نیرمدنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نیرمدنی (Nayyer Madani) ھندوپاکستان کے معروف شاعر اور تحریک آزادی کے ایک ممتازرھنما 12 اگست 1983 کو کراچی میں انتقال کیا- نیرمدنی کا اصل نام سید محمد مدنی تھا جبکہ نیّران کا تخلص تھا۔ انکا آبائی وطن موضع بہادرپور ضلع الہ آباد ہے جو انڈیا کے صوبے یوپی میں واقع ہے۔ وہ 1913 میں پیدا ہوئے اورجب انکی عمر دس سال تھی تو ان کے والد الہ آباد کی سکونت ترک کرکے بسلسلۂ روزگار کانپور آ گئے۔ نیرمدنی کے والد سید محمد حسین رحمتہ اللہ علیہ ایک جید عالم تھے۔ انہوں نے نیرمدنی کوابتدامیں عربی، فارسی، حدیث اور فقہ کی تعلیم دی اوراسکے بعد انہیں برصغیر کے عظیم دینی تعلیم کے ادارے دارالعلوم دیوبند بھیج دیا جہاں مولانا اشرف علی تھانوی رح کی نگرانی میں دینی تعلیم کے حصول کا آغاز کیا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد رسم دستاربندی سے چند روزقبل سید محمد حسین کا انتقال ہو گیا جس کے بعد نیرمدنی نے انہی کی جگہ مسجد کانپورٹینری میں جومحلہ بھّنانہ پورہ میں تھی امامت و خطابت کا منصب سنبھالا۔ اس وقت نیرمدنی کی عمرمحض انیس سال تھی۔

نیرمدنی نے باقاعدہ شاعری کا آغاز1933 میں کیا جب انہوں نے اپنا پہلا طرحی مشاعرہ پڑھا اورطرحی غزل کے اس شعر پربے پناہ داد وصول کی؛

پایا مجاز ہی سے حقیقت کا راستہ مجھہ کومذاق عشق نے انساں بنادیا

اس کے بعد نیرکی شاعری مقبول ہوتی گئی اورکانپور، لکھنؤ، قنوج وغیرہ کے تقریبا ہر مشاعرے میں انکی شرکت لازمی سمجھی جانے لگی۔ انکی غزلیں، نظمیں اورقطعات کانپورکے بڑے اخبارات وجرائد قومی اخبار، صداقت اوربیدار میں باقاعدگی سے شائع ہوتے تھے۔

نیرمدنی بنیادی طورپرغزل کے شاعرتھے۔ انہوں نے باقاعدہ کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی تاہم وہ اصغرگونڈوی کو اپنا معنوی استاد قراردیتے تھے۔ سنہ 1935 میں جب تحریک آزادی زوروں پر تھی اس وقت نیرجوان تھے اوربڑے زوروشور سے انقلابی نظمیں کہتے تھے، چنانچہ جب لکھنؤمیں آل انڈیا نیشنل کانگریس کے زیراھتمام سالانہ مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت بلبل ھند سروجنی نایئڈو نے کی تھی تو سروجنی نایئڈونے شعرا کی ترتیب کا خیال کیے بغیرنیرمدنی کی نظم 'غلامی' پہلے سننے پراصرار کیا۔ اس زمانے میں نیرکی یہ نظم ھندوستان کے طول وعرض میں بہت مقبول تھی۔ جب یہ نوجوان شاعرنظم پڑھہ کراترے تواصغرگونڈوی نے پوچھا کہ میاں کس کے شاگرد ہوتو نیرنے برجستہ جواب دیا کہ حضور آپ ہی کا شاگرد ہوں۔ اصغراورحسرت موہانی ساتھہ بیٹھے تھے، اصغر نے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تویاد نہیں کہ تم کبھی بغرض اصلاح میرے پاس آئے ہو۔ نیر نے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ جناب کے رنگ میں غزل کہنے کی کوشش کرتا ہوں اوراسی رنگ نے مجھے آپ کا شاگرد بنادیا ہے۔ حسرت موہانی اس گفتگو سے بہت محظوظ ہوئے اوراصغر سے مخاطب ہوکر بولے کہ بسم اللہ! ایسے شاگرد کہاں نصیب ہوتے ہیں۔ اصغرگونڈوی نے کسب کمال کن کہ عزیزجہاں شوی کہتے ہوئے نیرمدنی کواپنا شاگرد لکھنے کی اجازت دے دی۔ اصغر سے نیر کی یہ پہلی ملاقات تھی جو آخری بھی ثابت ہوئی۔ اس پہلی اورآخری ملاقات میں نیر نے برجستہ یہ شعرپڑھا؛

