نہر امیر المومنین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نہر امیر المومنین
کیفیت ختم ہو گئی ہے۔

حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں کئی نہریں تیار کی گئی تھیں لیکن سب سے فائدہ رساں نہر جو حضرت عمر ؓ کے خاص حکم سے بنائی گئی تھی وہ نہر تھی جونہر امیرا لمؤمنین کے نام سے مشہور ہے۔ اس نہر کے ذریعہ دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملا دیا گیا تھا۔

پس منظر[ترمیم]

اس کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ 18ھ؁ میں جب تمام عرب میں قحط پڑا تو حضرت عمر نے تمام اضلاع کے حکام کو لکھا کہ ہر جگہ سے کثرت کے ساتھ غلہ اور اناج روانہ کیا جائے اگرچہ اس حکم کی فورا تعمیل ہوئی۔ لیکن شام اور مصر سے خشکی کا جو راستہ تھا بہت دور دراز تھا۔ اس لیے غلہ کے بھیجنے میں پھر بھی دیر لگی ۔حضرت عمر ؓ نے ان دقتوں پر خیال کر کے عمر وبن العاص ؓ کو جو اس وقت مصر کے گورنر تھے کو لکھا کہ مصر کے باشندوں کی ایک جماعت ساتھ لے کر دار الخلافہ حاضر ہوں۔ جب وہ آئے تو فرمایا کہ دریائے نیل اگر سمندر سے ملا دیا جائے تو عرب میں قحط وگرانی کا کبھی اندیشہ نہ ہو گا ،ورنہ خشکی کی راہ سے غلہ کا آنا دقت سے خالی نہیں ۔

نہر کی تعمیر[ترمیم]

حضرت عمرو بن العاص ؓ نے واپس جا کر کام شروع کر دیا اور فسطاط (جو قاہرہ سے دس بارہ میل کے فاصلہ پر ہے) سے بحیرہ قلزم تک ایک نہر تیار کرائی۔ اس کے ذریعہ سے دریائے نیل جو فسطاط کے نیچے بہتا ہے بحیرہ قلزم میں مل گیا۔ جہاز نیل سے چل کر قلزم میں آتے تھے۔ اور یہاں سے جدہ پہنچ کر لنگر کرتے تھے جو مدینہ منورہ کی بندرگاہ تھا۔ یہ نہر تقریبا 69 میل لمبی تھی اور تعجب ہے کہ یہ اس زمانہ میں بھی صرف چھ ماہ میں بن کر تیا ر ہو گئی۔ چنانچہ پہلے ہی سال 20 بڑے بڑے جہاز جن میں ساٹھ ہزار اردب غلہ بھر ہوا تھا ،اس نہر کے ذریعہ مدینہ منورہ کی بندرگا میں آئے۔ یہ نہر لمبا عرصہ جاری رہی اور اس کے ذریعہ سے مصر کی تجارت کو بہت زیادہ ترقی حاصل ہوئی ۔حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے بعد عمالوں نے بے پروائی کی اور یہ نہر جگہ جگہ سے اٹ گئی۔ یہاں تک کہ مقام ذنب التمساح تک آکر اٹنے کی وجہ سے بالکل بند ہو گئی ۔105ھ؁ میں منصور عباسی نے اس کو بعض ذاتی مصالح کی بنا ء پر بند کر دیا۔ لیکن بعد میں پھر جاری ہو گئی اور مدتوں تک جاری رہی۔۔[1] لیکن ایک عجیب و غریب بات جو اس نہر کے ذکر سے مقصود ہے، یہ ہے کہ عمر بن العاص ؓ نے بحیرہ روم و بحیرہ قلزم کو براہ راست ملا دینے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ اس کے لیے موقع اور جگہ کی تجویز بھی کر لی تھی اور چاہا تھا کہ فرماکے پاس سے جہاں سے بحیرہ روم و بحیرہ قلزم میں صرف 70 میل کا فاصلہ رہ جاتا ہے، سے نہر نکال کر دونوں سمندروں کو ملا دیا جائے۔ لیکن جب حضرت عمر ؓ کو ان کے اس ارادہ سے اطلاع ہوئی توآپ ؓنے نارضامندی ظاہر کی اور لکھ بھیجا کہ اگر ایسا ہوا تو یونانی جہازوں میں آکر حاجیوں کو اڑا لے جائیں گے[2]
اگر حالات اجازت دیتے اورحضرت عمر فاروقؓ ،حضرت عمر بن العاص ؓ کو اس نہر کی تعمیر کی اجازت دے دیتے تو نہر سوئز کی تعمیر کا فخر در حقیقت عرب کے حصہ میں آتا۔ اور اس دور میں بننے والی نہر سوئز پہلے ہی تیار ہو چکی ہوتی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حسن المحاضرہ سیوطی صفحہ 93-94،مقریزی جلد اول صفحہ 71وجلد دوم صفحہ 139 تا 144
  2. تقویم البلدان ابوالفداء صفحہ 106