واقعۂ حرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

"حرہ" پتھریلی زمین کو کہتے ہیں؛ چونکہ مدینہ کا ایک حصہ پتھریلا اور آتش فشانی پتھروں سے ڈھکا ہوا ہے، اسی لیے "حرہ" کہلاتا ہے "حرہ واقم" کے راستے افواج یزید کی آمد پر یہ واقعہ "واقعۂ حرہ" کہلایا۔[1]

یزید بن معاویہ کے دور میں سانحۂ کربلا کے بعد دوسرا بڑا شرمناک سانحہ مدینہ پر شامی افواج کی چڑھائی تھی جس میں انہوں ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کیں اور مدینہ میں قتل عام کیا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ 63ھ میں پیش آیا اور واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ یزید کی بھیجی ہوئی افواج نے دس ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور تین دن تک مسجد نبوی میں نماز نہ ہو سکی۔[2]

پس منظر[ترمیم]

سانحۂ کربلا کے بعد حجاز میں یزید کے خلاف غم و غصہ اور نفرت اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا اور وہاں سے ایک انقلاب اٹھ رہا تھا۔ اہل مکہ نے عبد اللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اہل مدینہ نے بھی یزید کے خلاف کاروائی شروع کردی۔ اس صورت حال میں یزید نے اہل مدینہ کو سمجھانے کے لیے وفد بلوایا اور امیر مدینہ عثمان بن محمد نے ایک وفد صحابی رسول عبد اللہ بن حنظلہ کے ہمراہ دار الحکومت دمشق روانہ کیا۔[3] یزید کے وفد سے نرم سلوک اور انعام و اکرام سے نوازنے کے باوجود سانحۂ کربلا سے پیدا ہونے والا خلا برقرار رہا اور وفد مطمئن نہ ہوا۔صحابی نے واپس آ کے بتایا کہ یزید شراب پیتا ہے اور نشے کی وجہ سے نماز میں سستی کرتا ہے۔اہل مدینہ سب منبر نبی کے پاس سب جمع ہوئے اور عثمان بن محمد کو معزول کر کے یزید کو بیعت کے قابل نہ جانا اہل مدینہ مزید یزید کے جرائم سن کر امویوں کے مقابلے میں کھلم کھلا مخالفت اختیار کر گئے۔[4] اس نفرت کے نتیجے میں اموی خاندان کے افراد کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔[حوالہ درکار]

واقعات[ترمیم]

مدینہ پر چڑھائی[ترمیم]

ان واقعات کا علم جب یزید کو ہوا تو وہ غصے میں آ گیا اور اس نے مسلم بن عقبہ کو مدینہ منورہ پر فوج کشی کا حکم دیا۔ مسلم بن عقبہ یزید کے حکم پر بارہ ہزار آدمیوں کے لے کر مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔ لشکر کی روانگی کے وقت یزید نے بذات خود چند احکامات کی پابندی کا حکم دیا۔ وہ احکامات یہ تھے:

  1. اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت دینا تاکہ وہ اس عرصے میں کوئی فیصلہ کر لیں
  2. تین دن کے بعد اگر وہ اطاعت قبول نہ کریں تو جنگ کرنا
  3. جنگ میں کامیابی کی صورت میں تین روز تک قتل عام جاری رکھنا اور مال و اسباب لوٹنا
  4. علی بن حسین علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچانا۔

ان احکامات پر عمل کرنے کا وعدہ کر کے مسلم اپنے لشکر کے ہمراہ مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔ مدینہ کے قریب پہنچ کر مسلم نے اہل مدینہ کو مصالحت کی دعوت دی اور ساتھ ہی تین دن کی میعاد مقرر کی۔ لیکن اس عرصے میں اہل مدینہ خاموش رہے۔ تین دن کے بعد مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کو جنگ یا صلح میں سے ایک راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی۔ اہل مدینہ یزید کی اطاعت قبول کرنے پر تیار نہ تھے، انہوں نے جنگ کو ترجیح دی۔

جنگ میں مدنی لشکر کی قیادت صحابی رسول عبد اللہ بن حنظلہ نے کی لیکن اہل مدینہ کو شکست ہوئی اور عبدالرحمن بن عوف اور عبداللہ بن نوفل سمیت کئی اکابرین شہید ہوئے۔[2] مسلم نے فتح حاصل کرنے کے بعد یزید کے حکم کے مطابق قتل و غارت گری کی اور یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہا۔ اس واقعے میں سینکڑوں شرفائے قریش و انصار اور ہزاروں دیگر قبائل کے آدمی کام آئے۔ تین دن کے بعد باقی ماندہ لوگوں سے بیعت کرنے پر اصرار کیا گیا۔ ان سے یزید کی غلامی اور جان و مال کا مالک یزید کو بنانے کے کے عنوان سے جبراً بیعت لی گئی اور انکار کی صورت میں یا یہ کہنے پر کہ میں قرآن و سنت پر بیعت کرتا ہوں شہیدکر دیا گیا۔ امام زین العابدین بھی پیش ہوئے لیکن یزید کی ہدایت کے مطابق ان سے کوئی سختی نہ کی گئی۔ مدینۃ النبی پر حملہ 63ھ میں ہوا جو واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ یہ یزیدی عہد کا ایک بہت بڑا شرمناک المیہ تھا۔