مبارک حضرت اصغر کا فیض باطنی نیّر ترے نغموں میں کیف بادۂ الہام پاتا ہوں

حوالہ: روزنامہ حریت کراچی، 23 ستمبر 1969

تقسیم برصغیرکے بعد نیرمدنی پاکستان آ گئے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ھمراہ 1950 میں موناباؤ کی سرحد عبورکرکے سندھہ کے قدیم تاریخی شہرٹھٹھہ پہنچے۔ چند ہفتے ٹھٹھہ میں قیام کے بعد وہ کراچی آ گئے۔ کراچی آنے کے بعد انہوں نے تعلیم وتعلم اورقرآنی تعلیمات کی ترویج کواپنا مقصد حیات بنالیا۔ انہوں نے اپنا مرکز ایک ایسی بستی کو بنایا جہاں تعلیمی سہولتوں کا فقدان تھا،جہاں لوگ کسب معاش کوہی زندگی سمجھنے پرمجبورتھے۔ نیرنے گولیمارنامی اس بستی میں جواب گلبہار کے نام سے مشہو رہے ایک مسجد کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے اس طرح اپنے اجداد کی اس سنت کو بھی زندہ کیا کہ وہ جہاں جاتے تھے مسجد کی بنیاد ضرورڈالتے تھے۔ قادریہ مسجد نامی اس مسجد میں نیرمدنی نے خود اذان و نمازکا اہتمام کیا، مسجد کی توسیع، تعمیراورآرائش کواپنے ذاتی آرام وآسائش پرفوقیت دی۔ تاہم شعروشاعری کا سلسلہ اورادبی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔ نیّرسمجھتے تھے کہ اردوزبان وادب کی خدمت بھی ان کے فرائض کا ایک جزوہونا چاہیے۔ اسی خیال کے تحت انہوں نے ایک بزم ادب قائم کی۔ اس بزم کے تحت ہونے والے مشاعروں میں شہرکے معروف شعرائے کرام اوراہل ذوق باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے معنوی استاد کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اس بزم کو' بزم اصغر' کے نام سے موسوم کیا۔ 1961 کے اوائل میں نیرمدنی گلبہار سے ناظم آباد منتقل ہو گئے اور کچھہ ہی عرصے کے بعد یہاں سے کنٹری کلب روڈ جو اب یونیورسٹی روڈ کہلاتا ہے پر واقع سوئی گیس ٹرانسمیشن کمپنی بسلسلۂ ملازمت منتقل ہو گئے۔ نیّرنے یہاں بھی کمپنی کی مسجد میں امامت وخطابت کا منصب سنبھال لیا۔ تاہم نیرکا مزاج ملازمت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ 1964 میں انہوں نے ملازمت ترک کردی اورایک بار پھرقادریہ مسجد کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ اس کے ساتھہ ہی انہوں نے کراچی کے ایک معروف اسکول حالی مسلم اسکول میں درس وتدریس بھی شروع کردی۔

اردوزبان کی ترویج کے لیے بھی نیرمدنی نے بے بہا خدمات انجام دیں۔ اوائل 1970 میں انہوں نے اپنے دوستوں ڈاکٹرسید یاورعباس، اورسید آل رضا کے ساتھہ مل کرمتحدہ اردو محاذ کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا مقصد اردوزبان کوپاکستان میں سرکاری دفاترمیں رائج کرانا،اور اسے اعلی سطح تک ذریعۂ تعلیم بنانا تھا۔ متحدہ اردومحاذ کے تحت جام جم کے نام سے ایک ادبی رسالے کا بھی اجرا کیا گیا جس میں فلسفہ، تصوف اور ادب کے موضوعات پرنیرمدنی کے مضامین اردوادب میں ایک گرانقدرخزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسئلہ جبروقدرکے موضوع پر پرنیرمدنی کا ایک مضمون اعلی ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔

نیرمدنی وسیع المشرب انسان اورلااکراہ فی الدّین کے قائل تھے۔ وہ مجالس عزاء میں سلام بھی پڑھتے تھے، اورمحافل مناقب میں خلفائے راشدین کی منقبت میں بھی حق عقیدت ادا کرتے تھے۔ جمعے کی نمازمیں دیے گئے ان کے خطبات نہ صرف دینی حوالوں سے اہم ہیں بلکہ یہ اردوادب، فلسفے اورعلم الکلام کے بھی اعلی شاہکا رہیں۔ ان کے مواعظ میں نہی عن المنکراورامربا المعروف کا ذکر ہوتا تھا۔

