مندرجات کا رخ کریں

نیپال کی حکومت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
حکومتِ نیپال
नेपाल सरकार[[زمرہ:مضامین جن میں ne زبان کا متن شامل ہے]]
نیپال کا قومی پرچم اور سرکاری نشان
جائزہ
ریاست نیپال
رہنماوزیر اعظم نیپال
تقرر ازصدر نیپال
وفاقی پارلیمان کے مشورے پر
اہم عضووزارتی کونسل
وزارتیں20 وزارتیں اور متعدد آئینی ادارے
ذمہ دارنیپال کی وفاقی پارلیمان
صدر دفترسینگھہ دربار، کٹھمنڈو
ویب سائٹnepal.gov.np

نیپال کی سیاسی تاریخ میں 2008 کا سال ایک اہم موڑ ثابت ہوا جب 240 سال پرانی شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ملک جمہوری جمہوریہ بنا۔ اس سے قبل نیپال میں شاہی حکومت قائم تھی جو 1768 سے جاری تھی۔ 1990 میں آئینی بادشاہت قائم ہوئی لیکن 2001 کے شاہی قتل عام کے بعد سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔[1]

2006 کے عوامی تحریک کے بعد شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا اور 2008 میں آئین ساز اسمبلی کے قیام کے ساتھ نیپال فیڈرل ڈیموکریٹک ریپبلک بنا۔ 2015 میں نیا آئین نافذ ہوا جس نے ملک کو سیکولر اور وفاقی جمہوریہ قرار دیا۔[2]

سیاسی نظام

[ترمیم]

آئینی ڈھانچہ

[ترمیم]

نیپال ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ ہے جہاں صدر ریاست کا سربراہ اور وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ آئین 2015 کے تحت ملک کو 7 صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حکومت تین شاخوں پر مشتمل ہے:[3]

  • ایگزیکٹو برانچ: وزیر اعظم اور کابینہ کی قیادت میں
  • قانون سازی برانچ: وفاقی پارلیمنٹ پر مشتمل
  • عدلیہ برانچ: سپریم کورٹ اور زیریں عدالتیں

حکومتی ڈھانچہ

[ترمیم]

نیپال کی حکومت کا ڈھانچہ درج ذیل اہم عہدوں پر مشتمل ہے:

انتخابی نظام

[ترمیم]

نیپال میں پارلیمانی انتخابات ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتے ہیں۔ وفاقی پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں: ایوان نمائندگان (275 اراکین) اور قومی اسمبلی (59 اراکین)。[5]

ایوان نمائندگان کے اراکین کا انتخاب مخلوط نظام کے تحت ہوتا ہے جبکہ قومی اسمبلی کے اراکین کا انتخاب متناسب نمائندگی کے ذریعے ہوتا ہے۔

حکومتی ادارے

[ترمیم]

صدر

[ترمیم]

صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے جسے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین مشترکہ طور پر منتخب کرتے ہیں۔ صدر کے پاخ علامتی اختیارات ہوتے ہیں۔[6]

وزیر اعظم

[ترمیم]

وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے جسے ایوان نمائندگان منتخب کرتا ہے۔ وزیر اعظم کابینہ کے کاموں کی نگرانی کرتا ہے اور حکومتی پالیسیوں کو نافذ کرتا ہے۔[7]

وفاقی پارلیمنٹ

[ترمیم]

وفاقی پارلیمنٹ ملک کا سب سے اہم قانون سازی ادارہ ہے۔ اس کے دونوں ایوان قانون سازی، بجٹ منظور کرنے اور حکومتی کارکردگی کی نگرانی کے اختیارات رکھتے ہیں۔[8]

وزارتیں اور محکمے

[ترمیم]

نیپال کی حکومت میں درج ذیل اہم وزارتیں شامل ہیں:

  • وزارت داخلہ
  • وزارت خارجہ
  • وزارت دفاع
  • وزارت خزانہ
  • وزارت تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی
  • وزارت صحت اور آبادی
  • وزارت توانائی، پانی وسائل اور آبی گذرگاہیں
  • وزارت سیاحت[9]

سیاسی جماعتیں

[ترمیم]

نیپال کا سیاسی نظام متعدد سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ اہم سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں:

