نکوہ دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نکوہ دوم[1] (بعض اوقات نیکاؤ،[2] نیکو،[3] نیچو،[4] یا نکوو;[5] یونانی: Νεχώς Β' or Νεχώ Β'[6][7]) کیمٹ[8] چھبیسویں سلطنت مصر کا بادشاہ (فرعون) (صدی۔ 610 قبل مسیح – صدی۔ 595 قبل مسیح)۔ نکوہ نے اپنے دور حکومت میں کئی بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کیے،[9] یونانی مورخ ہیروڈوٹس کے مطابق، اپنی دور میں، نکوہ دوم نے ایک فونیشیوں کی ایک مہم باہر بھیجی۔[10] جنہوں نے تین سال میں بحریہ روم میں شمالی افریقہ کی ساحلی پٹی کے ساتھ مشرق کی طرف سفر کے دوران اس بیڑے نے افریقی بر اعظم کے گرد پہلا چکر پورا کیا۔[11] اس کے بیٹا، سامیٹکس دوم نے، ہو سکتا ہے کہ یادگاروں سے اپنے باپ کا نام مٹا دیا ہو۔[12]

نکوہ جدید آشوری سلطنت، جدید بابلی سلطنت اور مملکت یہودہ کا اہم تاریخی کردار ہے۔ بہت زیادہ امکان ہے کہ عہد نامہ قدیمکی کتب میں اسی نکوہ کا ذکر ہے۔[13][14][15] نکوہ کی مہمات میں سے دوسری مہم کا مقصد ایشیائی فتوحات تھیں،[16][17] نو بابلی سلطنت کے مغرب کی جانب پیش قدمی پر مشتمل مہم میں اس نے فرات کے ساتھ تجارتی راستے کاٹ ڈالے۔ تاہم، مصری بابل کے غیر متوقع حملے سے شکست کھا گئے اور آخر میں شام سے نکال دیے گئے۔

سوانح حیات[ترمیم]

نسب اور ابتدائی زندگی[ترمیم]

نکوہ دوم سامطیق اول کا بیٹا جو عظیم شاہی بیوی میٹنویسکٹ سے پیدا ہوا۔ اس کا شاہی نام واہیمبرع (واہی-مب-رع) یعنی رع کی خواہش والا۔[18]

فوجی مہمات[ترمیم]

پہلی مہم[ترمیم]

موسم بہار، 609 قبل مسیح میں، نکوہ نے اشوریوں کی مدد سے خود بھاری فوج کی قیادت کی، فوج بنیادی طور پرجنگجووں پر مشتمل تھی۔ نکوہ نے شام میں میرس بذریعہ ساحل راستہ اختیار کیا۔ ساحل کے ساتھ بحریہ روم کے بحری بیڑے نے حمایت کی۔ نکوہ نے فلسطین پر حملہ کر دیا، لیکن یروشلم کے بادشاہ یوسیاہ نے اشوریہ کے ایک فوظ شناس، تابعدار، باج گزار کی حیثیت سے پوری طاقت سے اس کی مزاحمت کی۔ نکوہ دوم اور یوساہ کی معرکہ آرائی کا حال ہیرو ڈوٹس نے قلم بند کیا ہے،جو درحقیقت بائبل سے ماخوذ ہے۔ عہد نامہ جدید کی کتاب سلاطین۔2 یوسیاہ اور نکوہ کا قصہ یوں ہے:

یوسیاہ کے زمانے میں مصر کا بادشاہ فرعون نکوہ، اسور کے بادشاہ کے خلاف لڑ نے کے لیے فرات ندی کے پاس گیا۔ یوسیاہ مجّدد پر نکوہ سے ملنے گیا۔ فرعون نے یوسیاہ کو دیکھا اور اس کو مارڈا لا۔ یوسیاہ کے عہدے داروں نے اس کی لاش کو رتھ پر رکھا اور مجّدد سے یروشلم لے گئے۔ انہوں نے یوسیاہ کو اس کی ہی قبر میں دفن کیا۔[19]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Thomas Dobson. Encyclopædia: Or, A Dictionary of Arts, Sciences, and Miscellaneous Literature. Stone house, no. 41, South Second street, 1798. Page 785
  2. A History of Egypt, from the XIXth to the XXXth Dynasties. By Sir William Matthew Flinders Petrie. p336.
  3. The Historians' History of the World: Prolegomena; Egypt, Mesopotamia. Edited by Henry Smith Williams. p183.
  4. United States Exploring Expedition: Volume 15. By Charles Wilkes, United States. Congress. p53
  5. The Bibliotheca Sacra, Volume 45. Dallas Theological Seminary., 1888.
  6. Essay on the Hieroglyphic System of M. Champollion, Jun., and on the Advantages which it Offers to Sacred Criticism. By J. G. Honoré Greppo. p128
  7. Transliterated from Herodotus as "Necos"
  8. New African. Issues 392-402. Page 20. 2001.
  9. The history of Egypt By Samuel Sharpe. E. Moxon, 1852. Part 640. p138.
  10. The history of Egypt By Samuel Sharpe. E. Moxon, 1852. Part 640. p18.
  11. Herodotus, on this point, was in disbelief that the Phoenicians had the sun on their right hand all the time - in Herodotus's time it was not known that the sea extended south beyond the خط استوا and around Africa.
    For more discussion on this, see: The Penny Cyclopaedia of the Society for the Difussion of Useful Knowledge, Volume 1. Charles Knight, 1833. p172.
    Also see Necho_II's Phoenician_expedition below for various other views on this contentious topic.
  12. The Popular Handbook of Archaeology and the Bible. Edited by Norman L. Geisler, Joseph M. Holden. p287.
  13. Encyclopædia britannica. Edited by Colin MacFarquhar, George Gleig. p785
  14. The Holy Bible, According to the Authorized Version (A.D. 1611). Edited by Frederic Charles Cook. p131
  15. see عبرانی کتاب مقدس / عہد نامہ قدیم
  16. The temple of Mut in Asher. By Margaret Benson, Janet A. Gourlay, Percy Edward Newberry. p276. (cf. Nekau's chief ambition lay in Asiatic conquest)
  17. Egypt Under the Pharaohs: A History Derived Entireley from the Monuments. By Heinrich Brugsch, Brodrick. p444 (cf. Neku then attempted to assert the Egyptian supremacy in Asia.)
  18. Peter Clayton, Chronicle of the Pharaohs, Thames and Hudson, 1994. p.195
  19. کتاب سلاطین۔2، باب 23، آیت 29