مندرجات کا رخ کریں

نیائے سوتر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
قدیم نیائے سوتروں کے مطابق علمِ صحیح کے ذرائع (پَرَمان)

نیائے سوتر قدیم ہندوستان کی ایک سنسکرت کتاب ہے جسے اکشپاد گوتم نے تصنیف کیا تھا۔ یہ ہندو فلسفہ کے نیائے مکتب فکر کی بنیادی کتاب ہے۔[1][2] اس کی تصنیف کی تاریخ اور اس کے مصنف کے سوانح زندگی نامعلوم ہیں، لیکن مختلف قیاسات کہتے ہیں کہ یہ چھٹی صدی قبل مسیح اور دوسری صدی عیسوی کے درمیان کا عرصہ رہا ہوگا۔[3][4] شاید یہ کتاب مختلف ادوار میں ایک سے زائد مصنفین کے ہاتھوں پایۂ تکمیل کو پہنچی ہے۔[3] یہ کتاب پانچ ذیلی کتابوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر کتاب دو ابواب پر محیط ہے۔ نیز اس میں استدلال کے اصولوں، منطق، علمیات اور مابعد الطبیعیات سے متعلق کل 528 حکیمانہ سوتر موجود ہیں۔[5][6][7]

نیائے سوتر ایک ہندو تصنیف ہے،[حاشیہ 1] جس میں علم و منطق پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور یہی اس کتاب کی وجہ امتیاز ہے۔ کتاب میں ویدک رسومات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔[9] کتاب اول عمومی تعارف اور علم کے سولہ زمروں کی فہرست پر مشتمل ہے۔[3] کتاب دوم پرمان (علمیات) پر ہے، کتاب سوم "پرے مئے" یا علم کے موضوعات سے متعلق ہے جبکہ بقیہ کتابوں میں علم کی ماہیت پر بحث کی گئی ہے۔[3] صداقت و استناد کے تجرباتی نظریہ پر جو نیائے روایت وجود میں آئی تھی، اس کی بنیاد اسی نیائے سوتر نے رکھی تھی۔ نیائے سوتر اس امر پر بھی زور دیتی ہے کہ کسی بات کے مستند ہونے کے لیے وجدان کو اس کا بھلا معلوم ہونا یا مذہبی صحائف میں اس کا مذکور ہونا کافی نہيں۔[10]

نیائے سوتر خاصی بڑی تعداد میں اور متفرق موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں، جن میں "ترک ودیا" یعنی منطق یا "واد ودیا" یعنی علم الجدل بالخصوص قابل ذکر ہے۔[11] نیز نیائے سوتر کا تعلق ویشیشک کے علمیاتی اور مابعد الطبیعیاتی نظام سے بھی ہے لیکن یہ اسے مزید وسعت دیتے ہیں۔[12] بعد میں لکھی جانے والی شروحات نے نیائے سوتروں کی وضاحت، تشریح اور ان پر بحث و مباحثہ جاری رکھا۔ ان میں قدیم ترین دستیاب شرح پکشل سوامن واتسیاین (पक्षिलस्वामिन वात्स्यायन) (پانچویں سے چھٹی صدی عیسوی) ہے، جس کے بعد ادیوتکر کی "نیائے وارتک" (چھٹی سے ساتویں صدی عیسوی)، واچسپتی مشرا کی "تاتپریہ ٹیکا" (نویں صدی عیسوی)، ادین کی "تاتپریہ پَری شدّہی" (دسویں صدی عیسوی) اور جینت بھٹ کی "نیائے منجری" (دسویں صدی عیسوی) جیسی اہم شروحات منظر عام پر آئیں۔[13][14][15]

مصنف اور عہد مصنف

[ترمیم]

اکشپاد گوتم کو نیائے سوتر کا مصنف کہا جاتا ہے اور یہ امر یقینی ہے کہ اکشپاد اس کے پہلے مصنف تھے۔[3] کارل پوٹر کے مطابق یہ نام ہندوستان میں بہت عام رہا ہے[16] اور اس کے مصنف کو از راہ عقیدت گوتم، دیرگھ تپس اور اکش پاد گوتم کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔[3] گوتم کے سوانح زندگی اور ان کے عہد کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ کتاب کے تجزیے پر مبنی علمی اندازے چھٹی صدی قبل مسیح (جو انھیں گوتم بدھ اور مہاویر کا ہم عصر قرار دیتے ہیں) سے لے کر دوسری صدی عیسوی تک کا احاطہ کرتے ہیں۔[3] بعض ماہرین اس نظریے کو ترجیح دیتے ہیں کہ نیائے سوتر جیسی دقیق کتاب میں وقت کے ساتھ ساتھ متعدد مصنفین نے اضافہ کیا،[3] جس کا اولین متن قبل مسیح کے پہلے ہزارے کے وسط سے تعلق رکھتا ہے اور اسے گوتم نے مرتب کیا تھا۔[16] یہ غالب امکان ہے کہ اس کتاب کی پہلی اور پانچویں جلد قدیم ترین ہے، جبکہ تیسری اور چوتھی جلد کو سب سے آخر میں شامل کیا گیا ہوگا، لیکن یہ یقینی نہیں ہے۔[16]

صورت حال کا خلاصہ کافی حد تک اطمینان کے ساتھ یوں کیا جا سکتا ہے کہ ہمیں اس بارے میں معمولی سا اندازہ بھی نہیں ہے کہ نیائے سوتر کس نے لکھی یا وہ کب زندہ تھا۔

— کارل پوٹر، The Encyclopedia of Indian Philosophies[16]

جینین فاؤلر بیان کرتی ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ نیائے اور علمِ استدلال کی جڑیں ویدک عہد تک پھیلی ہوئی ہوں؛ یہ قدیم ہندوستانی روایت میں پروان چڑھا جس میں "بادشاہوں کے درباروں اور ویدک فلاسفہ کے مکاتب میں بحث و مباحثے کے مقابلے" منعقد ہوتے تھے اور گوتم وہ شخصیت تھے جنھوں نے اس پہلے سے موجود علم کو نچوڑ کر سوتروں کی شکل میں ترتیب دیا۔ انھی سوتروں کو نیائے سوتر کا نام دیا گیا۔[17]

ہندومت کے نیائے مکتب فکر نے ہندو فلسفہ کے دیگر تمام مدارس کے ساتھ ساتھ بدھ مت کو بھی متاثر کیا۔ اپنے اختلافات کے باوجود ان ماہرین نے ایک دوسرے سے تعلیم حاصل کی اور مختلف نظریات پر بحث کی؛ تبتی ریکارڈ یہ بتاتے ہیں کہ بودھ گیانیوں نے فن منطق و استدلال میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ہندو نیائے دانش وروں کے پاس برسوں قیام کیا۔[5] اس تعاون نے محققین کو نیائے سوتر کے موجودہ نسخہ کی ترتیبِ زمانی کو قبل از تکمیل کی تاریخ یعنی دوسری صدی عیسوی تک محدود کرنے میں مدد دی ہے، کیونکہ اس دور کے مشہور ترین اور مستند بودھ دانش ور ناگ ارجن واضح طور پر لکھتے ہیں کہ "سوتر 4.2.25 میں بدھ مت کے مدھمیک نظام کی تردید کی گئی ہے"۔[16] دیگر قدیم بودھی متون اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نیائے سوتر ان سے پہلے موجود تھی اور یہ کتاب ہندومت کے قدیم نیائے مکتب فکر کی اساسی کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔[18]

بنیادی ڈھانچہ

[ترمیم]

حقیقت ہی سچائی (प्रमा) ہے اور جو سچ ہے وہ سچ ہی رہتا ہے،
قطع نظر اس سے کہ ہم اس کے وجود سے واقف ہیں یا اس سچائی سے باخبر ہیں۔

نیائے سوتر میں اکشپاد گوتم[19]

یہ کتاب "سوتر" کے اسلوب نگارش میں لکھی گئی ہے۔ "سوتر" سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی "ڈوری یا دھاگہ" کے ہیں، یہ لفظ کسی مخصوص شعبے یا مکتبِ فکر کے علم کی مختصر رہنما کتاب کی نمائندگی کرتا ہے۔[20][21] ہر "سوتر" ایک مختصر اصول کی مانند ہوتا ہے، جیسے چند الفاظ یا ابجد میں سمویا ہوا کوئی کلیہ، جس کے گرد "مذہبی رسومات، فلسفہ، صرف و نحو یا علم کے کسی بھی شعبے کی تعلیمات" بنی جا سکتی ہیں۔[20][22] سوتروں کو اس لیے مرتب کیا گیا تھا تاکہ انھیں یاد رکھا جا سکے، حوالے کے طور پر استعمال کیا جائے اور ایک نسل سے دوسری نسل تک نظریات کی تعلیم و ترسیل میں مدد مل سکے۔[21][23]

