واقعہ اللہ داد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
واقعہ اللہ داد
مقام مشہد
تاریخ 1839ء
نشانہ ایرانی یہودی
حملے کی قسم پوگروم، جبری تبدیلی مذہب
ہلاکتیں 40 سے زائد یہودی

واقعہ اللہ داد 1839 عیسوی میں پیش آیا، جس میں خراسان اور مشہد کے یہودیوں کو زبردستی مسلمان بنایا گیا۔ اس دور میں اکثر یہودیوں نے دہری زندگی جینا شروع کی جو بظاہر مسلمان اور در پردہ یہودی رہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس میں پوری قوم کو اجتماعی طور پر تبدیلی مذہب پر مجبور کیا گیا اور اسی سنگینی کی وجہ سے یورپی یہودیوں نے پہلی بار ایرانی یہودیوں کی حمایت میں آواز بلند کی۔

پس منظر[ترمیم]

مشہد میں اہل تشیع کے امام علی ابن موسی رضا کا مزار ہے اور یوں یہ شہر شیعہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس اہمیت کا حامل ہے۔ اسی وجہ سے یہودیوں کو اس شہر میں رہنے کی اجازت نہ تھی ، یوں سترھویں صدی عیسوی تک مشہد میں یہودیوں کی بہت کم آبادی تھی۔ جب نادر شاہ افشار (جو پیدائشی طور پر شیعہ تھا لیکن بعد میں آزاد خیال ہو گیا) کا دور آیا تو اس کے تمام مذاہب بشمول یہودیوں کے ساتھ نرم رویہ کی وجہ سے یہودیوں نے اس کے دار الحکومت مشہد کی طرف نقل مکانی کی اور وہاں بس گئے۔ مشہد کے شیعہ بدستور نادر شاہ کے مخالف تھے اور اس کی وفات کے بعد مشہد کے یہودیوں کی حالت بدترین ہو گئی۔

واقعہ اللہ داد[ترمیم]

مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تنازعات 26 یا 27 مارچ 1839 کے دن انتہائی شدت اختیار کر گئے۔ واقعہ اللہ داد کے بارے میں سب سے پہلے ایک یہودی مسیحی مبلغ جوزف ولف نے اپنے سفرنامے ‘ مشن بخارا کا احوال ‘ میں لکھا۔ جوزف ولف ایک جرمن یہودی ربی کا بیٹا اوربرطانوی شہری تھا۔ ولف پہلی بار 1831 میں مشہد گیا تھا اور اس کے بعد دوبارہ 1844 میں مشہد پہنچا۔ اس کے واپس مشہد آنے پر یہودیوں نے پانچ سال قبل پیش آئے واقعہ اللہ داد کا ذکر اس سے کیا۔ ولف نے مشہد کے یہودیوں کے سربراہ ملاماشیا جسے اہل فارس ملامھدی کہتے تھے سے ملاقات کی۔ ملا مھدی کے نہ صرف ولف کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے بلکہ و خود کو تمام اہل انگلستان کا دوست سمجھتا تھا کیونکہ انہوں نے یہودیوں کے ساتھ بہت نیک سلوک روا رکھا تھا۔ اس نے ولف کو بتایا کہ انگلستان کے حملہ افغانستان کے موقع پر اس نے اپنے آدمیوں کے ذریعے انگلستان کی مدد کی تھی۔ ولف کے بقول ملا مھدی بہت امیر کبیر تھا وہ مزید لکھتا ہے کہ واقعہ اللہ داد کے وقت مشہد کے یہودی بہت مالدار تھے۔ اس بارے میں جوزف ولف لکھتا ہے : ”11 مارچ بروز سوموار میں آسکرا پہنچا جو مشہد سے دو میل کے فاصلے پر تھا۔ میں نے برطانوی سفارتخانے اور شاہی مہمان خانے کے منتظم کو پہلے ہی مطلع کر دیا تھا۔ تو سب سے پہلے جو شخص مجھے ملنے آیا وہ ملا مھدی یہودی تھا، جو بارہ سال پہلے بھی میری مہمان نوازی میرے میزبان تک پہنچنے سے پہلے کر چکا تھا جب میں نیشاپور سے عباس میرزا کے پاس مشہد گیا تھا۔ اس وقت میں غریب و نادار تھا اور اُس نے میری اس قدر اعلی مدارات کی کہ میں خود کو شرمندہ محسوس کرتا تھا۔ مشہد کے تمام یہودیوں کو جو 150 خاندانوں پر مشتمل تھے سات سال قبل زبردستی مسلمان کیا جا چکا تھا۔ یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ ایک یہودی عورت کے ہاتھوں میں ناسور جیسی بیماری تھی ، طبیب نے اسے ہاتھوں پر کتے کا خون ملنے کو کہا اور اس عورت نے ایسا کیا اور اس بات پر اشتعال پھیل گیا۔ 35 یہودی فورا قتل کر دیے گئے اور باقی خوف سے مسلمان ہو گئے۔ لیکن یہ لوگ در پردہ یہودی ہی رہے ہسپانوی یہودیوں کی طرح خود کو آنوسی (زیر جبر شدید) کہتے۔ ان کے بچے اس بات پر شدید برہم ہوتے کہ ان کے والدین انہیں اسلامی ناموں کے ذریعے خفیہ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ البتہ ملا مھدی اور ملاموشہ مسیح پر اعتقاد رکھتے تھے اور ملا مھدی نے مجھ سے درخواست کی کہ اسے غسل بپتسمہ دیا جائے۔ رالینسنز اور دیگر کے بقول وہ ہرات اور قندھار میں برطانویوں کا بڑا حامی و مددگار تھا۔“[1]