  • نیپال کمیونسٹ پارٹی (ایماؤسٹ سینٹر)
  • نیپالی کانگریس
  • کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ایماؤسٹ)
  • پیپلز سوشلسٹ پارٹی[10]

وفاقی ڈھانچہ

[ترمیم]

2015 کے آئین کے تحت نیپال کو 7 صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر صوبے کی اپنی حکومت ہوتی ہے جس کا سربراہ وزیر اعلیٰ ہوتا ہے۔ صوبائی حکومتیں اپنے علاقوں میں تعلیم، صحت اور ترقی کے منصوبوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔[11]

خارجہ پالیسی

[ترمیم]

نیپال کی خارجہ پالیسی غیر جانبدارانہ اصولوں پر مبنی ہے۔ ملک نے بین الاقوامی برادری میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ نیپال اقوام متحدہ اور سارک کا رکن ہے۔[12]

نیپال کے اہم خارجہ شراکت داروں میں بھارت، چین، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور جاپان شامل ہیں۔

سیاسی چیلنجز

[ترمیم]

نیپال کو درپیش اہم سیاسی چیلنجز میں شامل ہیں:

  • وفاقی نظام کا مؤثر نفاذ
  • معاشی ترقی اور غربت میں کمی
  • سیاسی استحکام کا حصول
  • نسلی اور علاقائی تنازعات کا حل[13]

معاشی پالیسیاں

[ترمیم]

نیپال کی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر زراعت، سیاحت اور بیرونی روزگار پر ہے۔ حکومت نے معاشی ترقی کے لیے متعدد منصوبے متعارف کرائے ہیں۔[14]

حکومت کی ترجیحات میں انفراسٹرکچر کی ترقی، توانائی کے شعبے میں خودکفالت اور سیاحت کو فروغ دینا شامل ہے۔

سماجی شمولیت

[ترمیم]

نیپال کے آئین میں سماجی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ خواتین، دلت اور پسماندہ طبقات کے لیے پارلیمنٹ اور سرکاری ملازمتوں میں مخصوص کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔[15]

مستقبل کے امکانات

[ترمیم]

نیپال کی سیاسی مستقبل میں وفاقی نظام کی کامیابی، معاشی ترقی اور جمہوری استحکام کلیدی کردار ادا کریں گی۔ حکومت نے 2030 کے وژن کے تحت متعدد ترقیاتی اہداف مقرر کیے ہیں۔[16]

بین الاقوامی تعلقات

[ترمیم]

اقوام متحدہ, اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام, جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم, اقوام متحدہ اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحر الکاہل, ادارہ برائے خوراک و زراعت, بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم, بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (IDA), آئی ایف اے ڈی, بین الاقوامی مالیاتی شرکت, بین الاقوامی مالیاتی فنڈ, بین الاقوامی بحری تنظیم, انٹرپول, اقوام متحدہ کانفرنس برائے تجارت و ترقی, یونیسکو, عالمی ادارہ صحت, عالمی تجارتی ادارہ, بمستیگ۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "تاریخ حکومت"، صدارتی دفتر
  2. "جمہوری تحریک"، پارلیمنٹ
  3. "آئین نیپال"، قانونی کمیشن
  4. "حکومتی ڈھانچہ"، کابینہ دفتر
  5. "انتخابی نظام"، انتخابی کمیشن
  6. "صدر"، صدارتی دفتر
  7. "وزیر اعظم"، وزیر اعظم دفتر
  8. "وفاقی پارلیمنٹ"، پارلیمنٹ
  9. "وزارتیں"، کابینہ ویب گاہ
  10. "سیاسی جماعتیں"، انتخابی کمیشن
  11. "وفاقی ڈھانچہ"، وزرات وفاقی امور
  12. "خارجہ پالیسی"، وزارت خارجہ
  13. "چیلنجز"، عالمی بینک
  14. "معاشی پالیسیاں"، وزارت خزانہ
  15. "سماجی شمولیت"، وزارت خواتین
  16. "مستقبل کے منصوبے"، قومی منصوبہ بندی کمیشن

بیرونی روابط

[ترمیم]

{{نیپال کی حکومت}} سانچہ:ایشیا کی حکومتیں

حوالہ جات

[ترمیم]