واچسپتی مشرا
واچسپتی مشرا | |
|---|---|
| ذاتی زندگی | |
| پیدائش | نویں/دسویں صدی عیسوی[1][2][3] |
| وفات | نامعلوم، نویں/دسویں صدی عیسوی[1] |
| مذہب | ہندومت |
| شریک حیات | بھامتی |
| فلسفہ | ادویت ویدانت، ہندومت |
| مضامین بسلسلہ |
| ادویت |
|---|
|
|
| مضامین بسلسلہ |
| ہندو فلسفہ |
|---|
واچسپتی مشرا (دیوناگری: वाचस्पति मिश्र)، نویں یا دسویں صدی عیسوی[1][2][3] میں بھارت کے ایک ہندو فلسفی تھے، جن کا تعلق ادویت ویدانت کے دبستان فکر سے تھا۔ انھوں نے نویں صدی عیسوی کے تقریباً ہر ہندو مکتبِ فکر کی کلیدی کتابوں کی شروحات (بھاشیہ) تحریر کیں۔[4][3] نیز شنکر کے افکار کو منڈن مشرا کے نظریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا، جو دسویں صدی عیسوی تک ادویت ویدانت کے سب سے مستند شارح تسلیم کیے جاتے تھے۔ واچسپتی نے قواعد زبان پر "تتو بندو" (तत्त्वबिंदु) یعنی "قطرۂ حقیقت" کے عنوان سے ایک مقالہ بھی تحریر کیا تھا جو جملوں کے معانی و مفاہیم سے متعلق میمانسا کے مخصوص نظریات پر مشتمل ہے۔
سوانح عمری
[ترمیم]واچسپتی مشرا صوبۂ بہار کے ضلع مدھوبنی کے علاقے اندھرا ٹھاڈھی میں آباد ایک میتھل برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔[5][3] واچسپتی مشرا کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں؛ قدیم ترین دستیاب تحریر جس کی یقینی تاریخ معلوم ہے، وہ 840ء کی ہے۔ واچسپتی مشرا آدی شنکر سے کم از کم ایک نسل پیشتر گذرے تھے۔[2] تاہم بعض محققین کے مطابق اسی تحریر کی ایک متبادل تاریخ 976ء بھی ہو سکتی ہے؛ یہ الجھن اس بنیاد پر پیدا ہوتی ہے کہ آیا تاریخ کے تعین کے لیے ہندو شک تقویم استعمال کی گئی ہے یا وکرم سنوت۔[3]
واچسپتی منڈن مشرا کے شاگرد تھے اور وہی ان کے اصل محرک بھی تھے۔ چنانچہ واچسپتی نے شنکر کے افکار کو منڈن مشرا کے خیالات کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔[6][ویب 1] ادویت روایت کہتی ہے کہ شنکر نے واچسپتی مشرا کے روپ میں دوبارہ جنم لیا تھا تاکہ "اپنی تصنیف "بھامتی" کے ذریعے ادویت نظام کو مقبول عام بنا سکیں۔"[7]
واچسپتی نے بھارتی فلسفے کی مختلف شاخوں پر اس قدر شرح و بسط سے لکھا ہے کہ بعد کی صدیوں میں آنے والے ہندوستانی دانش وروں نے انھیں ایک ایسی شخصیت قرار دیا "جس کے لیے تمام نظام اپنے ہی ہیں" اور انھیں "سرو تنتر سوتنتر" کے سنسکرت لقب سے نوازا۔[8]
تصانیف
[ترمیم]بھاشیہ
[ترمیم]واچسپتی مشرا ایک کثیر التصانیف دانش ور تھے اور ان کی تحریریں بیشتر موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ چنانچہ ان تحریروں میں نویں صدی کے تقریباً ہر ہندو مکتبِ فکر کی کلیدی کتابوں کی بھاشیہ (شروحات) موجود ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں غیر ہندو یا "ناستک" روایات مثلاً بدھ مت اور چارواک مکتب فکر کی کتابوں پر بھی حواشی ملتے ہیں۔[4][3]
