واجبات حج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حج کے واجبات۔ حج کے واجبات یہ ہیں۔

  • (1)میقات سے احرام باندھنا یعنی میقات سے بغیر احرام باندھے آگے نہ گزرنا اور اگر میقات سے پہلے ہی احرام باندھ لیا جائے تو جائز ہے
  • (2)صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا اس کو سعی کہتے ہیں
  • (3)سعی کو صفا سے شروع کرنا
  • (4)اگر عذر نہ ہو تو پیدل سعی کرنا
  • (5)دن میں میدان عرفات کے اندر وقوف کیا ہے تو اتنی دیر تک وقوف کرے کہ آفتاب غروب ہو جائے خواہ آفتاب ڈھلتے ہی شروع کیا تھا یا بعد میں غرض غروب آفتاب تک وقوف میں مشغول رہے اور اگر رات میں میدان عرفات کے اندر وقوف کیا ہے تو اس کے لیے کسی خاص حد تک وقوف کرنا واجب نہیں مگر وہ اس واجب کا تارک ہوا کہ دن میں غروب آفتاب تک وقوف کرتا
  • (6)وقوف میں رات کا کچھ حصہ آ جانا
  • (7) عرفات سے واپسی میں امام کی پیروی کرنا یعنی جب تک امام میدان عرفات سے نہ نکلے یہ بھی نہ چلے ہاں اگر امام نے وقت سے تاخیر کی تو اسے امام سے پہلے میدان عرفات سے روانہ ہو جانا جائز ہے اور اگر زبر دست بھیڑ کی وجہ سے یا کسی دوسری ضرورت سے امام کے چلے جانے کے بعد میدان عرفات میں ٹھہرا رہا امام کے ساتھ نہ گیا جب بھی جائز ہے
  • (8)مزدلفہ میں ٹھہرنا
  • (9)مغرب و عشاء کی نماز کا عشاء کے وقت میں مزدلفہ پہنچ کر پڑھنا
  • (10)تینوں جمروں پر دسویں' گیارہویں' بارھویں تینوں دن کنکریاں مارنا یعنی دسویں ذوالحجہ کو صرف جمرۃ العقبہ پر اور گیارہویں و بارھویں تینوں جمروں پر کنکریاں مارنا
  • (11))جمرۃ العقبہ کی رمی پہلے دن سر منڈانے سے پہلے ہونا
  • (12)ہر روز کی رمی کا اسی دن ہونا
  • (13)احرام کھولنے کے لیے سر منڈانا یا بال کتروانا
  • (14)یہ سر منڈانا یا بال کتروانا،ایام نحر یعنی دسویں، گیارہویں اوربارہویں ذوالحجہ کی تاریخوں کے اندر ہوجانا اورسرمنڈانا یا بال کتروانامنٰی یعنی حرم کی حدود کے اندر ہونا
  • (15)قران یا تمتع کرنے والے کو قربانی کرنا
  • (16)اور اس قربانی کا حدود حرم اور ایام نحر میں ہونا
  • (17)طواف زیارت کا اکثر حصہ ایام نحر میں ہو جانا عرفات سے واپسی میں جو طواف کیا جاتا ہے اس کا نام طواف زیارت ہے اور اس طواف کو طواف افاضہ بھی کہتے ہیں
  • (18)طواف حطیم کے باہر ہونا
  • (19)داہنی طرف سے طواف کرنا یعنی کعبہ معظمہ طواف کرنے والے کے بائیں جانب ہو
  • (20)عذر نہ ہو تو پاؤں سے چل کر طواف کرنا ہاں عذر ہو تو سواری پر بھی طواف کرنا جائز ہے
  • (21)طواف کرنے میں باوضو اور با غسل رہنا اگر بے وضو یا جنابت کی حالت میں طواف کر لیا تو اس طواف کو دہرائے
  • (22)طواف کرتے وقت ستر چھپانا
  • (23)طواف کے بعد دو رکعت نماز تحیۃ الطواف پڑھنا لیکن اگر نہ پڑھی تو دَم واجب نہیں
  • (24)کنکریاں مارنے اور قربانی کرنے اور طواف زیارت میں ترتیب یعنی پہلے کنکریاں مارے پھر غیر ِ مفرد قربانی کرے پھر سر منڈائے پھر طواف زیارت کرے
  • (25)طواف صدر یعنی میقات کے باہر کے رہنے والوں کے لیے رخصت کا طواف کرنا
  • (26)وقوف عرفہ کے بعد سر منڈانے تک جماع نہ ہونا
  • (27)احرام کے ممنوعات مثلاً سلا ہوا کپڑا پہننے اور منہ یا سر چھپانے سے بچنا ۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بہار شریعت ،امجد علی اعظمی ،حصہ ششم ،صفحہ 1048،