نیائے سوتر پانچ کتابوں میں منقسم ہے اور ہر کتاب مزید دو ابواب میں تقسیم ہے۔ پوٹر کے بیان کی رو سے اس کتاب کا ڈھانچہ "آہنِکوں" (आह्निक) یا یومیہ اسباق کی صورت میں ترتیب دیا گیا ہے، جہاں ہر حصہ متعدد سوتروں یا اقوالِ حکمت پر مشتمل ہے۔[18] اس کتاب کو "پرَکرنوں" (प्रकरण) یا موضوعات کے لحاظ سے بھی مرتب کیا گیا ہے جنھیں بعد کے شارحین مثلاً واتسیاین اور واچسپتی مشرا نے اپنے "بھاشیہ" (भाष्य) لکھنے کے لیے استعمال کیا؛ یہ وہ قدیم متون ہیں جو آج تک محفوظ ہیں۔[18] نیائے سوتر کے مختلف نسخے ملتے ہیں جن میں سوتروں کی تعداد میں معمولی اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں "چوکھمبا" (Chowkhamba) ایڈیشن زیادہ مقبول ہے۔[18]

نیائے سوتر کی ساخت
کتاب باب سوتروں کی تعداد موضوعات[24][25]
1 1 41 کتاب کا موضوع اور مقصد کا بیان۔ علم صحیح کے چار معتبر ذرائع۔ تعریفات۔ بحث کی ماہیت اور معتبر ثبوتوں کی جانچ پڑتال کی نوعیت۔
2 20 مخالفانہ نظریات کا تجزیہ کیسے کیا جائے، پانچ رکنی دلائل کا نظریہ، درست نتائج وہ ہیں جہاں تضادات نہ ہوں، استدلال کے ناقص طریقوں کا نظریہ، لفظی بحث کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے۔
2 1 69 نظریۂ شک۔ علمیات پر بحث، ادراک، قیاس اور موازنہ کب غیر معتبر اور کب معتبر ہوتا ہے۔ یہ نظریہ کہ گواہی کا اعتبار مصدر کے استناد پر موقوف ہے۔ یہ نظریہ کہ ویدوں کی شہادت علم کا ایک مستند ذریعہ ہے اور جہاں تضادات نظر آتے ہیں، وہ یا تو متن کے نقائص ہیں یا دانستہ انتخاب۔ ویدوں کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انھیں تین حصوں میں تقسیم کیا جائے: احکامات، تشریحات اور اعادہ یا تکرار۔
2 71 علم کے چہارگانہ ذرائع، مفروضوں اور تعصب سے پیدا ہونے والی الجھن، یہ نظریہ کہ آواز غیر فانی نہیں ہے، الفاظ کے تین معانی کا نظریہ (ویکتی، آکرتی اور جاتی)۔
3 1 73 جسم کا نظریہ، جس کے بعد حواسِ خمسہ کا نظریہ اور صحیح و غلط علم میں ان کا کردار؛ یہ بیان کہ روح نہ تو کوئی حسی عضو ہے اور نہ کوئی داخلی عضو۔
2 72 روح (ذات، آتما) کا نظریہ، نیز انسان کا جوہر اور فیصلوں کا منبع روح ہے، "فیصلہ غیر ابدی ہے" کا نظریہ، کرم کا نظریہ۔
4 1 68 نقائص کا نظریہ، پھر یہ نظریہ کہ "ہر چیز کا سبب اور نتائج ہوتے ہیں" اور "کچھ چیزیں ابدی ہیں، کچھ غیر ابدی" کا نظریہ۔ ثمرات، دکھ اور نجات کی تعریف و تشریح۔
2 50 یہ بیان کہ نقائص کو ختم کرنے کے لیے صحیح علم ضروری اور کافی ہے۔ کُل اور جز دونوں کا علم ہونا چاہیے۔ اس امر کا اثبات کہ خارجی دنیا موجود ہے اور مظاہر اُتنے ہی حقیقی ہیں جتنی اشیا۔ "ہر چیز باطل ہے" کے نظریے کی تردید۔ صحیح علم پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے طریقے، صاحبِ علم لوگوں کی تلاش اور ان سے گفتگو کی ضرورت۔
5 1 43 24 لاحاصل جوابات، غلطیوں سے کیسے بچا جائے اور درست جواب کیسے دیے جائیں۔
2 24 مباحثہ میں شکست کے 22 طریقے

مندرجات

[ترمیم]
سنسکرت میں اس کتاب کے پہلے دس سوتر

اس کتاب کے پہلے سوتر 1.1.1 میں اپنے دائرۂ کار اور علم کے درج ذیل سولہ زمروں کے متعلق وثوق سے کہا گیا ہے کہ یہ زمرے ذاتی دلچسپی کے کسی بھی میدان میں مہارت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں:[18]

کمال ان سولہ زمروں کی حقیقی نوعیت کے صحیح علم سے حاصل ہوتا ہے: صحیح علم کے ذرائع (پرمان)، صحیح علم کا موضوع (प्रमेय)، شک (संशय)، مقصد (प्रयोजन)، مانوس مثال (दृष्टान्त)، مسلمہ اصول (सिद्धान्त)، استنتاج کے ارکان (अवयव)، استدلال (तर्क)، تحقیق یا نتائج (निर्णय)، بحث (वाद)، مناظرہ (जल्प)، عیب جوئی (वितण्डा)، مغالطے (हेत्वाभास)، لفظی دھوکا یا حیلہ سازی (چھل)، لایعنی جوابات (जाति) اور مباحثہ میں شکست کے طریقے (निग्रहस्थान)۔

— نیائے سوتر، 1.1.1[18][26][27]

علم کے یہ سولہ زمرے اس کتاب کے بہت سے حصوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ نیائے سوتر کا سوتر 1.1.2 اعلان کرتا ہے کہ اس کتاب کا مقصد علم کو مکمل کرنے والے مندرجہ بالا سولہ زمروں کے اطلاق کے ذریعے غلط علم، نقائص اور دکھ سے روح کی نجات کا مطالعہ اور اس کے حصول کو بیان کرنا ہے۔[18][28][29]

علم صحیح کے حصول کے ذرائع

[ترمیم]

نیائے سوتر اس مقدمے پر زور دیتی ہے کہ "ہر علم فطری طور پر معتبر نہیں ہوتا"، "علم کا بڑا حصہ اس وقت تک مستند نہیں جب تک اسے ثابت نہ کر دیا جائے" اور "سچائی کا وجود برقرار رہتا ہے خواہ ہم انسان اسے جانیں یا نہ جانیں"۔[30] تاہم فاؤلر کے مطابق یہ کتاب اس بنیاد کو تسلیم کرتی ہے کہ علم کے ہر شعبے میں "کچھ علم بدیہی ہوتا ہے" اور مسلمہ حقیقت کے طور پر موجود ہوتا ہے، جسے نہ تو ثابت کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً "میں باشعور ہوں"، "میں سوچتا ہوں" اور "روح موجود ہے"۔[30][31] مزید برآں یہ کتاب اپنا یہ نظریہ پیش کرتی ہے کہ علم خود بخود ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ علم حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے اور یہ ایک باضابطہ عمل ہے جو انسان کو صحیح علم سیکھنے اور غلط علم کو ترک کرنے کے قابل بناتا ہے۔[30][32]

نیائے سوتر کتاب علم حاصل کرنے کے چار معتبر ذرائع (پرمان) ادراک، استنتاج، موازنہ اور معتبر شہادت سے بحث کرتی ہے۔[33][24]

پرتیکش: ادراک

[ترمیم]

