشن)۔

تھیٹر

• ایکشن کے آدمی کی صبح

• ٹرائل

• اینٹر روم

• کھلاڑی (1836)

• شادی

• دا ریزروائر (1836)

خط کتابت

• دوستوں کے ساتھ خط کتابت سے منتخب اقتباسات (1846)

• گوگول کے خطوط جو وی چنروک (1901) کے ذریعہ پیش کیے گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ربط : https://d-nb.info/gnd/118540424  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. Большая российская энциклопедия — باب: Гоголь — اجازت نامہ: کام کے حقوق نقل و اشاعت محفوظ ہیں
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119052865 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://bigenc.ru/ — عنوان : Большая российская энциклопедия — اجازت نامہ: کام کے حقوق نقل و اشاعت محفوظ ہیں
  5. ربط : https://d-nb.info/gnd/118540424  — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  6. ربط : https://d-nb.info/gnd/118540424  — اخذ شدہ بتاریخ: 28 ستمبر 2015 — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Гоголь Николай Васильевич
  7. ^ ا ب اثر پرسن آئی ڈی: https://www.digitalarchivioricordi.com/it/people/display/12917 — اخذ شدہ بتاریخ: 3 دسمبر 2020
  8. https://cs.isabart.org/person/14403 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 اپریل 2021
  9. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.bartleby.com/lit-hub/library — عنوان : Library of the World's Best Literature
  10. «Своего языка не знает...», или Почему Гоголь писал по-русски? — صفحہ: 36-58 — شمارہ: 1 — شائع شدہ از: 2011
  11. Об историческом романе Г. Кулиша «Чёрная рада», 1857 г. — جلد: 9 — صفحہ: 23 — شمارہ: 1 — شائع شدہ از: 1858 — اقتباس: …мне, как и всем малороссиянам, знавшим Гоголя близко, несомненно известно, что он своё родное украинское наречие знал основательно и владел им в совершенстве.
  12. Об отношении малороссийской словесности к общерусской — جلد: 7 — صفحہ: 125 — شمارہ: 3 — شائع شدہ از: 1857 — اقتباس: Из глубины степей Полтавских является на Севере писатель, с поверхностным школьным образованием, с неправильной речью, с уклонениями от общепринятых законов литературного языка, явно происходящими от недостаточного знакомства с ним, является, и поклонники изящного, отчётливого, гармонического Пушкина заслушались степных речей его…
  13. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119052865 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  14. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jn19990210244 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مارچ 2022
  15. کونر آئی ڈی: https://plus.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/6703971
  16. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jn19990210244 — اخذ شدہ بتاریخ: 7 نومبر 2022
  17. Viktor Shklovsky. String: On the dissimilarity of the similar. Moscow: Sovetsky Pisatel, 1970. - p. 230.
  18. "Очень нервный вечер. Как Николай I и Гоголь постановку «Ревизора» смотрели" (in Russian). Argumenty i Fakty. 1 May 2016.
  19. Natural School (Натуральная школа)". Brief Literary Encyclopedia in 9 Volumes. Moscow. 1968. Retrieved 1 December 2013.
  20. Nikolay Gogol". Encyclopædia Britannica. Retrieved 31 December 2010.
  21. Edyta M Bojanowska (2007)۔ Nikolai Gogol: Between Ukrainian and Russian Nationalism۔ Cambridge, MA: Harvard University Press۔ صفحہ: 160۔ ISBN 9780674022911 
  22. Gogol declared that "the subject of Dead Souls has nothing to do with the description of Russian provincial life or of a few revolting landowners. It is for the time being a secret which must suddenly and to the amazement of everyone (for as yet none of my readers has guessed it) be revealed in the following volumes..."
  23. Могиле Гоголя вернули первозданный вид: на нее поставили "Голгофу" с могилы Булгакова и восстановили крест.(in Russian)
  24. "Novodevichy Cemetery". Passport Magazine. April 2008. Retrieved 12 September 2013.
  25. Могиле Гоголя вернули первозданный вид: на нее поставили "Голгофу" с могилы Булгакова и восстановили крест.(in Russian) Retrieved 23 September 2013
  26. Зачем Сталин убрал памятник Гоголю в Москве" (in Russian). rg.ru. 1 June 2017.
  27. Российское образование. Федеральный образовательный портал: учреждения, программы, стандарты, ВУЗы, тесты ЕГЭ. Archived 4 September 2011 at the Wayback Machine (in Russian)
  28. For a full story and illustrations, see Российское образование. Федеральный образовательный портал: учреждения, программы, стандарты, ВУЗы, тесты ЕГЭ. Archived 17 October 2007 at the Wayback Machine (in Russian) and Москва и москвичи Archived 13 December 2018 at the Wayback Machine (in Russian)
  29. D.S. Mirsky (1999)۔ A History of Russian Literature۔ Northwestern University Press۔ صفحہ: 155۔ ISBN 0-8101-1679-0 
  30. According to some critics, Gogol's grotesque is a "means of estranging, a comic hyperbole that unmasks the banality and inhumanity of ambient reality". See: Fusso, Susanne. Essays on Gogol: Logos and the Russian Word. Northwestern University Press, 1994. ISBN 0-8101-1191-8. p. 55.
  31. Susanne Fusso (1994)۔  Essays on Gogol: Logos and the Russian Word۔ Northwestern University Press۔ صفحہ: 55۔ ISBN 0-8101-1191-8 
  32. Andrey Bely (1934). The Mastery Of Gogol (in Russian). Leningrad: Ogiz.
  33. "Russian literature." Encyclopædia Britannica, 2005.
  34. Letter to N.V. Gogol". marxists.org. February 2008. Retrieved 12 December 2017.
  35. "The structure of the stories themselves seemed especially unskilful and clumsy to me; in one story I noted excess and verbosity, and an absence of simplicity in the style". Quoted by Vasily Gippius in his monograph Gogol (Duke University Press, 1989, p. 166).
  36. The latest edition of the Britannica labels Gogol "one of the finest comic authors of world literature and perhaps its most accomplished nonsense writer." See under "Russian literature."
  37. Vladimir Nabokov (1917)۔ Nikolai Gogol۔ New York: New Directions۔ صفحہ: 140۔ ISBN 0-8112-0120-1