واچسپتی مشرا نے شنکر کے "برہم سوتر بھاشیہ" کی ایک شرح "بھامتی" تحریر کی تھی جسے انھوں نے اپنی زاہدہ اور عقیدت مند زوجہ کے نام سے موسوم کیا،[9][10][ا] اس کے علاوہ انھوں نے منڈن مشرا کی کتاب "برہم سدھی" کی شرح "برہمتتو سمیکشا" کے نام سے لکھی۔ "بھامتی ٹیکا" کی تشریح سوامی املانند نے 1300ء کے قریب اپنی ذیلی شرح "کلپترو" میں کی۔ اسی طرح ذیلی شرح "کلپترو" کی وضاحت مہاپنڈت اپیا دکشت نے 1600ء میں اپنی ذیلی شرح "پریمل" میں پیش کی۔[12] 1983ء میں مہارشی دیانند یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایشور سنگھ نے "بھامتی: ایک ادھیَن" کے نام سے ایک تحقیقی کتاب شائع کی، جو ویدانت فلسفہ کے تناظر میں واچسپتی مشرا کی علمی خدمات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔[13]
ان کی دیگر ممتاز شروحات میں سانکھیہ کارکا کی "تتوکومودی"،[14] نیائے سوتر کی "نیائے سوچی نبندھ"، [1] "نیائے کانیکا" (علم منطق پر ایک ادویت تصنیف)، "تتو سمیکشا" (جو اب مفقود ہے)، "نیائے وارتِک تاتپریہ ٹیکا" (نیائے سوتر کی ایک ذیلی شرح) اور یوگ سوتر کی "تتو ویشاردی" شامل ہیں۔[3]
اگرچہ واچسپتی مشرا کی بعض اہم تصانیف ضائع ہو چکی ہیں، لیکن کچھ اب بھی ملتی ہیں۔ مثلاً بھارت کے مختلف حصوں سے ان کی کتاب "تتوکَومُدی" (جس کا لفظی معنیٰ "حقیقت پر چاندنی کی روشنی" کے ہیں) کے نوے سے زائد قرونِ وسطیٰ کے قلمی نسخے دریافت ہوئے ہیں۔[3] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کام نہایت مقبول اور موثر رہا ہے۔ "تتوکَومُدی" کا ایک تنقیدی ایڈیشن 1967ء میں سری نواسن نے شائع کیا تھا۔[3]
"تتو بِندو" - نظریۂ معنی
[ترمیم]"تتو بندو" میں واچسپتی مشرا نے اصولِ تفسیر وضع کیے اور اس میں ہندو فلسفے کے مکتب فکر "میمانسا" کے مخصوص "نظریۂ معانی" پر بحث کی۔[3] یہ ایک اہم تصنیف ہے جس میں سنسکرت کی کلاسیکی کتابوں کی تشریح کے بعض تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ واچسپتی نے اس کتاب میں لغوی معانی کے درج ذیل پانچ مقابل نظریات کا جائزہ لیا ہے:[8][15]
- منڈن مشرا کا نظریہ (اسفوٹ واد)، جس میں کسی لفظ یا جملے کے معنی کو ایک وحدانی صوتی اکائی یا اسفوٹ کے ادراک کے ذریعے سمجھا جاتا ہے، یہ ان اجزا (آوازوں یا حروف) سے الگ ہے جن سے مل کر لفظ یا جملہ بنتا ہے۔
- نیائے کا نظریہ، جس کی رو سے کسی لفظ یا جملے کے لمحاتی اجزا کے ’تاثراتِ حافظہ‘ (سنسکار) کو باہم مربوط کیا جاتا ہے، جب ہم اس لفظ یا جملے کے آخری لمحاتی جز کو سنتے ہیں۔
- اسی طرح کا "میمانسا" کا نظریہ، جس کے مطابق جملے کے معنی کا ہمارا ادراک ان الفاظ کے ذریعے پیدا ہونے والے حافظے کے نقوش میں مضمر ہے