نیائے سوتر کے مطابق ادراک سچا علم حاصل کرنے کا بنیادی اور موزوں ترین ذریعہ ہے۔[30] اس کتاب کے مطابق دیگر تمام علمیاتی طریقے بلاواسطہ یا بالواسطہ ادراک پر مبنی ہیں اور جس چیز کے بھی "سچا علم" ہونے کا دعویٰ کیا جائے، اس کی تصدیق ادراک سے ہونی چاہیے یا وہ ادراک کے ذریعے تصدیق کے قابل ہونی چاہیے۔[30] یہ کتاب اسے "نظریۂ ارتکاز" کا نام دیتی ہے، اس نظریے میں براہِ راست یا مضمر ادراک شامل ہے۔[32] گوتم ادراک کی تعریف اس علم کے طور پر کرتے ہیں جو ایک یا ایک سے زیادہ حواس کے کسی شے یا مظہر کے ساتھ تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔[30][34] گوتم نے ادراک کے عمل میں موضوع (Subject) اور معروض (Object) دونوں پر بحث کرنے کے لیے کئی سوتر وقف کیے ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ حواس کب ناقابلِ اعتبار ہو سکتے ہیں۔ نیائے سوتر کے مطابق بینائی کی لغزش یا دیگر حواس کی خطا (अव्यभिचार) شک یا باطل علم کا باعث بن سکتی ہے، جیسا کہ پہلے سے قائم رائے یا متعصبانہ ذہنی کیفیت بھی غلط علم کا سبب بنتی ہے۔[30][34][32]

یہ کتاب دعویٰ کرتی ہے کہ "پرتیکش" سے "لوکِک" یا عام علم حاصل ہوتا ہے، جہاں پانچ حواس براہِ راست اور واضح طور پر کسی حقیقت کو پاتے ہیں اور کتاب کے مطابق یہی حقیقی قطعی علم ہے۔[30][32] یہ غیر یقینی علم کی تعریف اس طرح کرتی ہے جہاں شک موجود ہو اور کتاب اس کی مثال یہ دیتی ہے کہ شام کے وقت دور سے کسی ساکت شے کو دیکھ کر یہ سوچنا کہ آیا یہ کوئی ستون ہے یا دور کھڑا کوئی آدمی۔ نیائے سوتر کے مطابق ان میں سے بعض صورتوں میں صحیح علم "مجموعی شہادت" کے اصول سے تشکیل پاتا ہے۔[30] اس کتاب میں "من" (ذہن) کو ایک داخلی حس سمجھا گیا ہے اور یہ اس بات پر منحصر ہے کہ یہ معلومات کو کس طرح شامل، خارج یا اکٹھا کرتا ہے، جس سے یہ صحیح یا غلط علم کی طرف لے جا سکتا ہے۔[30] یہ تمام افکار کتاب کے بعد کے ابواب میں "اپرمان" (نظریہِ اغلاط) کے عنوان سے مرتب کیے گئے ہیں۔[30][32]

انومان: قیاس

[ترمیم]

استنتاج وہ علم ہے جس سے پہلے ادراک ہوتا ہے اور اس کی تین اقسام ہیں:
ماقبل (a priori)، مابعد (a posteriori) اور عام مشاہدہ۔

— نیائے سوتر 1.1.5[35]

علم کے معتبر ذریعے کے طور پر قیاس کا علمی جواز اور نیائے کا یہ نظریہ ہندوستانی فلسفے (درشن پرمپرا) کے متنوع مکاتب فکر کے لیے ایک اہم پیش رفت رہا ہے اور دیگر مکاتب فکر نے استنتاج کے ذریعے صحیح اور غلط علم کی تمیز سیکھنے کے لیے نیائے کے ماہرین کی طرف رجوع کیا۔[36] نیائے سوتر میں استنتاج پر مبنی حصے وقت کے ساتھ ساتھ "منطقی قضیہ" (Syllogism) کے ایک جامع رسالے کی شکل اختیار کر گئے۔[36]

نیائے سوتر استنتاج کی تعریف اس علم کے طور پر کرتی ہے جو کسی دوسرے علم کے بعد حاصل ہو یا اس سے اخذ کیا گیا ہو۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ یہ ہمیشہ ادراک کے بعد آتا ہے اور یہ ایک آفاقی رشتہ یا اساسی اصول ہے۔ استنتاج کی ایک شکل "پورووَت" (पूर्ववत्) ہے یا جیسا کہ فاؤلر ترجمہ کرتی ہیں: "علت سے معلول کی طرف"۔[36] چنانچہ کتاب کے مطابق اگر کوئی راستہ یا سڑک گیلی ہے یا دریا چڑھا ہوا ہے، تو "بارش ہوئی ہے" کا نتیجہ نکالنا ایک معتبر علم ہے۔[36] سوتروں کا دعویٰ ہے کہ صحیح اور معتبر علم کے لیے دونوں کے درمیان "آفاقی رشتہ" ضروری ہے، یعنی "اگر الف کی تمام صورتوں میں ب سچ ہے تو جب بھی الف کا ادراک ہوگا، ب کا استنتاج درست ہوگا"۔[36] مزید یہ کہ دونوں کے درمیان ایک علتی تعلق ہوتا ہے، خواہ کوئی اس علت کو جانے یا نہ جانے، لیکن نیائے سوتر کے مطابق استنتاج شدہ علم کے معتبر ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انسان اس کی علت سے بھی واقف ہو۔[36][37] کتاب میں درج ہے کہ محض "ساتھ پائے جانے" (coexistence) سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے درمیان آفاقی رشتہ ہے، نیز اگرچہ استخراج (Deduction) اور استقرا (Induction) دونوں ہی سچا علم حاصل کرنے کے مفید اور معتبر ذرائع ہیں، تاہم یہ کتاب ان اصولوں کی فہرست بھی دیتی ہے جب یہ طریقہ غلط علم کی طرف لے جا سکتا ہے۔[38]

اپمان: موازنہ اور تمثیل

[ترمیم]

لفظ "اپمان"، فاؤلر کے مطابق، "اپ" (مماثلت) اور "مان" (علم) کا مجموعہ ہے۔[39] یہ "مماثلت، موازنہ اور تمثیل" کی بنیاد پر علم حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور اسے نیائے اور ہندوستانی درشن پرمپرا کے کئی مکاتب فکر میں معتبر مانا جاتا ہے (لیکن ویشیشک، چارواک یا بدھ مت میں نہیں)۔[40][41]

نیائے سوتر "اپمان" کی تعریف کسی ایسی چیز کے علم کے طور پر کرتی ہے جو "کسی دوسری مانوس چیز سے اس کی مشابہت" پر مبنی ہو۔[39][42] یہ "انومان" (قیاس) سے اس طرح مختلف ہے کہ اس میں براہِ راست یا فوری علتی تعلق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کتاب کے مطابق یہ "پرتیکش" (ادراک) سے اس طرح مختلف ہے کہ اس میں لسانی حوالے (Linguistic referent) اور فرد کے اندر پہلے سے موجود علم کی بنیاد استعمال ہوتی ہے جو اس نے اپنے اساتذہ، دوستوں، خاندان اور بزرگوں سے وراثت میں ملنے والے علم اور سماجی تعاون کے عمل سے سیکھا ہوتا ہے۔[39][43] "اپمان" کا طریقہ ثانوی ہے، یہ لسانی حوالے اور سیاق و سباق کے ساتھ مل کر ادراک پر انحصار کرتا ہے۔[39][43] موازنہ کوئی الگ تھلگ "پرمان" نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات یہ "انومان" اور "شبد" کے علمی طریقوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔[44] نیائے سوتر میں موازنہ وہ عمل ہے جو مفروضوں، مثالوں اور آزمائشوں کو جذب کرنے کا کام کرتا ہے، جس سے کسی نئی چیز اور اس چیز کے بارے میں جس کے بارے میں پہلے سے علم کا گمان ہو، معروضی اور صحیح علم حاصل ہوتا ہے۔[45][46]

شبد: شہادت اور معتبر ذرائع

[ترمیم]

شَبد نیائے سوتر میں کسی لفظ یا کسی معتبر ذریعے کی شہادت پر بھروسا کرنے کو کہتے ہیں۔[47][48] ہندومت کے تمام روایتی مکاتب فکر بشمول نیائے میں "شبد پرمان" کو علم کا ایک تسلیم شدہ اور معتبر طریقہ مانا گیا ہے، جس کا استدلال یہ ہے کہ ایک انسان کو لاتعداد حقائق جاننے کی ضرورت ہوتی ہے اور دستیاب محدود وقت اور توانائی کے ساتھ وہ ان حقائق اور سچائیوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی براہِ راست سیکھ سکتا ہے۔[49][50] اسے دوسروں، اپنے والدین، خاندان، دوستوں، اساتذہ، آبا و اجداد اور معاشرے کے ہم خیال افراد پر بھروسا کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ تیزی سے علم حاصل کر سکے اور اسے دوسروں کے ساتھ بانٹ کر ایک دوسرے کی زندگیوں کو مالامال کر سکے۔ صحیح علم حاصل کرنے کا یہ ذریعہ یا تو زبانی ہوتا ہے یا تحریری، لیکن یہ "شبد" (الفاظ) کے ذریعے ہی ممکن ہے۔[49][50] الفاظ کے علاوہ، نیائے سوتر کے مطابق، سچے علم کے ذریعے کے طور پر "شبد" اس بات پر موقوف ہے کہ الفاظ کے معنی، جملوں کی ساخت، سیاق و سباق کے تعین اور ان کے مفہوم پر ایک متفقہ روایت موجود ہو۔[50] منبع کا معتبر اور قابلِ فہم ہونا بھی ضروری ہے، نیز علم حاصل کرنے والے کو اس منبع سے حاصل ہونے والے علم کو سمجھنے کے قابل ہونا چاہیے۔[50][51]

