نیلو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نیلو
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (اردو میں: سنتھیا الیگزینڈر فرنانڈس ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 30 جون 1940  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بھیرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 جنوری 2021 (81 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایبٹ آباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1940–1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (1947–2021)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
شریک حیات ریاض شاہد  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد شان  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ اداکارہ اور ادکارہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو،  پنجابی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نیلو بیگم (پیدائش :سنتھیا الیگزینڈر فرنانڈس (Cynthia Alexander Fernandes)، 30 جون 1940ء - وفات: 30 جنوری 2021ء) پاکستانی فلمی اداکارہ تھیں جن کا تعلق پاکستان کے لاہور سے تھا۔ نیلو ایک کیتھلوک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں تاہم معروف فلم ڈائریکٹر اور اسکرین رائٹر ریاض شاہد سے شادی کے وقت انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور عابدہ ریاض کا نام اختیار کیا۔ آپ فلم اداکار شان شاہد کی والدہ تھیں۔[2][3]

1965 میں ایران کے شہنشاہ محمد رضا شاہ پہلوی پاکستان کے دورے پر آئے اور گورنر مغربی پاکستان نواب کالا باغ کے مہمان بنے۔ اس زمانے میں اداکارہ نیلو فلم انڈسٹری کی خوبرو اور نامور فنکارہ تھیں۔ نواب کالا باغ کا حکم تھا کہ ایک شہنشاہ کے دل کو لبھانے کے لیے اداکارہ نیلو اپنے رقص کا مظاہرہ کرے۔ تاکہ بادشاہ سلامت خوش ہوکر کچھ عنایات کر جائے۔ نیلو ایک فنکارہ ضرور تھی وہ فلم کے سیٹ پر اداکاری کرتی تھی مگر کسی حکمران کے لیے شمع محفل بن کر رقص کرنا اس کی عزت نفس کے برعکس تھا۔نیلو نےڈانس انکار کر دیا۔ طاقتور ڈکٹیٹر نواب آف کالا باغ کے غنڈوں سے اٹھوا کر جبرا" رقص کروانا چاھا مگر اس نے جان کی پروا کیے بغیر خواب آور گولیاں کھا کر اپنی حالت غیر کر لی اور رقص نہ کیا۔ ا ان اہل کاروں نے نیلو پر تشدد بھی کیا۔ نیلو کو بے ہوشی کے عالم میں ہسپتا ل پہنچایا گیا ، جہاں ڈاکٹروں نے کئی دن کی محنت کے بعد اس کی جان بچا لی۔ عوامی شاعر حبیب جالب نے نیلو کی جرأت اور عزت نفس کو خراج تحسین پیش کیا انہوں نے اس دور میں اپنی معرکہ آرا شہرہ آفاق نظم ’’نیلو ‘‘ رقم کی۔

تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی۔

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تجھ کو انکار کی جرأت جو ہوئی تو کیوں کر سایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتاہے ؟ اہل ثروت کی یہ تجویز ہے سرکش لڑکی تجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جائے ناچتے ناچتے ہوجائے جو پائل خاموش پھر نہ تازیست تجھے ہوش میں لایا جائے لوگ اس منظر جانکاہ کو جب دیکھیں گے اور بڑھ جائے گا کچھ سطوت شاہی کا جلال تیرے انجام سے ہر شخص کو عبرت ہوگی سراٹھانے کا رعایا کو نہ آئے گا خیال طبع شاہانہ پہ جو لوگ گراں ہوتے ہیں ہاں انہیں زہر بھرا جام دیا جاتا ہے تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے !

اس نظم کو بعد ازاں فلم زرقا میں نیلو ہی پر فلم بند کیا گیا۔ 1969 کو مشہور فلم ساز ، ہدایتکار اور کہانی نویس ریاض شاہد نے اپنی فلم "زرقا" ریلیز کی یہ نظم خود نیلو پر فلمائی گئی۔

کیرئیر[ترمیم]

16 برس کی عمر میں انہوں نے لاہور میں فلمائی گئی ہالی ووڈ فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ سے فنی زندگی کا آغاز کیا۔ نیلو کی مقبولیت 1960 میں عروج پر تھی، انہوں نے دوشیزہ، عزرا، زرقا،بنجارن، بیٹی ، ڈاچی ، جی دار ، شیر دی بچی اور ناگن سمیت متعدد یادگار فلموں میں اپنے فن کے جوہر دکھائے۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Veteran Pakistani actress Neelo passes away
  2. Profile of actress Neelo on cineplot.com website Retrieved 18 جولائی 2018
  3. "Veteran actress Neelo Begum dies of cancer". Pakistan Today (بزبان انگریزی). 2021-01-30. اخذ شدہ بتاریخ 31 جنوری 2021. 
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