نیا معاشی نظام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نیا معاشی نظام ایک آبادی کی تقسیم ہے جسے ڈاکٹر راس ہنی ویل نے ایجاد کیا ہے۔ شمالی امریکی بازار کے لیے بننے کے باوجود اسے عمومًا مابعد صنعتی ترقی ممالک کا آئینہ دار سمجھا گیا۔[1]

یہ تقسیم دو جامع اقسموں پر انجام پاتی ہے۔[2]

ہمہ رخی تجزیاتی اقدام پر مبنی ہونے کی وجہ سے یہ ربط وتعلق میں معاون طریقہ (interaction aid method) دنیا کے 194 تعین کرنے والے عوامل کا استعمال کرتی ہے:

  • ‘‘‘نیامعاشی نظام‘‘‘: اس زمرے میں امریکا اور کینیدا کی آبادی کا 24 فیصد حصہ شامل ہے۔ یہ امریکا میں 60 ملین اور کینیڈا میں یہ 6 ملین آبادی کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ لوگ ترقی پسند سماجی قدروں کا اظہار کرتے ہیں، ان میں بڑی سماجی سوجھ بوجھ پائی جاتی ہے، بہت زیادہ حرکات و سکنات پر گرفت ہے اور بااصولی، باہیئت، باتجربہ اور بالضرورت انداز میں متحرک ہے اور مشکلات سے ناواقف ہیں۔ 93 فیصد لوگ جو اس زمرے میں آتے، وہ اپنے اختیارات سے خرچ کرنے والے ہیں۔[3]

‘‘‘روایتی معاشی نظام‘‘‘: اس زمرے میں بالغ آبادی کا پجاس فیصد حصہ ہے۔ امریکا میں 120 ملین روایتی لوگ ہیں اور کینیڈا میں 12 ملین لوگ ہیں۔ یہ لوگ بہت زیادہ حرکات و سکنات پر گرفت ہے اور بااصولی، باہیئت، باتجربہ اور بالضرورت انداز میں متحرک ہے اور مشکلات سے ناواقف ہے۔ حالانکہ کئی لوگ رئیس یا متمول ہیں، یہ کم ہی خرچ کرتے ہیں۔ یہ لوگ خود کی پہچان ان برینڈوں سے کرتے ہیں۔ روایتی لوگوں کا چار فیصد لوگ با اختیار سب زیادہ خرچ لوگوں کا گر وہ صرف تین فیصد ہی ہے۔ ان دو زمروں کے علاوہ ایک ابھرتا معاشی نظام (Emerging Economic Order) بھی ہے۔ اس زمرے میں نئے معاشی نظام جتنی ہی تعداد میں لوگ ہیں۔ یہ لوگ زیادہ کمائی کی طرف راغب ہوتے ہیں مگر ان کے مالی اخراجات محدود ہوتے ہیں۔[3]

15 سال میں800،000 سوالناموں کے جوابدہندوں کے شواہد کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نیا معاشی نظام ایک آگے بڑھنے والی معاشی طاقت کا حامل ہے۔[4]

کتابیات[ترمیم]

نئے معاشی نظام کے موضوع پر کتابیں شمالی امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سرزمین چین میں چھپ چکی ہیں اور یہ ایموزون کے توسط سے عالمی سطح پر بیچی جاچکی ہیں۔

  • 2001: I-Cons: the essential guide to winning and keeping high-value customers (Ross Honeywill & Verity Byth) Random House
  • 2004: (Chinese edition) I-Cons: the essential guide to winning and keeping high-value customers (Ross Honeywill & Verity Byth) Citic Publishing, Mainland China
  • 2006: NEO Power: how the new economic order is changing the way we live, work and play (Ross Honeywill & Verity Byth) Scribe Publications
  • 2008: Managing the Innovation Faultline - chapter in Inside the Innovation Matrix (Ross Honeywill & Verity Byth) Australian Business Foundation
  • 2012: One Hundred Thirteen Million Markets of One: How the New Economic Order can remake the American economy (Chris Norton & Ross Honeywill) Fingerprint, USA

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Honeywill Ross, “NEO Power: how the new economic order is changing the way we live, work and play”. Scribe Publications, 2008
  2. Bulletin Magazine, 3 March 2004 – “The Shop of Things to Come”
  3. ^ ا ب Roy Morgan Research
  4. Sydney Morning Herald, “The Rise & Rise of the Recession Busters” – مارچ 2009

خارجی روابط[ترمیم]