منبع کا استناد نہایت اہم ہے اور جائز علم صرف مستند ذرائع کے "شبد" سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔[49][48] ہندوستانی درشن پرمپرا کے مکاتب فکر میں اس بات پر بحث ہوئی کہ آیا مصدر و منبع کے اعتبار کو معروضی طور پر کیسے اور کب قائم کیا جا سکتا ہے۔ گوتم نے نیائے سوتر میں ایک معتبر ذریعے کی تعریف پیش کی ہے۔[50][52] بعض مکاتب فکر مثلاً چارواک وغیرہ کا کہنا ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں ہے اور اسی لیے ویدوں یا کسی اور کے "شبد" کبھی درست "پرمان" نہیں ہو سکتے۔ دیگر مکاتب فکر اعتبار قائم کرنے کے ذرائع پر بحث کرتے ہیں۔[53]

درست استدلال کا نظریہ

[ترمیم]

یہ کتاب اپنے سوتر 1.1.32 اور 1.1.39 میں معتبر دلائل کا نظریہ پیش کرتی ہے، جس کے مطابق ایک معتبر دلیل پانچ اجزا پر مشتمل ہونی چاہیے:[54][55]

  1. پرتگیا (प्रतिज्ञा) – دعویٰ یا مفروضہ (جسے ثابت کرنا یا جس کا فیصلہ کرنا مقصود ہو)
  2. ہیتو (हेतु) – وجہ یا علت (جو مثبت یا منفی ہو سکتی ہے)
  3. اُداہرن (उदाहरण) – عمومی قاعدہ یا مثال (جس کی آزادانہ طور پر تصدیق ہو چکی ہو یا جو تصدیق کے قابل ہو)
  4. اپنئے (उपनय) – قاعدے کا اطلاق (صداقت کی جانچ یا اس مخصوص صورت پر مثال کا نفاذ)
  5. نگِمن (निगमन) – نتیجہ (جس سے یہ واضح ہو کہ مفروضہ درست، غلط یا مشکوک ہے)

کتاب ان میں سے ہر ایک کی تعریف کرتی ہے اور حکیمانہ انداز میں ان پر بحث کرتی ہے۔[54]

درست استدلال کی ایک مثال درج ذیل ہے:[56]

  1. پہاڑی پر آگ لگی ہے۔ (دعویٰ)
  2. کیونکہ پہاڑی پر دھواں اٹھ رہا ہے۔ (وجہ)
  3. جہاں کہیں دھواں ہوتا ہے، وہاں آگ ہوتی ہے۔ (عمومی قاعدہ)
  4. پہاڑی پر دھواں موجود ہے۔ (اطلاق)
  5. لہٰذا پہاڑی پر آگ لگی ہے۔ (نتیجہ)

شک اور نامکمل علم کا نظریہ

[ترمیم]

نیائے سوتر میں سنشے (संशय، شک) کی تعریف اور اس پر بحث دیگر مقامات کے علاوہ سوتر 1.1.23، 2.1.1 سے 2.1.7 تک، 3.2.1 اور 4.2.4 میں کی گئی ہے۔[57] یہ بحث ہندو فلسفے کے دیگر مکاتب فکر میں پائی جانے والی بحثوں سے مماثلت رکھتی ہے اور ویشیشک مکتب فکر میں کناڈ کے پیش کردہ شک کے نظریے کی توسیع کرتی ہے، تاہم یہ چارواک کے نظریۂ شک اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس خیال سے اختلاف کرتی ہے کہ "تجرباتی علم کبھی حاصل ہی نہیں ہو سکتا"۔[58][59]

نیائے سوتر کے مطابق شک کا نظریہ اس مقدمے سے شروع ہوتا ہے کہ شک انسان کے عمل تعلم کا ایک حصہ ہے اور یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی معلوم شے کے بارے میں متصادم امکانات موجود ہوں۔[60] شک نہ تو کوئی غلطی ہے اور نہ علم کی عدم موجودگی، بلکہ یہ غیر یقینی صورت حال کی ایک شکل ہے اور ادھوری یا متضاد معلومات کی صورت میں امکانات کے ساتھ انسانی کشمکش کا نام ہے۔[60] یہ ایک ایسا علم ہے جو جزوی طور پر معتبر اور جزوی طور پر غیر معتبر ہو سکتا ہے، لیکن شک علم کی ایک ایسی شکل ہے جس کی اپنی ایک مثبت قدر ہے۔[60] کتاب اس بات پر زور دیتی ہے کہ شک دراصل "مزید تحقیق کی طرف بڑھنے" کی ایک دعوت ہے۔ ان سوتروں کے مطابق تحقیق کے اس عمل میں حصول علم کے چاروں ذرائع (ادراک، قیاس، موازنہ اور شہادت) مفید ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن شک بیک وقت ایک نفسیاتی کیفیت اور علم تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے، یہ بذاتِ خود کوئی معتبر علم نہیں ہے۔[60][59]

ہیت وابھاس، مغالطوں کا نظریہ

[ترمیم]

نیائے سوتر غلطی یا خطا کی تعریف اس علم، رائے یا نتیجے کے طور پر کرتی ہے جو کسی شے کی اصل حقیقت سے مختلف ہو۔[36] گوتم اس کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ غلطی ہمیشہ ادراک کے عمل یا "داخلی ذات" (Subjective self) میں ہوتی ہے، معروض (Object) میں نہیں۔[36][61] یہ طالب علم کا فرض ہے کہ وہ اپنے مفروضوں اور تجربات کے ذریعے اپنے علم کی صداقت کی جانچ کرے؛ نہ تو علم کا معروض اور نہ بذاتِ خود علم غلطیوں کا ذمہ دار ہے، بلکہ صرف طالبِ علم اور اس کے ادراک کا طریقۂ کار اس کا ذمہ دار ہے۔[36][61] راؤ کے مطابق مغالطے کے نظریے پر نیائے کے افکار ادویت ویدانت، بدھ مت اور میمانسا کے مکاتب فکر سے مماثلت رکھتے ہیں اور ان مدارس نے غالباً ایک دوسرے پر اثر ڈالا ہے۔[62]

یہ کتاب اپنے سوتر 1.2.4 میں پانچ طرح کے استدلالی مغالطوں (हेत्वाभास) کی نشان دہی اور ان سے بچنے کی تاکید کرتی ہے اور بعد کے سوتروں میں ان پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ یہ مغالطے غلط علم کی طرف لے جاتے ہیں، جبکہ درست استدلال (हेतु) علم صحیح کا سبب بنتا ہے۔[63] نیائے سوتر کے مطابق ان پانچ مغالطوں سے بچنا ضروری ہے اور ساتھ ہی ان مناظرانہ چالوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جنھیں وہ لوگ استعمال کرتے ہیں جن کا مقصد سچا علم حاصل کرنا نہیں ہوتا۔[63] گنیری کے مطابق اس کتاب میں بیان کردہ پانچ جعلی استدلال یہ ہیں:[64][65]

  1. آوارہ یا بے قاعدہ استدلال (نیائے سوتر 1.2.5)[66]
  2. متضاد استدلال (نیائے سوتر 1.2.6)[66]
  3. غیر ثابت شدہ استدلال (نیائے سوتر 1.2.8)[66]
  4. جوابی استدلال (نیائے سوتر 1.2.7)[66]
  5. بے وقت یا غیر موزوں استدلال (سارا وقت حد سے زیادہ عمومی یا مسترد شدہ استدلال، نیائے سوتر 1.2.9)[66][67]

نظریۂ علیت

[ترمیم]