ولف نے ملا مھدی اور ملا موشہ کے غسل بپتسمہ اور مسیحی ہونے کا ذکر محض برطانوی حکام کو خوش کرنے کے لیے تحریر کیا کیونکہ اس کا حقیقت سے تعلق ناممکن ہے۔ ولف کے مطابق مشہد کے یہودی مسلمان ہونے کے بعد درپردہ یہودی ہی رہے اور خود کو اجباری کہلاتے۔ ولف پر اس راز کو آشکار کرنا کہ وہ صرف ظاھرا مسلمان ہیں مشہد کے یہودیوں کے ولف پر اعتماد کی دلیل ہے۔ ولف کے مطابق اصل وجہ فساد یہودیوں کی مالی برتری تھی اور مسلمانوں نے ایک سید کے توسط سے تحریک کا آغاز کیا تھا۔ ولف کہتا ہے کہ داؤد کوہن زبردستی مسلمان کیا جانے والا پہلا یہودی تھا۔ ولف کے مطابق یہ واقعہ عید قربان کے دن دس ذی الحج کو پیش آیا۔ ولف اس بات کو بھی چھپانے کی کوشش نہیں کرتا کہ یہودی خفیہ تھے اور انہیں مشہد کے امام جمعہ میرزا عسکری نے روپوش کرایا۔ ولف لکھتا ہے کہ میرزا عسکری مال کا حریص تھا اور خفیہ یہودیوں سے اچھی خاصی رقم بٹور کر انہیں ہرات کی طرف ہجرت کی اجازت دے دیتا تھا۔ ولف کے بیان کے مطابق پانچ سال بعدمشہد کے مسلمان ، زبردستی مسلمان کیے گئے مخفی یہودیوں سے واقف ہو چکے تھے لیکن ان سے کوئی بازپرس نہیں کرتے تھے۔ ولف مزید لکھتا ہے ؛ “جس وقت میں مشہد کے یہودیوں کے پاس تھا ، اس دوران یوم الغفران (یوم کیپور) آگیا تو یہودیوں میں سے کچھ مرد و خواتین نے روزہ رکھ لیا، کچھ نومسلم یہودیوں نے جو واقعتا دین اسلام کے گرویدہ تھے مسلمانوں سے وابستگی کی بنیاد پر انہیں، واقعہ اللہ داد میں مسلمان شدہ یہودیوں کے بارے میں آگاہ و مطلع کیا کہ یہ لوگ درپردہ یہودی ہی ہیں۔ جب میں یہودیوں میں رہ رہا تھا تو عید یوم الغفران کے روز عصر کے وقت امام جمعہ میرزا عسکری کا ایک نوکر ایک یہودی گھرانے میں آیا تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے سکے کہ آیا یہودی جشن یوم الغفران منا رہے ہیں یا نہیں۔ مجھے اس بات کا علم ہو گیا اور میں نے اس سے کہا کہ جس قدر جلد ہو سکے وہ اس یہودی کے گھر سے نکل جائے۔ اگلے دن میں نے امام جمعہ کے نام انتہائی سخت الفاظ میں خط لکھ کر اسے بتایا کہ تمام یورپی اقوام یہودیوں کی ہمدرد ہیں اور اگر اس نے یہودیوں کی حفاظت کی تو حسب سابق و وعدہ اسے انعامات و مراعات حاصل ہوں گی“۔[2]

