وائل بن حجر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وائل بن حجر
معلومات شخصیت
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ صفین  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وائل بن حجر بن ربیعہ بن وائل بن یعمر حضرمی، صحابی ہیں، حضرموت، یمن کے اقیال سے تھے، ان کے والد وہاں کے بادشاہ تھے، رسول اللہ کی خدمت میں ایک وفد کے ساتھ حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مدینہ آنے کی بشارت کئی دن پہلے دے چکے تھے۔ چنانچہ اپنے اصحاب سے فرمایا: "تمھارے پاس دور کا سفر کر کے حضرموت سے وائل بن حجر آئیں گے، اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کی خاطر، وہ بادشاہوں کی اولاد میں سے ہیں"۔ جب وہ رسول خدا کے سامنے آئے، رسول اللہ نے ان کا استقبال کیا اور اپنے قریب کیا، پھر اپنی چادر بچھائی اور ساتھ میں اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا: "اے اللہ وائل اور اس کی اولاد میں برکت دے۔"[1]

وفد کے قبول اسلام کی تفصیل[ترمیم]

رسول اللہ نے انھیں حضرموت کے اقیال کا عامل بنا دیا اور وہاں کی زمین انھیں دے دی، ان کے ساتھ معاویہ بن ابو سفیان کو بھی بھیجا اور فرمایا اسے دے دینا۔[2] اخیر عمر میں کوفہ مقیم ہو گئے تھے اور معاویہ بن ابو سفیان کے زمانہ تک زندہ رہے۔ جنگ صفین میں علی بن ابی طالب کے ساتھ تھے، اس جنگ میں حضرموت کے قبائل کی جھنڈوں کے ساتھ قیادت کر رہے تھے۔

ابن کثیر نے وائل بن حجر کی آمد کا ذکر ان وفود میں کیا ہے جو رسول اللہ Mohamed peace be upon him.svg کے پاس سنہ 9ھ میں آئے تھے۔[3] بدر الدین عینی نے کہا کہ وائل بن حجر 9ھ کو مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے۔[4] نماز مع رفع الیدین سیکھ کر گئے۔ اس کے بعد سردیوں میں (اگلے سال 10ھ) دوبارہ آئے تھے۔[5] سنہ 10ھ میں بھی رفع الیدین کا ہی مشاہدہ کیا۔[6]

روایات[ترمیم]

رسول اللہ سے کئی احادیث روایت کی ہے، ان کے بیٹے علقمہ اور عبد الجبار ان سے روایت کرتے ہیں، بعض کے مطابق عبد الجبار کی ان کے والد سے سماعت ثابت نہیں ہے، اس کے علاوہ کلیب بن شہاب جرمی، ان کی بیوی ام یحییٰ اور دوسرے حضرات نے بھی ان سے روایات بیان کی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مشکاۃ المصابیح، جلد 1، حدیث نمبر 761
  2. مشکاۃ المصابیح، جلد 3، حدیث نمبر 217
  3. البدایہ والنہایہ، ج 5، ص 71
  4. عمدۃ القاری، ج 5، ص 274، تحت حدیث 735
  5. صحیح ابن حبان، جلد 3، صفحہ، 169، حدیث نمبر 1857
  6. سنن ابی داود ح 727