نیتا امبانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نیتا امبانی
NitaAmbani.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 نومبر 1963ء (عمر 55 سال)[1]
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
قومیت بھارتی
شوہر مکیش امبانی (شادی 1985ء)
اولاد اننت امبانی
ایشا امبانی
آکاش امبانی
عملی زندگی
مادر علمی نرسی مونجی کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس
پیشہ صدرنشین، ریلائنس فاؤنڈیشن
مالکانہ حقوق، ممبئی انڈینز

نیتا دلال مکدیش امبانی (پیدائش: یکم نومبر، 1963ء) ریلائنس فاؤنڈیشن کی بانی اور صدرنشین ہیں۔[3] وہ ریلائنس انڈسٹریز کی غیر ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر بھی ہیں۔[4] وہ انسانیت دوست اور کھیلوں کی مداح ہیں۔[5] جہاں خاندان کی دولت $20 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے، انہیں بھارت کی رئیس ترین عورت گردانا جاتا ہے۔[6] ان کی شادی ریلائنس انڈسٹریز کے صدرنشین اور مینیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی سے ہوئی۔[7] انہیں فنکارانہ اشیا جمع کرنے کا شوق ہے۔[6][8] وہ ممبئی انڈینز کرکٹ ٹیم کے مالکانہ حقوق رکھتی ہیں۔[9]

نیتا کئی اعزازات حاصل کر چکی ہیں، جن میں 2016ء کی ایشاء کی سب سے بااثر خواتین کی دونوں فوربز میں جگہ شامل ہے۔[10] اس کے علاوہ وہ وہ انڈیا ٹوڈے کی پچاس اعلٰی اور طاقتور بھارتیوں میں بھی شامل ہیں۔[11] نیتا پہلی بھارتی خاتون ہیں جنہیں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کا رکن بنایا گیا۔[12]

نیتا امبانی کو نیویارک کے میٹروپالیٹن عجائب گھر کی جانب سے ان کے انسانیت دوست کاموں، تعلیم اور فنون کے فروغ کی وجہ سے نوازا گیا تھا۔[5][13][14]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نیتا امبانی (قبل از شادی: دلال)[15] یکم نومبر 1963ء کو ممبئی میں پیدا ہوئیں۔[16] ان کے والد کا نام رویندرابھائی دلال اور والدہ کا نام پورنیما دلال ہے۔[17] انہوں نے تجارت کی سند نرسی مونجی کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس سے مکمل کیا ہے۔ وہ بھرت ناٹیم بھی سیکھ چکی ہیں اور اکثر ریاض کرتی رہتی ہیں۔[18]

کیرئیر[ترمیم]

نیتا امبانی نے ریلائنس فاؤنڈیشن کی بانی اور صدرنشین کے طور پر آغاز کیا،[19] جو ریلائنس انڈسٹریز کی جانب سے رفاہ عامہ کے کاموں کو انجام دیتا ہے۔ وہ ممبئی انڈینز کے بھی مالکانہ حقوق رکھتی ہیں۔[20] 2014ء میں وہ ریلائنس کے بورڈ کے لیے منتخب ہوئیں۔[21]

ممبئی انڈینز[ترمیم]

نیتا انڈین پریمیئر لیگ ٹیم ممبئی انڈینز کی مساوی مالک ہیں [22] جو چیمپئینز لیگ ٹی 20 کو 2011ء اور 2013ء میں جیت چکے ہیں [23] اور انڈین پریمیئر لیگ 2013ء اور 2015ء میں۔[24][25]

نیتا نے ’ایجوکیشن فار آل‘ (سب کے لیے تعلیم) پہل کی قیادت کی جو ممبئی انڈینز کی جانب سے سماج کو احسان مندی کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔[26] یہ پہل 70,000 نادار بچوں تک پہنچی اور تعلیم کے لیے واقفیت لانے کے لیے مختلف میڈیا اور آن لائن ذرئع کو بہ روئے کار لایا گیا۔[27][28][29]

آئی او سی رکنیت[ترمیم]