ولف کی کتاب کے مطابق مشہد کے یہودیوں کا درپردہ مذہب سابقہ پر قائم رہنا ایک عام بات تھی اور اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جس بات کی طرف اس نے بطور خاص اشارہ کیا وہ یورپی اقوام کی یہودیوں کی شدید حمایت اور امام جمعہ سے انعام اکرام کے وعدے ہیں۔ ولف نے مشہد کے یہودیوں کو مشورہ دیا کہ وہ سر موسی مونتیفیوری کو خط لکھ کر اس سے مدد کی درخواست کریں۔

جوزف ولف کی واپسی کے ایک سال بعد 1845 میں فرانسیسی سیاح جی۔پی۔ فریر مشہد پہنچا۔ اس نے بھی اپنی یادداشتوں میں اس سے ملتا جلتا واقعہ لکھا اور یہ بھی لکھا کہ وہ دن دس ذی الحج بڑی عید کا تھا۔ فریر کی تحریر میں مسلمانوں کے غصے کی وجہ یہودیوں کے مال و دولت اور ان کے مرفع حال ہونے سے حسد تھی۔ بقول فریر یہودی اس وقت مشہد کے امیر ترین لوگ تھے؛ لیکن اس نے جبری تبدیلی مذہب اور مخفی یہودیت کا ذکر نہیں کیا، اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ ولف چونکہ یہودی تھا اس پر یہودیوں کا اعتماد تھا اور فریر مسیحی تھا اس لیے اسے اتنی تفصیلات نہ بتائی گئیں۔ [3]

