نیاز امام جعفر صادق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کونڈے وہ برتن ہیں جن میں کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو رکھا جاتا ہے۔

شیعی موقف[ترمیم]

زمانہ امام جعفر صادق 34 سال پہ محیط ہے (114ھ تا 148ھ) ان میں معجزات وکرامات اور ارشادات بھی ہیں جنہیں الجرائح و الخرائج نے اور تزکرة المعصومین نے تفصیل سے لکھا ہے امام علم لدنی کے مالک تھے اور پسندیدہ رب تھے ایک صحابی نے دعا کے لیے کہا آپ نے اپنے الله سے التجا کر کے مراد پوری کر دی صحابی نے عقیدت میں نیاز تیار کی کونڈے میں رکھ کر صبح کی نماز کے بعد نمازیوں کو کھلا دی (22 رجب تھی) لوگوں نے دیکھا دیکھی منتیں ماننا شروع کر دیں جن کی پوری ہوگئیں کونڈے بھرنے شروع ہو گے۔ اور یوں تیرہ سو سال سے یہ رسم چلی آ رہی ہے۔ عبدالرحمن جامی نے شواہد النبوة میں جعفر صادق کا وعدہ پورا کرنا اور کرامات دکھانا وضاحت سے لکھا ہے یہ نذر ونیاز اس لیے زیادہ مقبول ہوئی کہ جعفر صادق نے فرمایا منت کے صیغے پڑھ کر قصد کیا جاے۔ تو مراد پوری ہوتی ہے، رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔ مومنین سے محبت بڑھتی ہے، صلہ رحمی کا موقع ملتا ہے۔ پاکیزگی سے کھانا پکانے کا درس ملتا ہے۔ اہل بیت سے محبت بڑھتی ہے۔

سنی موقف[ترمیم]

جواز کے قائلین[ترمیم]

ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ایصال ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز ہے، مگر اس میں اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کر رکھی ہے، یہ بے جا پابندی ہے۔[1]
  • محدث اعظم پاکستان، مولانا محمد سردار احمد رضوی، 22 رجب کو کونڈے بھی شرعا جائز و باعث خیروبرکت ہیں[2]
  • امیر اہلسنت و مفتی پاکستان ابو البرکات سید احمد قادری 22 رجب کے کونڈے بھرنا بھی اہل سنت کے معمولات میں سے ہے اور اس کے جواز کے وہی دلائل ہیں جو فاتحہ و ایصال ثواب کے ہیں[2]
  • علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی اپنی کتاب جنتی زیور میں لکھتے ہیں: ماہ رجب میں حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کو ایصال ثواب کرنے کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں۔[2]
  • مفتی محمد خلیل خان برکاتی، اپنی کتاب سنی بہشتی زیور میں لکھتے ہیں: ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ایصال ثواب کے لیے کھیر پوری (حلوا) پکا کر کونڈے بھرے جاتے ہیں اور فاتحہ دلا کر لوگوں کو کھلائے جاتے ہیں، یہ بھی جائز ہے۔[3]

علمی و تحقیقی منہج[ترمیم]

22 رجب کو امیر معاویہ بن ابو سفیان کی وفات ہوئی تھی، یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ اصلی اہل سنت کے برعکس دراصل وہ لوگ جو نذر نیاز کے خلاف ہیں اور منت ماننے والوں کو کافر اور مشرک کہتے ہیں وہ وفات معاویہ کا بہانہ کر کے اس نیاز کے خلاف فتوی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے. یہ مرحومین کی فاتح پڑھنے، توسل اور شفاعت کے علاوہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات پر مسلمانوں کے ساتھ اختلاف نظر رکھتے ہیں. اپنے دینی معیارات کے مطابق یہ اصلی اہلسنت کو کافر اور مشرک بھی کہتے ہیں اور اپنی تعلیمات کے مطابق اس نیاز کو معاویہ کی موت کے ساتھ جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نیاز امیر معاویہ کی وفات پر خوشیاں منانے کے لیے ہے۔ جبکہ اہل سنت حضرات کا جواب ہے کہ مرگ معاویہ کا واقع 60ھ میں ہوا (وفات معاویہ) اور کونڈوں کی ابتدا 120ھ میں ہوئی درمیان میں 60 سال کا فرق ہے دوسرا نذر امام جعفر صادق ایک منت ہے جو مراد پوری ہونے کے بعد دی جاتی ہے اسے معاویہ کے ساتھ جوڑنا کم علمی ہے اور تاریخی مطالعے کا فقدان ہے۔[4] کونڈے ایک نیاز اور منت کا نام ہے جسے نیاز امام جعفر صادق بھی کہا جاتا ہے کونڈے نہ تو عربی زبان کا لفظ ہے اور نہ ہی اس کا کسی شیعہ و سنی معتبر کتاب میں ذکر ہے یہ صرف گھروں میں بٹھا کر کھلائی جاتی ہے باہر لے جانا ممنوع ہوتا ہے۔ و ہابی اور قادیانی منتوں اور نیازوں نیز اللہ کے ولیوں کے شدید مخالف ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ یہ رسم 1906ء لکھنؤ اور رام پور میں شروع ہوئی۔ یہ دونوں شہر ہندوستان میں واقع ہیں، قادیانی اور ان کے ہم فکر لوگ کہتے ہیں کہ لکڑہارے اور جعفرصادق کی من گھڑت کہانی بنائی گئی ہے 22 رجب امام جعفرصادق کا نہ یوم وفات ہے اور نہ ہی یوم ولادت۔ وہ لوگ ان کی ولادت 8 رمضان 80ھ ہے اور وفات 15 شوال 148ھ کو بتاتے ہیں۔ البتہ اغلب حنفا اور اصلی اہل سنت اس نیاز کا اہتمام کرتے ہیں۔اصلی علمائے سنت کا کہنا ہے کہ قادیانی و ہم نوا پہلے لوگوں کے دلوں سے اولیائے خدا کا عشق نکالتے ہیں اور پھر انہیں اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک منت اور نیاز سے مسلمان اولیائے خدا اور دین اسلام سے جڑے رہتے ہیں۔ جبکہ فریق مخالف اولیائے خدا کے مزارات کو شرک کے ٹھکانے اور نذر و نیاز کو حرام کہتا ہے۔ ان کے نزدیک منت و نیاز کے مرتکب افراد مشرک ہیں اور ان سے نکاح و میل جول بھی جائز نہیں. [5] کونڈے[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. امجد علی اعظمی (2017ء). بہار شریعت. کراچی: مکتبۃ المدینہ. صفحہ 74. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 مئی 2017. 
  2. ^ ا ب پ علامہ حسن علی میلسی. کونڈوں کی فضیلت بجواب کونڈوں کی حقیقت. کراچی: جمعیت اشاعت اہلسنت. صفحہ 6-7-8. 
  3. مفتی خلیل خان برکاتی، سنی بہشتی زیور (کتاب) حصہ دوم، صفحہ 176
  4. امامیہ جنتری 2012ء صفحہ نمبر 61
  5. http://www.alqalamonline.com/index.php/idarti/3568-495-rajab-k-koonde-ki-haqeeqat
  6. "کونڈے". اخذ شدہ بتاریخ https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1080.