تاریخی مستندات[ترمیم]

واقعہ حرہ، یزید بن معاویہ کا تاریخی جرم حرہ کا واقعہ ذوالحجہ سنہ 63 ہجری میں رونما ہوا۔ (ابن اثیر، کامل، ج4، ص120)۔(طبری، تاریخ طبری، ج4، ص374)۔ تاریخ کے اوراق اس رسوائی سے بھرے پڑے ہیں کوئی مورخ ایسا نہیں جس نے اسے بیان نہ کیا ہو۔

واقعہ کربلا کے بعد یزید کے جرائم اور مظالم کے خلاف تحریکوں کا آغاز ہوا؛ مدینہ میں صحابی رسول عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ اور کئی بااثر افراد نے بھی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اہل مدینہ نے ابن حنظلہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر والی مدینہ عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو نکال باہر کیا؛ بنو امیہ یزید کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے اہل مدینہ صحابہ اور تابعین کے نزدیک مورد نفرت اور پرخاش قرار پاتے تھے تو ڈر کرمروان بن حکم کے گھر میں جمع ہوئے اور انہیں وہیں قید کر لیا گیا۔ اہل مدینہ نے یزید کو معزول کیا اور جب اس کو خبر ملی تو باپ کی وصیت پر عمل کرکے مسلم بن عقبہ کو لشکر دے کر مدینہ روانہ کیا۔ معاویہ نے یزید کو وصیت کی تھی کہ "مدنی بیعت نہ کریں تو انہیں مسلم بن عقبہ کے ذریعے کچل دینا! (ابن اثیر، الکامل، ج4، ص112)۔(مسلم بن قتيبۃ، الامامۃ والسیاسۃ، ج1، ص231)۔

ابن عقبہ نے تحریک کو کچل دیا اور مدینہ میں بے شمار مسلمانوں اور صحابہ و تابعین کو تہ تیغ کیا۔ ابن اثیر لکھتا ہے: مسلم بن عقبہ نے مدینہ کو تین دن تک اپنے لشکروالوں کے لیے مباح کر دیا اور انہوں نے جو چاہا کیا۔ (كامل ابن اثير، ج 4، ص 117)۔

ابن قتیبہ لکھتا ہے: ایک شامی سپاہی ایک گھر میں داخل ہوا اور مال و دولت کے بارے میں پوچھا، گھر کی خاتون نے کہا: جو کچھ تھا وہ تمہارے سپاہی لوٹ کر لے گئے۔ یزیدی سپاہی نے اس کی گود سے شیر خوار بچہ چھین کر دیوار پر دے مارا جس کی وجہ سے بچے کا مغز باہر آگیا۔ (مسلم بن قتيبۃ، الامامۃ والسیاسۃ، ج1، ص832)۔

مسلم بن عقبہ نے مدینہ پر مسلط ہونے کے بعد ان سے یزید کے غلاموں کے طور بیعت لی اور ان سے ان کے مال و جان اور اولاد پر یزید کے حق تصرف کا عہد لیا۔ اور جس نے ایسا نہ کیا وہ شہید کر دیا گیا۔ (تاريخ طبرى، ج 4، ص 381-384)۔ (كامل ابن اثير، ج 4، ص 123-124)۔(مروج الذہب، ج3، ص70)۔

کربلا کے واقعے میں یزید کو سماجی حوالے سے بھی شکست ہوئی تھی چنانچہ اس نے ابن عقبہ سے کہا تھا امام زین العابدین علیہ السلام کو نہ چھيڑے۔ اس درد ناک واقعے میں مہاجر وانصار سے سترہ سو افراد اور دوسرے مسلمانوں میں سے دس ہزار لوگ قتل ہوئے۔(مسلم بن قتيبۃ، الامامۃ والسياسۃ، ج1، ص239 وج2، ص19)۔

ابن ابی الحدید لکھتا ہے: یزیدی فوج نے مدینہ کے لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا؛ زمین پر گرے ہوئے خون کی فراوانی تھی اور قدم رکھنے کی جگہ نہ تھی۔ مہاجرین و انصار اور ان کی اولادوں اور مجاہدین بدر کو قتل کیا اور باقیماندہ لوگوں سے یزید کے غلاموں کی حیثیت سے بیعت لی۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج3، ص952)۔