نیائے سوتر میں علیت اور علتی تعلقات (کارن، कारण) پر کئی ابواب وقف کیے گئے ہیں، بالخصوص کتاب کی چوتھی جلد اس موضوع کے لیے مخصوص ہے۔[68][69] فاؤلر کے مطابق نیائے کے نقطہ نظر سے اسباب اپنے معلولات کے لیے "لازمی اور غیر مشروط طور پر مقدم" ہوتے ہیں۔[70] ایک مخصوص معلول ایک مخصوص سبب سے پیدا ہوتا ہے (اسباب میں کثرت کو تسلیم کیا گیا ہے)۔ ایک مخصوص سبب ایک مخصوص معلول ہی پیدا کرتا ہے اور کوئی دوسرا نہیں (معلول میں کثرت یا متضاد معلول کو تسلیم نہیں کیا گیا)۔ سبب کے لیے کوئی باہمی تبادلہ (Reciprocity) نہیں ہو سکتا؛ یا تو ہم سبب کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں یا معلول کو پانے میں۔[70] یہ کتاب بعید یا مافوق الفطرت اسباب کو مسترد کرتی ہے اور اس بات کو بھی رد کرتی ہے کہ صفات (Qualities) اسباب ہو سکتی ہیں۔ اسباب فوری طور پر مقدم ہوتے ہیں، اسباب وقت کے لحاظ سے معلول سے پہلے موجود ہوتے ہیں اور کسی چیز کو جاننے کا مطلب معلول اور اس کے مخصوص سبب یا اسباب کو سمجھنا ہے۔[70][71]

یہ کتاب اسباب کی تین اقسام کی نشان دہی کرتی ہے – خلقی یا مادی سبب (समवायिकारण)، غیر خلقی سبب (असमवायिकारण) اور محرک سبب (निमित्तकारण)۔[72] کتاب کے مطابق، یہ اسباب درویہ (جوہر)، گن (صفت) اور کرم (عمل) سے پیدا ہوتے ہیں۔[70][73]

نفی کا نظریہ

[ترمیم]

یہ کتاب "منفی وجود" (Negative entities) کے نظریے کی بنیاد رکھتی ہے، جس کے تحت کسی شے کے ہونے اور نہ ہونے، یعنی موجودگی اور عدم موجودگی دونوں کو صحیح اور مفید علم تصور کیا جاتا ہے۔[74] میز پر کسی کتاب کی عدم موجودگی یا کسی تصویر میں مخصوص رنگ کا نہ ہونا، میز یا تصویر کی مثبت طور پر تصدیق شدہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ اس کے علمیاتی عمل میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔[74]

نیائے سوتر میں خدا کا تصور

[ترمیم]

ابتدائی نیائے مکتب فکر کے دانش وروں نے "ایشور" کے اس مفروضے پر غور کیا تھا کہ وہ ایک خالق خدا ہے جو برکات، انعامات اور ثمرات عطا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔[75][76]

نیائے سوتر کی چوتھی جلد کے پہلے باب میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کائنات میں موجود اشیا (زندگی اور مادہ) کی تخلیق اور تباہی کا سبب کیا ہے۔ اس میں "ایشور" سمیت کئی مفروضوں پر غور کیا گیا ہے۔ سوتر 19 سے 21 تک یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایشور موجود ہے اور وہی علت ہے، پھر اس دعوے کے نتیجے کو بیان کیا گیا ہے، اس کے بعد اس کے برعکس شواہد پیش کیے گئے ہیں اور تضاد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ مفروضہ غیر معتبر ہونا چاہیے۔[77]

सिद्धान्तसूत्र : ईश्वरः कारणम्, पुरुषकर्माफल्यदर्शनात्
पूर्वपक्षसूत्र : न, पुरुषकर्माभावे फ्लानिष्पत्तेः
सिद्धान्तसूत्र : तत्कारितत्वादहेतुः

دعویٰ (سدھانت سوتر): ایشور ہی علت ہے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات انسانی عمل ثمر آور (نتائج سے خالی) نہیں ہوتا۔
اعتراض (پورو پَکش سوتر): ایسا نہیں ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی عمل کے بغیر کوئی ثمر حاصل نہیں ہوتا۔
حتمی نتیجہ (سدھانت سوتر): ایسا نہیں ہے، کیونکہ یہ اس (ایشور) کے زیرِ اثر ہے۔

نیائے مکتب فکر کے دوسرے دانش وروں نے اس سوال پر دوبارہ غور کیا اور اس کے دلائل پیش کیے کہ خدا (ایشور) کیا ہے اور ایشور کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے مختلف براہین پیش کیے۔[78] مثال کے طور پر پانچویں صدی عیسوی کے نیائے دانش ور پَرَشَست پاد نے خدا کے تصور پر دوبارہ بحث کی۔ ان کے بعد ادین آئے، جنوں نے اپنی کتاب نیائے کسمانجلی میں نیائے سوتر کے مندرجہ بالا سوتر 4.1.21 میں لفظ "یہ" کی تشریح "انسانی عمل" اور "اسے" کی تشریح "ایشور" سے کی۔ پھر انبوں نے ایشور کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے جوابی دلائل تیار کیے، یہ وہ استدلال تھا جس نے سنہ عیسوی کے دوسرے ہزارے کے نو نیائے (Neo-Nyaya) اور دیگر ہندو روایات میں خدا کے حوالے سے مباحث اور اختلافات کو تقویت دی۔[77][79][80]

روح، ذاتی وجود اور داخلی آزادی

[ترمیم]

روح ان تمام چیزوں کا ادراک کرنے والی ہے جو دکھ اور سکھ لاتی ہیں،
وہ تمام دکھوں اور سکھوں کا تجربہ کرنے والی ہے،
وہ تمام دکھوں، سکھوں اور ان کے اسباب کی جاننے والی ہے اور وہی شعور، علم اور ادراک کی بنیاد ہے۔
روح (ذات) کو پہچانا جا سکتا ہے۔

نیائے سوتر، تشریح از جینین فاؤلر

Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism[81]

نیائے سوتر کی تیسری کتاب کا بڑا حصہ "ذات" (روح، آتما) کے مقدمے، اس کی ماہیت اور علم کے ساتھ اس کے تعلق، دکھوں سے نجات اور داخلی آزادی (موکش) کے لیے وقف کیا گیا ہے۔[81][82]

فلسفہ: یوگا کی ایک شکل

[ترمیم]

اسٹیفن فلپس کے مطابق نیائے سوتر کے سوتر 4.2.42 سے 4.2.48 یہ بیان کرتے ہیں کہ "فلسفہ دراصل یوگا ہی کی ایک شکل ہے"۔[83]

یہ کتاب سوتر 4.2.42 میں پرسکون مقامات جیسے کہ جنگل، غار یا ریت کے ساحل پر یوگا کے مراقبے کی ترغیب دیتی ہے اور سوتر 4.2.46 میں کہا گیا ہے کہ طالب علم کو یوگا کے یم، نیم اور روحانیت کے ذریعے اپنی روح کو پاک کرنا چاہیے۔[84][85] اس کتاب میں مراقبہ کو قابل قدر اور مستحسن عمل بتایا گیا ہے اور اکش پاد گوتم کے بعد آنے والے نیائے دانش وروں نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔[86] مثال کے طور پر واتسیاین نے نیائے سوتر کی اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ مراقبہ وہ عمل ہے جو ذہن کو اپنی روح سے جوڑنے کے قابل بناتا ہے، جس کے ساتھ سچائی تک پہنچنے کا شعوری اشتیاق بھی شامل ہوتا ہے؛ ایسا مراقبہ سچا علم حاصل کرنے کے لیے ایک لازمی مشق ہے۔[86]

نیائے سوتر کے سوتر 4.2.47 اور 4.2.48 میں درج ہے کہ انسان کو صحیح علم حاصل کرنے کے ذرائع کا مطالعہ کرنا چاہیے اور دوسرے صاحب علم، مخلص اور حسد سے پاک طالب علموں سے بحث و مباحثہ کرنا چاہیے۔[84][85] فلپس کے ترجمے کے مطابق، نیائے سوتر کی رو سے اپنی گفتگو کی نوعیت کا فیصلہ کرتے وقت انسان کو "ذاتی کردار کے ساتھ ساتھ مخالف کے عقائد کی نوعیت" کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔[87] کتاب اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ بعض صورتوں میں معاندانہ رویہ رکھنے والے مخالفین سے بحث سے بچنا ہی بہتر ہے اور علم کے تحفظ کے لیے ایسے طریقے استعمال کرنے چاہئیں جیسے "بیجوں کی نشو و نما کی حفاظت کے لیے باڑ لگائی جاتی ہے"۔[84][85]

تفاسیر

[ترمیم]

نیائے سوتر کی قدیم ترین اور مکمل دستیاب بھاشیہ (جائزہ اور تفسیر) واتسیاین کی تحریر کردہ ہے۔[3] خود اس تفسیر کے بھی کئی ثانوی اور ثلثی بھاشیے لکھے گئے۔ واتسیاین کی اس تفسیر کا زمانہ باختلاف آرا پانچویں صدی عیسوی[3] یا اس سے بہت پہلے تقریباً دوسری صدی قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔[13] اس کتاب کی دستیاب ایک اور مقبول تفسیر نویں صدی عیسوی کے قریب واچسپتی مشرا سے منسوب ہے۔[3]

