نیما یوشیج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نیما یوشیج
Nima Yushij - Original.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 12 نومبر 1895[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یوش، مازندران  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 جنوری 1960 (65 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شمیران  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات نمونیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Tricolour Flag of Iran (1886).svg دولت علیہ ایران (1896–1925)
State flag of Iran (1964–1980).svg شاہی ایرانی ریاست (1925–1960)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  معلم،  مصنف،  ادبی تنقید نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

علی اسفند یاری المعروف نیما یوشیج (11 نومبر 1897ء – 3 جنوری 1960ء) ایرانی معاصر فارسی شاعر تھے۔ وہ اپنی شاعری کے سبب مشہور ہیں جسے "شعر نو" اور "شعر نیمائی" کہا جاتا ہے۔ انہیں جدید فارسی شاعری کا موجد کہا جاتا ہے۔

سوانح[ترمیم]

ایران میں صوبہ مازندران کے شہرستان نور کے ایک دور افتادہ دیہات یوش میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ابراہیم نوری اعظام السطنہ جرات مند آزادی خواہوں میں شمار ہوتے تھے۔ نیما کا بچپن آرام و آسائش میں بسر ہوا۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر میں تہران آئے۔ "حیات جاوید" اور "سَنت لوئی" نام کے اسکولوں میں پڑھا۔ فارسی کے علاوہ فرانسیسی اور عربی سیکھی۔ ان کے اساتذہ میں نظام وفاء کا نام اہمیت رکھتا ہے جو ادب کے استاد اور شاعری میں نیما کے مشوق و راہنما تھے۔ علامہ محمد صالح حائری مازندرانی سے فلسفہ، منطق اور فقہ کی تعلیم بھی حاصل کی۔ نیما کے بقول ان پر فارسی کے مشہور شعرا نظامی گنجوی اور حافظ شیرازی کے علاوہ رومی اور یورپ کے بعض شعرا و ادبا نے گہرا اثر چھوڑا ہے۔ 1916 سے 1921 کے عرصے میں وہ فارسی شاعری کے افق پر نمودار ہوئے ہیں۔ ابتدا میں قدیم طرز پر شعر کہتے ہیں، لیکن یورپ اور خاص طور پر فرانسیسی ادب سے واقفیت نے ان پر آگہی اور فکر و بینش کے نئے دروازے کھول دیے۔ وہ اپنے کلام سے فارسی شاعری کو نئی سمتوں اور جدید افکار و خیالات سے حقیقی طور پر روشناس کراتے ہیں۔[3] موضوع شعر اور شعر کی ظاہری شکل و صورت کے سلسلے میں نئے تجربے کرتے ہیں۔ 1923 میں نیما اپنی جدید نظم "افسانہ" شائع کرتے ہیں جو فرانس کے رومانٹک شعرا کے اسلوب پر مبنی تھی۔ یہ ایران میں طرز بیان اور فنی ادراک میں ایک انقلاب کی نشان دہی کرتی ہے۔ مکالمے کی صورت میں یہ نظم پر شور عاشقانہ خیالات پر مشتمل اور حقیقت پسندانہ آہنگ میں کہی گئی ہے۔ اس کی خوبصورت، چست اور نئی تراکیب، پرکشش اسلوب، فکر وخیال کی سادگی، تعبیرات کی زیبائی اور مکمل طور پر مناسب وزن نے نیما کو جدید فارسی شاعری میں سب سے بلند مقام پر فائز کر دیا۔ اس نے بعد نیما نے فارسی شاعری کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کی۔ اس ضمن میں انہوں نے دو بنیادی تجربے کیے۔ شعر کی فرسودہ اور محدود شکل و صورت میں تبدیلی کو جائز قرار دیا اور دوسرا یہ کہ شاعری کو مصنوعی قافیے کی قید و بند سے آزاد کرایا، لیکن شاعری کا جدید محل قدیم بنیادوں ہی پر تعمیر کرنے کی وکالت کی۔ نیما کے طریق کار کی مخالفت بھی ہوئی اور اس کے جواب میں نیما کی تحریروں نے ان کے اسلوب شاعری کی نہ صرف وضاحت کی بلکہ جدید فارسی شاعری کے قواعد و ضوابط بھی مرتب کر دیے اور اسے مستحکم بنیادوں پر قائم کر دیا۔ نیما اور ان کی شاعری پر ایران میں بہت سی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اسی طرح ان کے کلام کے متعدد انتخابات بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔

صوبہ تہران کے شہر شمیران میں 4 جنوری 1960ء کو نمونیا کے سبب انتقال ہوا اور آبائی گاؤں یُوش میں تدفین ہوئی۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط : https://d-nb.info/gnd/119282666  — اخذ شدہ بتاریخ: 28 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. Store norske leksikon ID: https://snl.no/Nima_Yushij — بنام: Nima Yushij — عنوان : Store norske leksikon
  3. Dastgheib, Abdolali (2006) The Messenger of Hope and Liberty, Critical Review of poems by Nima Yooshij. 2006. Amitis Publishers, Tehran, Iran. آئی ایس بی این 964-8787-12-3. (فارسی عنوان: پیام آور امید و آزادی)
  4. "۱۳ دی ۱۳۳۸ خورشیدی، درگذشت نیما یوشیج، پدر شعر پارسی". 3 January 2018.