تمام مؤرخین لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ نے اس قدر بے گناہ لوگوں کا خون بہایا کہ وہ مسرف کہلایا۔ (مسعودی۔ مروج الذهب، جلد3، ص96)۔(کامل ابن اثیر، ج4، ص120)۔

اس واقعے میں ہزاروں خواتین کو جبری زنا کا نشانہ بنایا گیا جس سے بن باپ کے بے شمار بچے پیدا ہوئے۔(مسلم بن قتيبۃ، الامامۃ و السياسۃ، ج2، ص 15)

حموی لکھتا ہے: مسلم بن عقبہ نے خواتین کو اپنے فوجیوں کے لیے مباح کر دیا تھا۔(یاقوت حمودی معجم البلدان، ج2، ص942 (لفظ حرہ))۔

سیوطی لکھتے ہیں: حسن بصری نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا: خدا کی قسم! اس واقعے میں کسی کو بھی نجات نہیں ملی؛ زیادہ تر صحابہ اور دوسرے مسلمان مارے گئے، مدینہ کو لوٹا گیا اور ایک ہزار کنواری لڑکیوں کے ساتھ زنا کیا گیا!!۔ اس کے بعد حسن بصری نے آیت استرجاع "(اناللہ و انا الیہ راجعون)" کی تلاوت کرتے ہوئے کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا: "جس نے اہلیان مدینہ کو ہراساں کیا اس پر خدا، ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ [5] کسی مورخ نے ان تمام باتوں سے اختلاف نہیں کیا۔ حتی کہ صحابہ کرام نے اس کی مذمت کی اور تابعین نے ان واقعات کو اسی طرح افسوس و دکھ کے ساتھ بیان کیا ہے۔

یزید اور بنو امیہ کے کچھ حامیوں کا خیال ہے کہ :

طبری میں واقعہ حرہ کی تمام تر روایات ابو مخنف اور ہشام کلبی کی روایت کردہ ہیں جن کا بنو امیہ سے بغض اور تعصب مشہور ہے۔ اس وجہ سے ان کی بیان کردہ ان تفصیلات پر اعتماد  نہیں کیا جا سکتا ہے کہ  جن میں انہوں نے ظلم کو بنو امیہ کی طرف منسوب کیا ہے۔  یہ لوگ بیان کرتے ہیں کہ بغاوت پر قابو پا لینے کے بعد مدینہ منورہ کو تین دن تک کے لیے مباح کر دیا گیا، شہریوں کا مال لوٹا گیا اور لوگوں کو بے جا قتل کیا گیا۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ پھر اس کا بیان کرنے والا اکیلا ابو مخنف نہ ہوتا بلکہ اور بھی بہت سے لوگ اسے بیان کر رہے ہوتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تفصیلات بھی بنو امیہ کے خلاف اس پراپیگنڈے کا حصہ تھیں جو ان کی حکومت کو گرانے کے لیے کیا گیا۔ ممکن ہے کہ سرکاری فوجوں نے کچھ زیادتیاں کی ہوں لیکن اس بارے میں یقین کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی جا سکتی ہے کیونکہ ان روایات کا راوی صرف ایک ہی شخص ہے اور وہ ناقابل اعتماد ہے۔[حوالہ درکار]

رہی یہ بات کہ تین دن کے لیے مدینہ شہر میں فوجیوں نے ہزاروں  خواتین کو ریپ کیا  اور  اس کے نتیجے میں ایک ہزار خواتین حاملہ ہوئیں، ایسی بے بنیاد بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس کا خیال نہیں آیا۔ اگر اس میں کچھ بھی حقیقت ہوتی، تو جہاں ابو مخنف نے ڈھیروں دوسری روایتیں  وضع کی ہیں، وہاں اس کو وہ کیسے چھوڑ دیتا؟ پھر اگر یہ واقعہ ہوا ہوتا تو ہر ہر شہر میں یزید کے خلاف بغاوت اٹھتی جاتی۔ عربوں کے بارے میں تو دور جاہلیت میں بھی یہ گمان مشکل ہے کہ ان کی خواتین پر کوئی ہاتھ ڈالے تو وہ خاموشی سے دیکھتے رہیں کجا یہ کہ دور اسلام میں ایسا ہو او رسب لوگ تماشہ دیکھتے رہیں۔  کیا ان سب نے چوڑیاں پہن رکھی تھیں یا ان کی غیرت گھاس چرنے چلی گئی تھی؟[حوالہ درکار]

ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور ابو مخنف نے بھی انہیں بیان  نہیں کیا ہے۔  یہ روایت ابن کثیر (701-774/1301-1372)نے مدائنی (135-225/752-840)کے حوالے سے البدایہ و النہایہ میں درج کی ہے اور ساتھ واللہ اعلم لکھ کر اس واقعے سے متعلق شک کا اظہار کیا ہے۔  مدائنی نے بھی اس کی سند یہ بیان کی ہے: قال المدائني عن أبي قرة قال۔ اب معلوم نہیں کہ یہ ابو قرۃ کون صاحب ہیں اور کس درجے میں قابل اعتماد ہیں۔  اور وہ خود واقعہ حرہ کے ساٹھ سال بعد پیدا ہوئے۔ وہ واقعے کے عینی شاہد نہیں تھے۔  اگر یہ خواتین اس طرح ریپ ہوئی ہوتیں  اور اس کے نتیجے میں ایک ہزار ولد الحرام پیدا ہوئے ہوتے تو انساب کی کتابوں میں تو اس کا ذکر ملتا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے باپ کا نام معلوم نہیں ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔ ابن کثیر  نے بھی اس روایت کو محض  نقل کیا ہے اور اس پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔[حوالہ درکار]

حالانکہ تمام واقعات طبری سے پہلے سب قدیم ترین مورخین نے اسی طرح بیان کئے ہیں۔

مدنی شہدائے حرہ[ترمیم]

واقعہ حرہ کے شرم ناک واقعے میں صحابہ و تابعین جن میں حفاظ قرآن و حدیث تھے نہایت مظلومانہ انداز میں مدینۃ النبی میں مجبور اور لاچار کر کے شہید کئے گئے۔تمام کتب نے صحابہ کرام اور تابعین عظام شہداء کی بڑی بڑی تعداد نقل کی ہے۔ تابعی مورخ خلیفہ بن خیاط اپنی کتاب تاریخ خلیفہ بن خیاط نے صرف مدنی صحابہ اور تابعین کی فہرست بیان کی ہے۔[6]

شہدائے قریش[ترمیم]

بنو ہاشم[ترمیم]

بنو سلیم بن منصور[ترمیم]

بنو المطلب بن عبد مناف[ترمیم]

بنو نوفل بن عبد مناف[ترمیم]

بنو مازن بن منصور[ترمیم]

بنو أمیة بن عبد شمس[ترمیم]

بنو أسد بن عبد العزى[ترمیم]

بنو عبد الدار بن قصی[ترمیم]

بنو زہرة[ترمیم]

بنو تیم بن مرة[ترمیم]

بنو مخزوم[ترمیم]

بنو عدی بن كعب[ترمیم]

بنو سهم بن عمرو[ترمیم]

بنو جمح بن عمرو[ترمیم]

بنو عامر بن لؤی[ترمیم]

بنو حجیر بن معیص[ترمیم]

بنو الحارث بن فهر[ترمیم]

بنو قیس بن الحارث بن فهر[ترمیم]

بنو محارب بن فهر[ترمیم]

شہدائے انصار[ترمیم]

اوس[ترمیم]

بنو عوف[ترمیم]
بنو حنش بن عوف بن عمرو[ترمیم]
بنو ثعلبة[ترمیم]
بنو جحجبا بن كلفة[ترمیم]
بنو العجلان[ترمیم]
بنو معاویة بن مالك[ترمیم]
بنو عبد الأشهل[ترمیم]
بنو زعوراء[ترمیم]
بنو النبیت عمرو بن مالك[ترمیم]
بنو حارثة بن الحارث[ترمیم]
بنو ظفر[ترمیم]

الخزرج[ترمیم]

بنو مالك بن النجار[ترمیم]
بنو عدی بن النجار[ترمیم]
بنو دینار بن النجار[ترمیم]
بنو مازن بن النجار[ترمیم]
بنو الحرث بن الخزرج[ترمیم]
بنو عوف بن الخزرج[ترمیم]
بنو سالم بن عوف[ترمیم]
بنو سلمة[ترمیم]
بنو بیاضة[ترمیم]
بنو زریق[ترمیم]
آل المعلى[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن منظور، لسان العرب، لفظ حرہ
  2. ^ ا ب ابن کثیر، تاریخ الخلفاء
  3. تاریخ ابن خلدون جلد دوم صفحہ 136
  4. البدایہ و النہایہ
  5. (تاریخ الخلفاء، صفحہ 233)۔(مسلم، صحیح، کتاب الحج، باب فضل المدینہ، حدیث 10 و16)۔(مسند احمد، ج4، ص55)۔(کنزالعمال، ج12، ص246 تا 247)۔
  6. كتاب تاریخ خلیفة بن خیاط، الصفحات 240-250 آرکائیو شدہ 2017-05-13 بذریعہ وے بیک مشین
  7. حسب كتاب تاریخ خلیفة بن خیاط بن أبی ہبیرة۔ واضح نہیں ہے کہ کیا یہ وہی مشہور سعید بن جبیر ہیں یا کوئی اورشخص ہیں۔