دنیا کی حقیقی نوعیت کے علم کے بغیر نجات ناممکن ہے۔ نجات حاصل کرنے اور روح کو جاننے کے لیے انسان کو یوگا کی مشقوں میں پناہ لینی چاہیے، کیونکہ اس علم کے بغیر حقیقتِ اصلیہ کا علم حاصل نہیں ہوتا۔

— اکش پاد گوتم نیائے سوتر میں[86]

نیائے سوتر سے متاثر دوسری تاریخی ہندوستانی تفاسیر اور تصانیف جو اب تک دستیاب ہیں، ان میں چھٹی صدی عیسوی کے ادیوتکر کی "نیائے وارتکا"، چھٹی صدی عیسوی کے بھوی وِکت کی "نیائے بھاشیہ ٹیکا"، ساتویں صدی کے اوِدھ کرنا کی ایک اور "نیائے بھاشیہ ٹیکا"، نویں صدی کے بھاسر وگیہ کی "نیائے بھوشن"، نویں صدی کے کشمیری دانش ور جینت بھٹ کی "نیائے منجری"، دسویں صدی کے کرناٹکی دانش ور تری لوچن کی "نیائے پرکِرنکا" اور دسویں صدی کے بنگالی دانش ور سری دھر کی "نیائے کندلی" نمایاں ہیں۔[13][14]

دوسری بہت سی تفاسیر کا حوالہ ہندوستان کی تاریخی کتابوں میں ملتا ہے، لیکن ان کے نسخے یا تو ضائع ہو چکے ہیں یا ابھی تک دریافت نہیں ہو پائے۔ گیارھویں سے بارھویں صدی عیسوی کے آس پاس اُدین نے ایک بنیادی کتاب تحریر کی جس نے نیائے سوتر میں موجود استدلال پر اپنی بنیاد رکھی اور اس کے نظریات کو مزید فروغ دیا۔ اُدین کی تصنیف نے نو نیائے مکتب فکر کی بنیاد فراہم کی۔[5] تیرھویں یا چودھویں صدی کے ہندو دانش ور گنگیش نے گوتم کی نیائے سوتر اور اُدین کی نو نیائے کاوش کو یکجا کر کے ایک اہم کتاب تتو چنتامنی تالیف کی، جسے ہندو دانش وران ایک شاہکار کتاب تسلیم کرتے ہیں۔[5][88]

اثرات

[ترمیم]

آتما اور ان آتما کے مباحث پر اثرات

[ترمیم]

نیائے سوتر ان تاریخی مباحث کی بنیادوں میں سے ایک رہی ہے جو ہندومت کے اس مقدمے کہ پرش (روح، حقیقتِ اصلیہ) اور آتما (ذات، روح) کا وجود ہے اور بدھ مت کے اس مقدمے کہ کائنات میں خلا (شونیتا) اور ان آتما (روح کا عدم وجود) ہے، کے درمیان جاری رہے۔[89][90][91] نیائے سوتر کے کئی ابواب، جیسے کہ باب 3.2، 4.1 اور 4.2 کے سوتروں میں بدھ مت کے مقدمات اور ان کی تردید کے دلائل ملتے ہیں۔[حاشیہ 2] یہ کتاب اس بحث میں نہایت موثر رہی۔ دوسری صدی کے بودھی دانش ور ناگ ارجن بیان کرتے ہیں کہ نیائے مکتب فکر اور بدھ مت کے درمیان روح (آتما) کے تصور اور ویدوں کے بارے میں نظریات پر اختلاف ہے اور نیائے سوتر کے سوتر 4.2.25 میں بدھ مت کے مادھمک نظام پر اعتراض کیے گئے ہیں۔[16][حاشیہ 3]

ناگ ارجن کی تصنیف "مادھمک کارکا"، دیگر ہندو کتابوں کے ساتھ ساتھ نیائے سوتر کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بناتی ہے تاکہ وہ اپنے غیر ذات اور خلا کے نظریے کو قائم کر سکیں۔ اس کتاب اور "وِگرہ ویا وَرتنی" میں وہ نیائے سوتر کی بنیاد میں موجود "پرمانوں" (علم کے ذرائع) کو چیلنج کر کے خلا کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔[92][96][97] اپنی تصنیف "پرمان وِہیتن" میں ناگ ارجن، گوتم کی نیائے سوتر میں موجود علم کے ان تمام سولہ زمروں کا جائزہ لیتے ہیں جو نیائے کی اس بحث کی بنیاد ہیں کہ "روح موجود ہے اور نجات کے عمل میں روح کی ماہیت کیا ہے"۔ وہ ان پر یہ کہتے ہوئے تنقید کرتے ہیں کہ یہ زمرے اضافی ہیں اور اسی وجہ سے غیر حقیقی ہیں۔ سنجیت سادھوکھان کے مطابق ناگ ارجن کی تصانیف اور گوتم کی نیائے سوتر نے واتسیاین کے کام کو متاثر کیا، جنجوں نے ناگ ارجن کے نظریہ خلا کو ناقص قرار دیا ہے اور ان کے اس نظریے کی تردید میں دلائل پیش کیے کہ "علم کے معروضات غیر حقیقی ہیں، جیسے کوئی خواب، جادوگری کا کرتب یا سراب"۔ تاہم ایسا کرنے سے پہلے انھوں نے یہ ثابت کیا کہ نیائے سوتر میں موجود استدلال اور علم کا نظریہ معتبر ہے۔[92][98]

بدھ مت کا یہ مقدمہ کہ تمام اشیا اپنی فطرت میں منفی ہیں (کیونکہ کسی شے کی ماہیت دیگر اشیا سے اس کے فرق سے متعین ہوتی ہے) یا ہندو مکتب فکر کا وہ مقدمہ جو بدھ مت کے اس نظریے کی تردید کرتا ہے، کس حد تک قبول کیے گئے ہیں، یہ اب بھی غیر واضح ہے؛ کیونکہ عدمیت (nothingness) کو ثابت نہیں کیا جا سکتا اور روح کے وجود کا دعویٰ خالصتاً ذاتی احساس اور تجربے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔[حوالہ درکار]

ویدانتی روایات پر اثرات

[ترمیم]

نیائے سوتر ہندو فلسفے کے ویدانتی مکاتب فکر کے لیے نہایت موثر رہی ہے اور اس نے ان مکاتب فکر کو علمیاتی بنیادیں فراہم کی ہیں۔[99][100] ہاجیمے ناکامورا کے مطابق قبل مسیح کے پہلے ہزارے کی ابتدائی دھرم سوتروں میں "نیائے" اور "میمانسا" کے الفاظ ہم معنی تھے۔[101] وقت گزرنے کے ساتھ نیائے، میمانسا اور ویدانت تین الگ الگ لیکن باہم مربوط مدارسِ فکر بن گئے۔[101]

تراجم

[ترمیم]
  • نند لال سنہا، مہامہوپادھیائے ستیش چندر ودیا بھوشن، "The Nyaya Sutras of Gotama"، دی سیکرڈ بکس آف دی ہندوز، 1930ء؛ موتی لال بنارسی داس، 1990ء اشاعتِ نو، ISBN 978-81-208-0748-8؛ منشی رام منوہر لال اشاعتِ نو، 2003ء، ISBN 978-81-215-1096-7۔
  • گنگا ناتھ جھا، "Nyaya- Sutras of Gautama" (چار جلدیں)، موتی لال بنارسی داس، 1999ء اشاعتِ نو، ISBN 978-81-208-1264-2۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حواشی

