واجد شمس الحسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
واجد شمس الحسن
Wajid Shamsul Hasan (cropped).jpg
 

مناصب
پاکستانی ہائی کمشنر برائے مملکت متحدہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
2009 
معلومات شخصیت
تاریخ وفات 28 ستمبر 2021[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سفارت کار،  سیاست دان،  صحافی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

واجد شمس الحسن (وفات 28 ستمبر 2021ء) جون 2008ء سے پاکستانی سفارت کار تھے۔ انہوں نے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ [2]

خاندان۔[ترمیم]

حسن کا تعلق حیدرآباد کے آفندی خاندان سے تھا جسے آخوند بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی شادی زرینہ حسن سے ہوئی۔ [2]

تعلیم و صحافت[ترمیم]

واجد شمس الحسن نے 1962ء میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی اور جنگ گروپ جوائن کیا۔ 1968ء میں انہیں برطانیہ میں کامن ویلتھ پریس یونین سکالرشپ ملا جس کے تحت انہوں نے ایک برس تک برطانیہ کے معروف اداروں میں تربیت حاصل کی۔ واپس آنے کے بعد 1969ء میں واجد جنگ گروپ کے انگریزی اخبار ڈیلی نیوز کے مدیر بن گئے۔ واجد شمس الحسن جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے تھے اور نظریاتی طور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ہمیشہ قریب رہے تھے۔

1972ء میں واجد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اس سرکاری وفد کا حصہ تھے جس نے شملہ معاہدے کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ وہ پاکستان کی ایک چلتی پھرتی سیاسی تاریخ تھے۔

1988ء میں جب پیپلز پارٹی مارشل لا کے بعد، پہلی مرتبہ حکومت میں آئی تو انہوں نے 1989ء میں جنگ گروپ کو الوداع کہا اور ان کو پریس ٹرسٹ آف پاکستان کا چیئرمن بنا دیا گیا۔ تین برس تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ واجد 42 برس تک صحافت کے شعبے سے وابستہ رہے اور ڈیلی نیوز اور جریدے 'میگ' کے علاوہ متعدد دیگر اخبارات اور جرائد کے مدیر بھی رہے۔[3]

سفارت کاری[ترمیم]

1993ء میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت آنے کے بعد، واجد کو 1994ء میں پہلی مرتبہ برطانیہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تعینات کیا گیا لیکن 1996ء میں وہ اپنے عہدے سے الگ ہوگئے تھے۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو کچھ عرصے بعد واجد شمس الحسن کو دوبارہ برطانیہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا۔ وہ 2013ء تک پاکستان کے برطانیہ میں سفیر رہے۔

کرکٹ تنازع[ترمیم]

2010ء کے پاکستان کرکٹ اسپاٹ فکسنگ تنازع کے جواب میں، حسن نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں تین پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی عائد کرنے کی مذمت کی۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]