واقعہ اللہ داد کے بارے میں معتبر ترین روایت عصر نو میں صمدآقا بن یوسف دیلمانی نے لکھی جو یروشلم میں صیہونیت کے مرکزی کتب خانے میں محفوظ ہے۔ وہ لکھتا ہے ہے کہ واقعہ اللہ داد کے بعد یہودیوں نے اپنی تمام دستاویزات و نوشتہ جات تلف کر دیے تھے۔ اور انہوں نے تورات کے نسخے یزد اور کرمان بھجوا دیے تھے۔ آقا دیلمانی لکھتا ہے کہ یہ واقعہ عید فسح سے قبل 12 نیسان ( مارچ-اپریل) 1839 بروز ہفتہ پیش آیا اور اتفاقاً اسی روز دس محرم اور یوم عاشورا بھی تھا۔ لیکن چونکہ عربی اور عبرانی دونوں کیلینڈر قمری ہیں اس لیے یہ ممکن نہیں کہ 12 نیسان اور دس محرم ایک ہی دن ہوں۔ اس کے بقول یہ محض اتفاق تھا کہ اس یہودی عورت نے کتے کو مار کر ماہ محرم میں ماتمی جلوس کے راستے میں پھینک دیا تھا اور اس پر مسلمان سیخ پا ہو گئے کہ اس عورت نے جان بوجھ کر نفرت اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے کی خاطر ایسا کیا۔ وہ لکھتا ہے کہ مسلمان شکایت لیکر امام جمعہ کے پاس گئے۔ اس وجہ سے جو ہجوم اکٹھا ہوا تھا اس نے یہودیوں کے محلے پر حملہ کر دیا 36 یہودی مرد قتل کرکے مال و اسباب لوٹ لیا اور ان کی خوبصورت لڑکیوں کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔ وہ لکھتا ہے کہ کچھ لڑکیاں امام جمعہ نے خود رکھ لیں جو اس کے مرنے کے بعد واپس یہویوں کے پاس آگئیں۔ یہودی امام جمعہ کے پاس گئے اور مدد کی درخواست کی۔ اس نے ان سے کہا کہ جب تک تم یہودی ہو میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ یہودی جانتے تھے کہ پایہ تخت تہران ہے اور یہاں مشہد میں ان کی مدد اور شنوائی ناممکن ہے چنانچہ بادل ناخواستہ وہ مسلمان ہو گئے۔ اس پر امام جمعہ نے بلوائیوں سے کہا کہ چونکہ یہ لوگ اب مسلمان ہو چکے ہیں لہذا ان پر حملہ کرنا اور ان کا مال لوٹنا حرام ہے اور جو مال چھینا گیا ہے وہ انہیں واپس کر دیا جائے۔ امام جمعہ کے اس حکم پر مسلمانوں میں سے ایک شخص 25 کلو ریشم واپس کرنے لے آیا لیکن اس کا مالک نہ مل سکا۔ وہ لکھتا ہے کہ مسلمانوں نے یہودیوں کے کنیسہ پر حملہ کر دیا، اس کا مال و اسباب تباہ کر دیا اور وہاں مسجد حسینہ کی بنیاد رکھ دی جو آج تک موجود ہے۔ آگے چل کر وہ کہتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد کچھ یہودی افغانستان اور ترکمانستان چلے گئے اور کچھ جو ظاھرا مسلمان ہوئے تھے وہیں رہ گئے۔ وہ مسلمانوں کی طرح ہی رہتے تھے، مکہ و کربلا جاتے، مساجد میں عبادت کرتے، روزہ رکھتے اور نماز پڑھتے تھے اور مسلمانوں سے حلال گوشت خریدتے تھے۔ لیکن ان کی بیویوں نے وہ گوشت کبھی پکایا نہیں تھا چونکہ وہ شریعت تورات کے پابند تھے اس لیے مسلمانوں سے خریدا گیا گوشت پھینک دیتے تھے اور خفیہ طور پر یہودیوں سے کوشر گوشت خریدتے تھے۔[4]

مشہد کے یہودیوں کا خط ملنے پر سر موسی مونتیفوری نے حکومت برطانیہ سے درخواست کی کہ ان کی حمایت کی جائے تاکہ وہ دوبارہ یہودی ہو سکیں۔ لیکن بہت سے جان کے خوف سے یہ کام نہ کر سکے۔

واقعہ اللہ داد کے بارے میں بیان کی گئی بیشتر روایات کے مطابق جس پہلے شخص نے مسلمانوں کو یہودیوں پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا وہ مشہد کا ایک سید تھا۔ روایات کے مطابق اس سید کی یہودیوں کے محلے میں تمباکو فروشی کی دکان تھی اور اسے کچھ رقم یہودیوں سے چوکیداری کی مد میں بھی ملا کرتی تھی لیکن اس سال یہودیوں نے رقم دینے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس کے دل میں یہودیوں سے عناد پیدا ہو گیا تھا۔

