نیاز فتح پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نیاز فتح پوری برصغیر پاک و ہند کے ممتاز عقلیت پسند دانشور، شاعر، انشا پرداز، افسانہ نگار اور نقاد تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

نیاز سن 1884ء میں یوپی کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ اسلامیہ فتح پور، مدرسہ عالیہ رامپور اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے حاصل کی۔ 1922ء میں اردو کا معروف ادبی و فکری رسالہ، "نگار" جاری کیا۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں 1962ء میں بھارت نے نیاز کو "پدما بھوشن" کے خطاب سے نوازا۔ 31 جولائی 1962ء کو وہ ہجرت کر کے کراچی آ گئے۔ حکومت پاکستان نے بھی نیاز کو "نشان سپاس" سے نوازا۔

تصانیف[ترمیم]

ان کے اہم تحریری مجموعے اور تصانیف درج ذیل ہیں:

  • من و یزداں(2جلد)
  • مالہ و ما علیہ
  • مشکلات غالب
  • استفسارات
  • انتقادیات (2 جلدیں)
  • ترغیبات جنسی
  • تاریخ الدولین
  • توقیت تاریخ اسلامی ہند
  • چند گھنٹے حکماء کی روح کے ساتھ
  • جذبات بھاشا
  • نگارستان
  • جمالستان
  • نقاب اٹھ جانے کے بعد
  • حُسن کی عیاریارں اور دوسرے افسانے
  • مختاراتِ نیاز
  • شہاب کی سرگزشت
  • ایک شاعر کا انجام
  • صحابیات
  • عرض نغمہ(رابندر ناتھ ٹیگور کی گیتا انجلی کا ترجمہ)
  • مکتوبات نیاز(3جلدیں)
  • مذہب
  • محمد بن قاسم سے بابر تک
  • مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ
  • شبنمستان کا قطرہ گوہرین

وفات[ترمیم]

سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 24 مئی 1966ء کو نیاز فتحپوری کا انتقال ہوا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

نیاز فتحپوری