نیپال میں مذہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


Circle frame.svg

نیپال میں مذہب (2011ء)[1]

  ہندو مت (81.3%)
  بدھ مت (9.0%)
  اسلام (4.4%)
  Kiratism (3.0%)
  مسیحیت (1.4%)
  سکھ مت (0.2%)
  جین مت (0.1%)
  دیگر (0.6%)

نیپال مذہب میں بنیادی طور پر ہندو ہے، تاہم یہ کثیر ثقافتی، کثیر نسلی، کثیر زبانی اور متنوع مذہبی ملک ہے جہاں کئی مذاہب قدیم زمانے سے جاری ہیں۔ نیپال ملکی آئین کے مطابق ایک لادین جمہوری ریاست ہے۔ نیپالی آئین تمام مذاہب کو یکساں مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ 2006ء کی تحریک برائے جمہوریت اور بادشاہ گاندھریا کی برطرفی سے قبل، ملک سرکاری طور پر ایک ہندو مملکت تھا۔ ہندو مت ریاست میں اکثریت کا مذہب ہے اور اس کے سماجی ڈھانچے پر گہرائی سے اثر انداز ہوتا ہے، جب کہ بدھ مت (تبتی بدھ مت) کچھ نسلی گروہان کا دھرم ہے (بطورمثال نیوار) جو اپنی ہیئت میں ہندو مت سے متاثر شدہ ہیں; کیرانتیت دوسری صورت میں عام طور پر کیراتی نسل کی آبادی کا اصل مذہب ہے۔ ہندومت کے علاوہ نیپال میں اسلام، مسیحیت، سکھ مت اور جین مت خاص طور پر مشرقی نیپال میں قلیل آبادی کی مذہبی شناخت ہیں۔

مذہبی گروہان[ترمیم]

ہندو مت[ترمیم]

ہندومت نیپال کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ 2011ء کی مردم شماری میں اندازہً 81.3 فیصد عوام نے اپنی مذہبی شناخت ہندو ظاہر کی، اس کے مقابلے میں 1981ء کی مردم شماری میں اس سے زیادہ عوام نے خود کو ہندو ظاہر کیا اگرچہ کئی مبصرین نے کہا کہ ان لوگوں میں سے ایک تعداد ہے جسے بدھ کہا جا سکتا ہے۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق، نیپال میں ہندوؤں کی آبادی کا اندازہ تقریباً 22.1 ملین ہے جو ملک کی 81.3 فیصد آبادی بنتی ہے۔ "[2] نیپال کی قومی تقویم (کلینڈر)، وکرم سموات ہے، یہ ایک شمسی ہندو تقویم ہے جو بنیادی طور پر شمالی ہند میں بطور مذہبی تقویم رائج ہے اور وقت کی ہندو اکائیاں اس پر مبنی ہیں۔

جین مت[ترمیم]

نیپال میں جین مت ایک اقلیتی مذہبی فرقہ ہے۔ 2001ء کی مردم شماری میں پورے نیپال میں جین فرقے کی تعداد چار ہزار ایک سو آٹھ (4108) جین پائی گئی تھی۔[3] ملک کے دار الحکومت کاٹھمنڈو میں ایک جین مندر موجود ہے۔ 2001ء میں کی نیپال کی مردم شماری کے مطابق جین مت کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ یہ کل تعداد، 4108 نفوس پر مشتمل تھی جو ملک کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ کل آبادی کا 0.1% ہے، یوں یہ نیپال کی سب سے چھوٹی اقلیت ہے۔[4]

پرچم نیپال[ترمیم]

یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ دیوتا وشنو نے نیپالی لوگوں کو منظم کیا اور انہیں سورج اور چاند کی نشانی والا پرچم دیا۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Statistical Yearbook of Nepal – 2013۔ Kathmandu: Central Bureau of Statistics۔ 2013۔ صفحہ 23۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 دسمبر 2015۔
  2. Nepal – RELIGION
  3. "Religions View Religions: Explorations in Pursuit of Understanding – Google Books"۔ Books.google.com۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-09-22۔
  4. Statistical Yearbook of Nepal – 2013۔ Kathmandu: Central Bureau of Statistics۔ 2013۔ صفحہ 23۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 دسمبر 2015۔
  5. Gorkhapatra Corporation The Nepalese Perspective

کتابیں[ترمیم]

ماخذ[ترمیم]

https://thediplomat.com/2015/11/r-i-p-indias-influence-in-nepal/سانچہ:Religion in Nepal