ایک اور روایت کے مطابق مسلمانوں کے غصے کا سبب ایک بچے کا قتل تھا۔ اس روایت کے مطابق ایک مسلمان بچے کو قتل کرکے یہودیوں پر الزام لگانے کی خاطر اس کی نعش ان کے کنیسہ کے احاطے میں ڈال دی گئی چنانچہ مسلمان غصے میں آگئے اور ان پر حملہ کر دیا۔

یعقوب دیلمانیان کی تحریر کے مطابق مشہد میں یہودیوں پر حملے کے بعد یہودیوں کے محلے میں سے پانچ یا چھ افراد حکیمی برادری اور ایک رحیمی برادری سے وہ پہلے افراد تھے جنہوں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ امام جمعہ کے پاس گئے اور مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ امام جمعہ نے اس خوشی میں اس دن کو «اللہ داد» (خدا کا انعام ) کا نام دیا۔ یہ افراد جدید الاسلام یا جدیدیم (عبرانی میں جدید کی جمع) کہلائے. یہودیوں کے لئےسب سے اذیت ناک وہ مرحلہ تھا جب مسلمانوں نے زبردستی ان کی لڑکیوں سے نکاح کیے۔ دیلمیون لکھتا ہے کہ جس مجتہد نے یہودیوں کو مسلمان کیا تھا وہ ان کی دو لڑکیوں حنا اور مشال کو زبردستی لے گیا۔[5]

واقعہ اللہ داد کو ایرانیوں اور یہودیوں کے مابین تعلقات کے اتار چڑھاؤ کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ولف کے مطابق مشہد کے بیشتر یہودی اور ان کا راہنما ملا مھدی آقا جان تاج برطانیہ کے لیے کام کرتے تھے۔ اس واقعے کے علاوہ کچھ عرصہ قبل برطانوی حکومت کی وجہ سے ہرات ایرانیوں کے ہاتھ سے جاتا رہا، اس وجہ سے بھی لوگ یہودیوں سے برانگیختہ تھے۔[6] اس واقعے کے چند سال بعد برطانوی یہودیوں کے سربراہ موسی مونتیفوری نے یہودیوں سے دوبارہ یہودی ہوجانے کو کہا؛ لیکن زیادہ تر یہودیوں نے جان کے خوف سے اس پر عمل نہ کیا۔

بعض یہودیوں نے جان کے خوف اور باوجود مذہب تبدیل کرنے کے مسلمانوں کی طرف سے عدم اعتماد کے رویے کی وجہ سے راہ ہجرت اختیار کی۔ کچھ لوگ سمرقند و بخارا کی طرف نکل گئے اور زیادہ تر ہرات چلے گئے۔ ہرات کے مسلمان سُنی تھے اور ان کے یہودیوں سے تعلقات شیعوں کی نسبت بہتر تھے۔[7]

دہری زندگی[ترمیم]