3 جون 2016ء کو امبانی آٹھ امیدواروں میں سے ایک تھیں جنہیں بین الاقوامی اولپمک کمیٹی کی رکنیت کے لیے ایک سویس پیانل نے نامزد کیا گیا تھا۔[30][31][32] نئے امیدواروں کا انتخاب 129ویں آئی او سی اجلاس میں ہوا جو اگست 2016ء کے پہلے ہفتے میں ہوا تھا۔[33][34] نیتا کو 4 اگست 2016ء کو منتخب کیا گیا تھا،[35] جو پہلی بار کسی بھارتی خاتون کا انتخاب تھا۔[36]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Nita Ambani celebrates her 50th birthday with family in Kashi"۔ The Economic Times۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اپریل 2016۔
  2. "Nita Ambani [Biography]"۔ Matpal۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اپریل 2016۔
  3. "Reliance Foundation - INDIA CSR - India's Largest CSR News Network"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اپریل 2016۔
  4. "Nita Ambani Becomes First Woman Director on Reliance Board - NDTV"۔ profit.ndtv.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اپریل 2016۔
  5. ^ ا ب "Telegraph: philanthropist-nita-ambani-art-investing-culture-transforming"۔ www.telegraph.co.uk۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-03-06۔
  6. ^ ا ب Kelly Crow۔ "India's Richest Woman Eyes the Art World"۔ Wall Street Journal۔ ISSN 0099-9660۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-05-02۔
  7. "How Nita Ambani was courted"۔ www.hindustantimes.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اپریل 2016۔
  8. "Nita Ambani Met Breuer Nasreen Mohamedi-artnet News"۔ artnet News (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  9. "Nita Ambani hosted a party for IPL 2015 Champions Mumbai Indians - Firstpost"۔ Firstpost (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  10. Naazneen Karmali۔ "Meet Nita Ambani, The First Lady Of Indian Business"۔ Forbes۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  11. "High and Mighty rankings: 1 to 50"۔ indiatoday.intoday.in۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-05-02۔
  12. "Rio 2016: Nita Ambani is first Indian IOC member"۔ indianexpress.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-03-06۔
  13. "The Metropolitan Museum for Art, New York has felicitated Nita Ambani for her philanthropic efforts."۔ vogue (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-25۔
  14. "The Metropolitan Museum for Art, New York has felicitated Nita Ambani for her philanthropic efforts."۔ timesofindia.indiatimes (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-25۔
  15. "Nita Ambani's sis is a school teacher | Latest News & Updates at Daily News & Analysis"۔ dna (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  16. Deepa Jainani۔ "Birthday gift: Ambanis likely to lend corporate hand in cleaning ghats of Varanasi"۔ The Financial Express۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  17. "Nita Ambani's father passes away"۔ The Indian Express۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  18. "Mukesh Ambani Wife Nita Ambani Biography | Biogtown.com"۔ biogtown.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  19. "MPW 2015: Nita Ambani runs India's largest CSR initiative"۔ www.businesstoday.in۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  20. "2016 IPL Player Auction: Mumbai Indians owner Nita Ambani to meet Ricky Ponting to discuss strategy"۔ International Business Times, India Edition (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  21. "Nita Ambani becomes first woman director in jio- Times of India"۔ The Times of India۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-18۔
  22. "IPL Team Owners list: All you need to know about them"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-04۔
  23. The New Indian Express۔ "Mumbai Indians, the new CLT20 champions - The New Indian Express"۔ www.newindianexpress.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-04۔
  24. "It's been a fantastic year for Mumbai Indians: Nita Ambani - Times of India"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-04۔
  25. "Anant Ambani cheers with mom Nita, brother Akash as MI register first IPL 2016 win"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-04۔
  26. "IPL 2016: For MI, venue may change but cause remains | Latest News & Updates at Daily News & Analysis" (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-04۔
  27. "Mumbai Indians Dedicate its Home Match for EFA Initiative"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-04۔
  28. "Mumbai Indians 'Education for All' initiative brings smiles to underprivileged kids"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-04۔
  29. "IPL 2015: Mumbai Indians dedicate its home match for EFA initiative - Times of India"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-04۔
  30. "Nita Ambani nominated to IOC"۔ AFP۔ Livemint۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 14, 2016۔
  31. Rao, K Shriniwas۔ "Nita Ambani nominated to International Olympic Committee"۔ TNN۔ The Times of India۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 14, 2016۔
  32. PTI، "Nita Ambani nominated to IOC"، The Indian Express، اخذ شدہ بتاریخ 10 جون 2016
  33. "IOC EXECUTIVE BOARD TO PROPOSE EIGHT NEW MEMBERS TO SESSION IN RIO DE JANEIRO"، IOC، اخذ شدہ بتاریخ 3 جون 2016
  34. "Nita Ambani, first Indian woman to be nominated to IOC"، The Hindu، اخذ شدہ بتاریخ 10 جون 2016
  35. "Olympics-Indian cricket team owner Ambani among eight new IOC members" (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-05۔
  36. "Nita Ambani becomes first Indian woman member of IOC - Times of India"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-05۔