مندرجات کا رخ کریں

نیوکلیوٹائیڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مرثالثہ (nucleotide) کی سالماتی ساخت۔ انتہائی دائیں جانب ، سالمے کا ایک فضا بھراؤ مثیل یعنی Space-filling model دکھایا گیا ہے۔

فائل:CTP.PNG
مرثالثہ کے سالمے کے تین ذیلی سالمات؛ (1) سبز رنگ کے خانے میں متغایرالحلقہ قاعدہ ، (2) سرخ رنگ میں شکر اور (3) نیلے رنگ میں فاسفیٹ گروہ کو دکھایا گیا ہے۔

نیوکلیوٹائیڈ، خلیات میں موجود ڈی این اے میں پایا جانے والا ایک کیمیائی مرکب ہوتا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ انھی نیوکلیوٹائیڈ سے ہی DNA بنتا ہے تو مناسب ہوگا یہ اصل میں ڈی این اے کے مکثور سالمے کے چھوٹے چھوٹے بنیادی حصے ہوتے ہیں یا بالفاظ دیگر یہ نیوکلیوٹائیڈ کے سالمات اصل میں ڈی این اے کی بنیادی اکائیاں ہوتے ہیں کہ جیسے ایک دیوار، اینٹوں کی اکائیوں سے ملکر بنتی ہے اسی طرح ڈی این اے، نیوکلیوٹائیڈ کی اکائیوں سے ملکر بنتا ہے۔ ایک نیوکلیوٹائیڈ، بذات خود تین چھوٹے سالمات سے ملکر بنا ہوتا ہے

  1. متغایرالحلقہ قاعدہ (heterocyclic base) --- (سامنے شکل میں سبز خانے میں)
  2. شکر --- (سامنے شکل میں سرخ خانے میں)
  3. فاسفیٹ گروہ --- (سامنے شکل میں نیلے خانے میں)

آسان بیان

[ترمیم]

اگر دنا یا DNA اور ارنا (RNA) کی ساخت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصل میں ایک بہت بڑا سالمہ یا مالیکول ہوتا ہے جو کئی چھوٹے چھوٹے سالمات کے مجموعے سے ملکر بنتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ چھوٹے سالمات 5 اقسام کے ہوتے ہیں اور ان کو ہی مرثالثات یا nucleotides کہا جاتا ہے۔ جبکہ ان سے ملکر بننے والے ڈی این اے یعنی دنا کے سالمے کو سالمات کبیر (macromolecules) میں شمار کیا جاتا ہے۔

مرثالثہ کہلائے جانے والے یہ چھوٹے سالمات دنا میں 4 اقسام کے ہوتے ہیں جنکو ان کے انگریزی ناموں کے ابتدائیییییی حروف سے شناخت کرتے ہوئے A، G، C اور T لکھا جاتا ہے۔ جبکہ ارنا میں T کی جگہ پر ایک دوسری قسم کا مرثالثہ آجاتا ہے جس کو U سے ظاہر کرا جاتا ہے۔ اب فرض کریں کہ ان چار اقسام کے سالمات کو استعمال کرتے ہوئے ایک ڈی این اے یعنی دنا کے سالمے کی ساخت کو بنایا جائے تو اسے یوں لکھ سکتے ہیں۔

  • ڈی این اے یعنی دنا کی مثال

ATGGCGAAC     دنا یا ڈی این اے کے سالمے میں چار قواعد (bases) یعنی A G C اور T پائے جاتے ہیں۔

  • آر این اے یعنی ارنا کی مثال

AUGGCGAAC     جبکہ ارنا یا آر این اے کا سالمہ بنتے وقت اس میں T کی جگہ U کا قاعدہ آجاتا ہے۔