اس واقعہ کے بعد مشہد کے یہودیوں نے دہری زندگی گزارنا شروع کردی۔ ہر شخص کے دو نام ہوتے تھے۔ ایک عبرانی جو اصل نام ہوتا تھا اور ایک غیر یہودی نام معاشرے میں تعارف کے لیے ہوتا تھا۔ البتہ عورتوں کے دو نام نہیں تھے کہ ان کا واسطہ غیر یہودی باہر کے افراد سے نہیں تھا۔ جیسے ہی کوئی لڑکی پیدا ہوتی اس کے کان سل کر بالیاں پہنا دی جاتیں اور اعلان کر دیا جاتا کہ اس کی شادی فلاں جگہ طے ہو گئی ہے اور اس طرح مسلمانوں کے رشتہ مانگ لینے کے خطرے سے جان چھوٹ جاتی تھی۔ مخفی یہودیوں نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ مسلمانوں سے حلال گوشت تو خریدیں گے لیکن اسے اپنی بلیوں اور کتوں کو کھلا دیں گے۔ وہ مجبوراً اپنی دکانیں ہفتہ کے دن کھلی تو رکھتے لیکن وہاں ایک چھوٹے بچے کو بٹھا دیتے جو پوچھنے پر کہتا کہ ابا کچھ دیر تک آئیں گے۔ سب سے زیادہ مشکل عید فسح کے دن پیش آتی جب مسلمان شبہات دور کرنے کے لیےان کے بچوں سے پوچھتے تھے کہ آج تمہارے گھر والوں نے بغیر خمیر کے روٹی پکائی ہے یا نہیں؟ چنانچہ یہودی عید فسح سے کچھ دن پہلے ہی بے خمیر روٹی پکا لیتے تھے تاکہ بچوں کو بھول جائے۔ باوجود اس کے کہ یہودی بظاہر مسلمان ہو گئے تھے، مسلمان ان پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ ان میں زیادہ گھلے ملے نہیں اورانہوں نے درپردہ اپنے اعمال و عبادات کو جاری رکھتے ہوئے اپنی جداگانہ شناخت برقرار رکھی۔

مشہد کا ایک نو مسلم یہودی اس وقت کے یہودیوں کی زندگی اس طرح سے بیان کرتا ہے:

جو یہودی اسلام قبول کر چکے تھے ان کے دو نام ہوا کرتے تھے : جیسا کہ میرے دادا کا اسلامی نام شیخ ابوالقاسم اور عبرانی نام بنیامین تھا۔ میرے باپ کا اسلامی نام ابراھیم اور عبرانی نام آبرھام تھا۔ مجھے گھر سے باہر موسی اور گھر میں موشہ کہا جاتا تھا۔ میرے باپ کے زمانے میں اسلامی تسلط کی وجہ سےبیشتر یہودیوں کے اسلامی نام تھے حتی کہ وہ لوگ مکہ جا کر حج بھی کر آئے”[8]

علیا[ترمیم]

جنگ عظیم دوم کے بعد مشہد کے بیشتر یہودی تہران سے اسرائیل اور امریکا کی طرف ہجرت (علیا) کر گئے۔ بیسویں صدی میں مشہد کے یہودی عالیا ( اسرائیل کی جانب مذہبی ہجرت) جاری رکھتے ہوئے وہاں منتقل ہو گئے۔ مشہد کے یہودی تل ابیب، ھرزولیا اور بنی باراک میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ھولون میں مقیم ہیں۔ مشہد کے یہودیوں کی اس ہجرت میں ان کا راہنما میر عزی تھا۔ اسحاق حکیمی اور ابرہام صیہون نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ نیو یارک میں مشہد کے یہودیوں کا مخصوص محلہ اور چند کنیسہ بھی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Narrative of a mission to Bokhara, in the years 1843-1845, to ascertain the fate of Colonel Stoddart and Captain Conolly, page 147, London, J.W. Parker, 1845.
  2. Jadid al-Islam: The Jewish “New Muslims” of Meshhed By Raphael Patai ,Wayne State University Press, Jun 1, 2015 , Pages 53-55.
  3. Jadid al-Islam: The Jewish “New Muslims” of Meshhed By Raphael Patai ,Wayne State University Press, Jun 1, 2015 , Page 57.
  4. Jadid al-Islam: The Jewish “New Muslims” of Meshhed By Raphael Patai ,Wayne State University Press, Jun 1, 2015 , Page 59.
  5. Jadid al-Islam: The Jewish “New Muslims” of Meshhed By Raphael Patai ,Wayne State University Press, Jun 1, 2015 , Page 61.
  6. Between Shi'is and Foreigners, Daniel Tsadik, page 35, Stanford University Press, 2007.
  7. The Jews of the Middle East and North Africa in Modern Times, Reeva S. Simon, Michael Menachem Laskier, Sara Reguer, Columbia University Press, Aug 13, 2013
  8. Sad Fate of Iran's Jews | IWPR