نینڈرتهال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
colspan=2 style="text-align: center; background-color: transparent; text-align:center; border: 1px solid red;" | Neanderthal
عرصہ حیات کی حد: MiddleLate Pleistocene 0.25–0.028 ما
Homo sapiens neanderthalensis.jpg
Neanderthal skull at La Chapelle-aux-Saints
90px
Mounted Neanderthal skeleton at American Museum of Natural History
colspan=2 style="text-align: center; background-color: transparent; text-align:center; border: 1px solid red;" | صنف بندی
مملکت: جانورia
ہم نسل: Chordata
جماعت: ممالیہia
درجہ: حیوانات رئیسہs
خاندان: Hominidae
جنس: Homo
نوع: H. neanderthalensis
colspan=2 style="text-align: center; background-color: transparent; text-align:center; border: 1px solid red;" | سائنسی نام
Homo neanderthalensis
King, 1864
Range of Homo neanderthalensis.png
Range of Homo neanderthalensis. Eastern and northern ranges may extend to include Okladnikov in Altai and Mamotnaia in Ural
colspan=2 style="text-align: center; background-color: transparent; text-align:center; border: 1px solid red;" | متبادل نام

Homo mousteriensis[1]
Homo sapiens neanderthalensis
Palaeoanthropus neanderthalensis[2]

نینڈرتهال دولاکھ سال پہلے یورپ کے سرد ماحول میں آباد انسان تھے جو گزشتہ 30 ہزار سال سے 40 ہزار سال کے درمیان میں پمعدوم ہوگیا۔یہ نوع موجودہ انسان سے حد درجہ مماثلت رکھتا تھا اور اس کے اور موجودہ انسان کے ڈی ان اے میں محض 0.12 فیصد کا فرق موجود تھا۔آج ان کے باقیات میں انکی ہڈیاں اور ان کے استعمال کئے گئے پتھروں کے سادہ اوزار ہی دستیاب ہیں۔2008 کے ایک مطالعے سے یہ بات معلوم ہوئی کے اس نوع اور موجودہ انسان میں جنسی اختلاط نہی ہوا ۔جبکہ ایک دوسری تحقیق کا کہنا تھا کہ نیڈرتھال کی خصوصیات موجودہ انسانی ڈی این اے میں بھی موجود ہیں ان کے مطابق زیادہ تر غیر آفریقی نسلوں اور کچھ آفریقی ڈی این اے میں اس کے اشارے ملتے ہیں اور یہ اختلاط کوئی 50 سے 60 ہزار سال قبل شروع ہوئی تھی۔ 1848ء میں جبرالٹر فوجی چوکی پر نیڈرتھال کی کھوپڑی ملی تھی، جسے دیکھ کر پت چلتا ہے کہ یہ انسانی کھوپڑی ہی ہے مگر اس کھوپڑی میں ایک بندر کی بھی تمام خصوصیات موجود تهی. یہ کھوپڑی پیشانی سے لے کر سامنے چہرے کی ساخت تک حیران کن مماثلت لئے ہوئے تهی۔[3][4]۔ سائنسدانوں کو ایسے ثبوت بھی ملے ہیں کہ جس سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنس اپنے مردوں کو دفناتی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]