[ترمیم]
  1. فرانسس کلونی بیان کرتے ہیں: "نیائے ہندو منطق کا روایتی مدرسۂ فکر ہے۔ قبل مسیح کی ابتدائی صدیوں میں نیائے کے علمائے منطق نے دنیا کو ایک مربوط عقلی انداز میں بیان کرنے کا منصوبہ شروع کیا جس میں وحی پر انحصار یا کسی خاص معبود سے وابستگی شامل نہیں تھی۔ گوتم کے نیائے سوتر کو، جو نیائے کی بنیادی کتاب ہے، ایک ایسا غیر جانب دارانہ تجزیہ سمجھا جا سکتا ہے جو خدا کے تصور کی حمایت کرتا ہے، نہ مخالفت"۔[8]
  2. نیائے سوتر کے سوتر 3.2.10–17 بدھ مت کے "ہر چیز کے عارضی ہونے" (momentariness) کے خلاف استدلال پیش کرتے ہیں، جبکہ سوتر 4.1.37–40 بدھ مت کے "ہر چیز کے خلا (شونیتا) ہونے" کے مقدمے کا انکار کرتے ہیں۔ سوتر 4.2.6–4.2.11 اس کے اس مقدمے پر سوال اٹھاتے ہیں کہ "کل اپنے اجزا سے الگ نہیں ہے"، اور سوتر 4.2.26–37 بدھ مت کے ان مقدمات کی تردید کرتے ہیں جن میں "اشیا اور مشاہدہ شدہ حقیقت کے انکار" کی بات کی گئی ہے۔[92]
  3. ہندومت کے دیگر مکاتب فکر کی طرح نیائے مکتب فکر بھی اس مقدمے کا حامل ہے کہ "روح کا وجود ہے، اور روح (یا ذات، آتما) ایک بدیہی سچائی ہے"۔ اس کے برعکس بدھ مت اس مقدمے کا قائل ہے کہ "آتما کا وجود نہیں ہے، اور ان آتما (یا انتّ، غیر ذات)[93] ایک بدیہی حقیقت ہے"۔[94] بدھ مت اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ تمام انسانوں اور جانداروں کے مرکز میں کوئی "ابدی، لازمی اور مطلق چیز ہے جسے روح، ذات یا آتما کہا جائے"۔[95]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Klaus K Klostermaier (1998ء), A concise encyclopedia of Hinduism, Oneworld, ISBN 978-1851681754, page 129
  2. Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, pages vii, 33, 129
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, page 129
  4. B. K. Matilal "Perception. An Essay on Classical Indian Theories of Knowledge" (Oxford University Press, 1986ء), p. xiv.
  5. ^ ا ب پ ت Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, pages 127–136
  6. Ganganatha Jha (1999ء Reprint), Nyaya-Sutras of Gautama (4 vols.), Motilal Banarsidass, ISBN 978-81-208-1264-2
  7. SC Vidyabhushan and NL Sinha (1990ء), The Nyâya Sûtras of Gotama, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120807488
  8. Francis X Clooney (2001ء), Hindu God, Christian God: How Reason Helps Break Down the Boundaries between Religions, Oxford University Press, ISBN 978-0199738724, page 18
  9. Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, page 129; اقتباس: "گوتم کے سوتروں میں علم و منطق پر پوری توجہ دی گئی ہے، ویدک رسومات کا کوئی ذکر نہیں ملتا"۔
  10. Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 3, 1–12
  11. Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 191–199, 207–208
  12. Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, pages 98, 103–104, 128
  13. ^ ا ب پ KK Chakrabarti (1999ء), Classical Indian Philosophy of Mind: The Nyaya Dualist Tradition, SUNY Press, ISBN 978-0791441718, pages 14–15
  14. ^ ا ب Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 8–10
  15. Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 239
  16. ^ ا ب پ ت ٹ ث Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 220–221
  17. Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, pages 128–129
  18. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 221–223
  19. Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, page 130
  20. ^ ا ب Monier Williams, Sanskrit English Dictionary, Oxford University Press, Entry for Sutra, page 1241
  21. ^ ا ب Gavin Flood (1996ء), An Introduction to Hinduism, Cambridge University Press, ISBN 978-0521438780, pages 54–55
  22. M Winternitz (2010ء Reprint), A History of Indian Literature, Volume 1, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120802643, pages 249
  23. David Gordon White (2014ء)۔ The Yoga Sutra of Patanjali: A Biography۔ Princeton University Press۔ ص 194–195۔ ISBN:978-0691143774
  24. ^ ا ب Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 222–238
  25. SC Vidyabhushana (1913ء, Translator), The Nyâya Sutras, The Sacred Book of the Hindus, Volume VIII, Bhuvaneshvar Asrama Press, pages i–v
  26. SC Vidyabhushana (1913ء, Translator), The Nyâya Sutras, The Sacred Book of the Hindus, Volume VIII, Bhuvaneshvar Asrama Press, page 1
  27. Nandalal Sinha (1990ء), The Nyâya Sûtras of Gotama, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120807488, page 1
  28. Chattopadhyaya, D. (1986ء). Indian Philosophy: A popular Introduction, New Delhi: People's Publishing House, ISBN 81-7007-023-6, p.163
  29. SC Vidyabhushana (1913ء, Translator), The Nyâya Sutras, The Sacred Book of the Hindus, Volume VIII, Bhuvaneshvar Asrama Press, page 2
  30. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, page 134-138
  31. S Dasgupta (1996ء), Yoga Philosophy: In Relation to Other Systems of Indian Thought, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120809093, pages 142–148
  32. ^ ا ب پ ت ٹ Stephen Phillips (2014ء), Epistemology in Classical India: The Knowledge Sources of the Nyaya School, Routledge, ISBN 978-1138008816, Chapter 1
  33. John A. Grimes, A Concise Dictionary of Indian Philosophy: Sanskrit Terms Defined in English, State University of New York Press, ISBN 978-0791430675, page 238
  34. ^ ا ب Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 223–224
  35. SC Vidyabhushan and NL Sinha (1990ء), The Nyâya Sûtras of Gotama, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120807488, page 4
  36. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, page 139-140
  37. SC Vidyabhushan and NL Sinha (1990ء), The Nyâya Sûtras of Gotama, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120807488, pages 55–70
  38. Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Indian Darshanaparampara, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, pages 142–144
  39. ^ ا ب پ ت Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, pages 144–145
  40. John A. Grimes (2006ء), A Concise Dictionary of Indian Philosophy: Sanskrit Terms Defined in English, State University of New York Press, ISBN 978-0791430675, page 238
  41. Wilhelm Halbfass (1985ء), India and the Comparative Method, Philosophy East and West, Vol. 35, No. 1, pages 3–15;
    For history see: VS Sowani and VV Sowani (1920ء), Annals of the Bhandarkar Oriental Research Institute, Vol. 1, No. 2, pages 87–98
  42. SC Vidyabhushana (1913ء, Translator), The Nyâya Sutras, The Sacred Book of the Hindus, Volume VIII, Bhuvaneshvar Asrama Press, pages 3–4
  43. ^ ا ب Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 222–227, 406–408
  44. SC Vidyabhushana (1913ء, Translator), The Nyâya Sutras, The Sacred Book of the Hindus, Volume VIII, Bhuvaneshvar Asrama Press, pages 35–43
  45. Stephen Phillips (2014ء), Epistemology in Classical India: The Knowledge Sources of the Nyaya School, Routledge, ISBN 978-1138008816, Chapter 5
  46. S Dasgupta (2004ء), A History of Indian Philosophy, Volume 1, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120804128, pages 354–360
  47. SC Vidyabhushana (1913ء, Translator), The Nyâya Sutras, The Sacred Book of the Hindus, Volume VIII, Bhuvaneshvar Asrama Press, pages 4–5
  48. ^ ا ب
    • Eliott Deutsche (2000ء), in Philosophy of Religion : Indian Philosophy Vol 4 (Editor: Roy Perrett), Routledge, ISBN 978-0815336112, pages 245–248;
    • John A. Grimes (2006ء), A Concise Dictionary of Indian Philosophy: Sanskrit Terms Defined in English, State University of New York Press, ISBN 978-0791430675, page 238
  49. ^ ا ب پ M. Hiriyanna (2000ء), The Essentials of Indian Philosophy, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120813304, page 43
  50. ^ ا ب پ ت ٹ Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, pages 145–146
  51. JL Shaw (2000ء), Conditions for Understanding the Meaning of a Sentence: The Nyāya and the Advaita Vedānta, Journal of Indian Philosophy, Volume 28, Issue 3, pages 273–293
  52. SC Vidyabhushana (1913ء, Translator), The Nyâya Sutras, The Sacred Book of the Hindus, Volume VIII, Bhuvaneshvar Asrama Press, pages 4–5, 37–39, 59–61