نیرمدنی کی شاعری[ترمیم]

نیرمدنی قدیم اساتذہ میں غالب، اقبال، جگر، اورفانی سے متاث رہیں۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ 'غالب کا علو، اقبال کی آفاقیت، اصغر کا لہجہ اور اس کی پاکیزگی، جگر کی مستانہ روی اورفانی کا آرٹ، یہ ہیں وہ خصوصیات جنہوں نے مجھے ان کا گرویدہ بنادیا'۔ ممتازنقاد اورشاعر سلیم احمد مرحوم نے نیر مدنی کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'بحیثیت شاعر نیر مدنی بہت بلند تھے، ان کے کلام میں پختگی تھی، انکا کلام تصوف میں ڈوبا ہوا تھا۔ عارفانہ شعر کہتے تھے۔ انہیں ہرصنف سخن پرعبورحاصل تھا اور انتہائی قادرالکلام استاد فن تھے۔ وہ ایک روایتی شاعر ہونے کی وجہ سے بھی عمر بھر دین پرقايم رہے کیونکہ انکا تعلق روایتی معاشرے سے تھا۔ روایتی شاعری سے دراصل وہ شاعری مراد ہے جوروایتی اقدار اورروایتی رویوں کی حامل ہو۔ نیر صاحب شايد اسی وجہ سے معاشرے میں اجنبی بن کررہ گئے تھے کہ وہ پرانی وضع داری اورروایات کے حامل تھے اورخودداری بھی ان میں بہت تھی۔ نیر صاحب اچھے سخن گو ہی نہیں بہت اچھے سخن فہم بھی تھے۔ انہیں سن کر ہمیں اصغر اورجگر یاد آتے تھے'۔

اردو کے ایک اور معروف شاعر پیر زادہ عاشق کیرانوی نے نیر صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ "جناب نیرمدنی کا ایسے ہی افراد میں شمار کیا جائے گا جنہوں نے نہ صرف اپنی شاعری اور پاکیزہ سیرت وکردار سے ماحول کو متاثر کیا بلکہ اپنے بعد ایک بہت بڑی تعداد ایسے شاعروں کی چھوڑ گئے جو اس چراغ کو روشن رکھیں گے۔ جناب نیرمدنی کی پوری زندگی اس پودے کو پروان چڑھانے میں بسر ہو گئی۔ انہوں نے اس قدر تعداد میں شعر کہے کہ انکا شمار میں آنا مشکل ہے۔"

اردو شاعری میں ایک بڑا نام ڈاکٹر باور عباس نے نیر مدنی کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ"نیر صاحب سوچ سمجھہ کر شعر کہتے تھے جس میں گہرائی کے ساتھہ خوبصورتی بھی ہوتی تھی"۔

حوالہ جات و کتابیات[ترمیم]

وفیات نامورانِ پاکستان ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ اُردو سائنس بورڈ۔ لاہور 2006ء صفحہ 381

کراچی کے دبستانِ شاعری میں اُردو غزل کا ارتقا ڈاکٹر جاوید منظر مکتبۂ عالمین پاکستان۔ کراچی، 2011ء صفحہ 395

شہر اَدب کانپور ڈاکٹر سید سعید احمد سید اینڈ سید، کراچی 2001ء صفحہ 302

منتخب کلام[ترمیم]

وجہ وجود کون و مکاں ہوں سنا تو ہے " انسان مستحق کرم خاص کا تو ہے

ہر چند ہم میں سوز خلیلی نہیں رہا " شعلوں سے کھیلنے کا مگر حوصلہ تو ہے

انکو بٹھا کے سامنے سجدہ کریں گے ہم " اہل حرم کا رد عمل دیکھنا تو ہے

دیکھیں کہ اور جبر کا سیلاب کیا دکھا ئے " دل اہل اختیار کا ڈوبا ہوا تو ہے

گرد غلیظ وہم مسلسل بھی دیکھیے " آئینہ، آئینہ صفت ذات کا تو ہے

دامان جبرئیل امیں پر نہ آنچ آئے " نیر سفال خام سے شعلہ اٹھا تو ہے

خارجی روابط[ترمیم]