  53. P. Billimoria (1988ء), Śabdapramāṇa: Word and Knowledge, Studies of Classical India Volume 10, Springer, ISBN 978-94-010-7810-8, pages 1–30
  54. ^ ا ب Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, page 224
  55. SC Vidyabhushan and NL Sinha (1990ء), The Nyâya Sûtras of Gotama, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120807488, pages 13–16
  56. Julian Baggini (2018ء), How the World Thinks
  57. SC Vidyabhushan and NL Sinha (1990ء), The Nyâya Sûtras of Gotama, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120807488, pages 10, 29–32, 105, 158
  58. Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 170–172
  59. ^ ا ب JN Mohanty (1970ء), Nyāya Theory of Doubt, Phenomenology and Ontology, Volume 37, ISBN 978-9401032544, pages 198–219
  60. ^ ا ب پ ت Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, page 132-134
  61. ^ ا ب S Rao (1998ء), Perceptual Error: The Indian Theories, University of Hawaii Press, ISBN 978-0824819583, pages 59–72
  62. S Rao (1998ء), Perceptual Error: The Indian Theories, University of Hawaii Press, ISBN 978-0824819583, pages 22–23, 21–44
  63. ^ ا ب Roy Perrett (2001ء), Indian Philosophy: Logic and philosophy of language, Routledge, ISBN 978-0815336105, page xiv
  64. J Ganeri (2003ء), Philosophy in Classical India: An Introduction and Analysis, Routledge, ISBN 978-0415240352, pages 33–40
  65. K Ramasubramanian (2011ء), The Concept of Hetvābhāsa in Nyāya-śāstra, in Proof, Computation and Agency, Volume 352, Springer Netherlands, ISBN 978-9400700796, pages 355–371
  66. ^ ا ب پ ت ٹ SC Vidyabhushan and NL Sinha (1990ء), The Nyâya Sûtras of Gotama, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120807488, pages 21–23
  67. Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 198–199
  68. Bimal Krishna Matilal (1975ء), Causality in the Nyāya-Vaiśeṣika School, Philosophy East and West, Vol. 25, No. 1, pages 42–44
  69. S Dasgupta (2004ء), A History of Indian Philosophy, Volume 1, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120804128, pages 319–326
  70. ^ ا ب پ ت Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, pages 150–152
  71. Bimal Krishna Matilal (1975ء), Causality in the Nyāya-Vaiśeṣika School, Philosophy East and West, Vol. 25, No. 1, pages 41–48
  72. John C. Plott et al. (2000ء), Global History of Philosophy: The Patristic-Sutra period, Volume 3, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120805507, pages 66–67
  73. JL Shaw (2002ء), Causality: Sāmkhya, Bauddha and Nyāya, Journal of Indian Philosophy, Vol. 30, Issue 3, pages 213–270
  74. ^ ا ب KK Chakrabarti (1978ء), The Nyaya-Vaisesika theory of negative entities, Journal of Indian Philosophy, Vol. 6, No. 2, pages 129–144
  75. John Clayton (2010ء), Religions, Reasons and Gods: Essays in Cross-cultural Philosophy of Religion, Cambridge University Press, ISBN 978-0521126274, page 150
  76. G Oberhammer (1965ء), Zum problem des Gottesbeweises in der Indischen Philosophie, Numen, 12: 1–34
  77. ^ ا ب
  78. Francis X. Clooney (2010ء), Hindu God, Christian God: How Reason Helps Break Down the Boundaries, Oxford University Press, ISBN 978-0199738724, pages 18–19, 35–39
  79. Sharma, C. (1997ء). A Critical Survey of Indian Philosophy, Delhi: Motilal Banarsidass, ISBN 81-208-0365-5, pp. 209–10
  80. VR Rao (1987ء), Selected Doctrines from Indian Philosophy, ISBN 81-70990009, pages 11–12
  81. ^ ا ب Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, page 147, with 148–150
  82. Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, pages 31–37, 95–96, 228–233
  83. Stephen Phillips (2009ء), Yoga, Karma, and Rebirth: A Brief History and Philosophy, Columbia University Press, ISBN 978-0231144841, page 281 footnote 40
  84. ^ ا ب پ SC Vidyabhushana (1913ء, Translator), The Nyâya Sutras, The Sacred Book of the Hindus, Volume VIII, Bhuvaneshvar Asrama Press, pages 137–139
  85. ^ ا ب پ Karl Potter (2004ء), The Encyclopedia of Indian Philosophies: Indian metaphysics and epistemology, Volume 2, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120803091, page 237
  86. ^ ا ب پ Jeaneane Fowler (2002ء), Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism, Sussex Academic Press, ISBN 978-1898723943, page 157
  87. Stephen Phillips (2009ء), Yoga, Karma, and Rebirth: A Brief History and Philosophy, Columbia University Press, ISBN 978-0231144841, pages 65–66
  88. Stephen Phillips (1992ء), Review: Gadadhara's Theory of Objectivity, Philosophy East and West, Volume 42, Issue 4, page 669
  89. P Bilimoria and JN Mohanty (2003ء), Relativism, Suffering and Beyond, Oxford University Press, ISBN 978-0195662078, pages i–ix with Introduction and Chapter 3
  90. J Ganeri (2012ء), The Self: Naturalism, Consciousness, and the First-Person Stance, Oxford University Press, ISBN 978-0199652365, pages 162–169
  91. Ganganatha Jha (1999ء Reprint), Nyaya-Sutras of Gautama, Vol 1, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120812642, pages 198–199
  92. ^ ا ب پ Sanjit Sadhukhan (1990ء), The conflict between the Buddhist and the Naiyayika Philosophers, Journal: Bulletin of Tibetology, Vol. BT1990, Issues 1–3, pages 39–54
  93. انتا، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (2013ء)، اقتباس: "بدھ مت میں انتّ وہ نظریہ ہے جس کی رو سے انسانوں میں کوئی مستقل یا بنیادی روح موجود نہیں ہے۔ انت یا ان آتما کا تصور، آتما (ذات) پر مبنی ہندو عقیدے سے انحراف ہے۔"
  94. John C. Plott et al (2000ء), Global History of Philosophy: The Axial Age, Volume 1, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120801585, page 63، اقتباس: "بودھ مدارس فکر آتما کے کسی بھی تصور کو مسترد کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے مشاہدہ کر چکے ہیں، یہ ہندومت اور بدھ مت کے درمیان بنیادی اور ناقابلِ اصلاح فرق ہے"۔
  95. [a] KN Jayatilleke (2010ء), Early Buddhist Theory of Knowledge, ISBN 978-8120806191, pages 246–249, from note 385 onwards;
    [b] Steven Collins (1994ء), Religion and Practical Reason (Editors: Frank Reynolds, David Tracy), State Univ of New York Press, ISBN 978-0791422175, page 64; "بدھ مت کے نظریۂ نجات کا مرکزی نکتہ غیر ذات کا عقیدہ ہے (پالی: انت، سنسکرت: ان آتما، جبکہ آتما کا مخالف نظریہ برہمنی فکر میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے)۔ مختصراً یہ کہ یہ [بدھ] نظریہ ہے کہ انسانوں میں کوئی روح، کوئی ذات اور کوئی غیر متبدل جوہر نہیں ہوتا۔"؛
    [c] Edward Roer (Translator), Shankara's Introduction، ص 2، گوگل کتب پر to Brihad Aranyaka Upanishad, pages 2–4;
    [d] Katie Javanaud (2013ء), Is The Buddhist 'No-Self' Doctrine Compatible With Pursuing Nirvana?, Philosophy Now
  96. John Kelley (1997ء), in Bhartrhari: Philosopher and Grammarian (Editors: Saroja Bhate, Johannes Bronkhorst), Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120811980, pages 179–188
  97. P Bilimoria and JN Mohanty (2003ء), Relativism, Suffering and Beyond, Oxford University Press, ISBN 978-0195662078, Chapters 3 and 20
  98. David Burton (1999ء)< Emptiness Appraised: A Critical Study of Nagarjuna's Philosophy, Routledge, ISBN 978-0700710669, pages 1-5, 127-138, 151-153, 160-166, 181-195
  99. CR Prasad (2002ء), Advaita Epistemology and Metaphysics, Routledge, ISBN 978-0700716043, pages 101–110, 129–136
  100. BNK Sharma (2008ء), A History of the Dvaita School of Vedānta and Its Literature, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120815759, pages 306–311
  101. ^ ا ب Hajime Nakamura (1989ء), A History of Early Vedānta Philosophy, Volume 2, ISBN 978-8120806511, pages 313–321

مزید پڑھیے

[ترمیم]
  • J Ganeri (2001ء), Indian Logic: A Reader, Routledge, ISBN 978-0700713066
  • Sue Hamilton, Indian Philosophy: A Very Short Introduction (Oxford University Press, 2001ء) ISBN 0-19-285374-0
  • B.K. Matilal, Epistemology, Logic, and Grammar in Indian Philosophical Analysis (Oxford University Press, 2005ء) ISBN 0-19-566658-5
  • J.N. Mohanty, Classical Indian Philosophy (Rowman & Littlefield, 2000ء) ISBN 0-8476-8933-6

بیرونی روابط

[ترمیم]