- پربھاکر میمانسا کا نظریہ، "انوِتابِھدھان واد" (अन्विताभिधानवाद)، یعنی "وہ نقطہ نظر جس کی رو سے دلالت (معانی کا ابلاغ) اس شے سے عبارت ہے جو مربوط ہے"۔ اس نظریے کے مطابق جملے کے معنی الفاظ کے معانی سے ماخوذ ہوتے ہیں، جو دوسرے الفاظ کے معنی پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس میں کسی "اسفوٹ" کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور
- بھٹ میمانسا کا نظریہ، "ابِھہِتانوَے واد" (अभिहितान्वयवाद)، یعنی "وہ نقطۂ نظر جس میں تعلق (انویہ) اس سے عبارت ہے جو مدلول بن چکا ہے"۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق لفظ کے معنی پہلے مکمل طور پر واضح ہوتے ہیں اور پھر انفرادی الفاظ کے معانی "لکشن" (استعارہ/کنایہ) کے ذریعے آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ واچسپتی نے بھٹ کے اس نظریے سے اتفاق کیا ہے اور اپنی دیگر تصانیف مثلاً نیائے کی ذیلی شرح "نیائے وارِتِک تاتپریہ ٹیکا" اور "تتو ویشاردی" میں بھی اس کا ذکر کرتے ہیں۔[8]
بھامتی مکتبِ فکر
[ترمیم]بھامتی مکتبِ فکر یا "بھامتی پرستھان"،[16][17][18] کا نام شنکر کے "برہم سوتر بھاشیہ" پر لکھی گئی واچسپتی کی شرح کے نام پر رکھا گیا ہے،[ویب 1][ویب 2] تاہم اس کی کئی امتیازی خصوصیات منڈن مشرا کی "برہم سدھی" سے بھی ماخوذ ہیں۔ یہ مکتبِ فکر "جیو" (انفرادی روح) کو اودیا (جہالت) کا منبع یا مقام سمجھتا ہے۔[ویب 1] بھامتی مکتبِ فکر کے مطابق اگرچہ "برہم اودیا کا موضوع ہے"۔[19] "بھامتی ٹیکا" کے آغاز میں واچسپتی مشرا اودیا کی دو اقسام کا ذکر کرتے ہیں۔ جہالت (اودیا) کی تعداد اتنی ہی ہے جتنے جاندار موجود ہیں۔ یہ مکتبِ فکر روح اور خدا کی فطرت کے حوالے سے "اوچھید واد" (अवच्छेदवाद) یعنی "امتیازی تحدید" کے نظریے کو تسلیم کرتا ہے۔ واچسپتی مشرا کا خیال تھا کہ وہ برہم جو مایا (وہم) یا اودیا کی قید میں ہے، وہ جاندار (جیو) ہے، جبکہ مایا سے ماورا برہم، ایشور (خدا) ہے۔[19]
یہ مکتبِ فکر مراقبے (دھیان) کو نجات کے حصول کا بنیادی ذریعہ قرار دیتا ہے، جبکہ ویدوں کا مطالعہ اور فکری غور و خوض ثانوی عوامل ہیں۔[20] واچسپتی مشرا ادویت ویدانت کی اس روایت سے وابستہ تھے جسے "پرَسنکھیان واد" کہا جاتا ہے اور "دھیان کے نظریے" پر یقین رکھتی ہے۔ یہ مسلسل مراقبے کا نظریہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق "سَمُچّے وادیوں" کے برخلاف کرم (اعمال) کی بجا آوری "برہم کے علم" کے حصول میں معاون ثابت نہیں ہوتی۔ اس نظریے کی رو سے انسان کو مراقبے کی مشق شروع کرنے سے پہلے تمام اعمال (کرموں) کو تیاگ دینا چاہیے۔ مراقبے کی یہ مشق اپنشد کے متن کے اس "مہا واکیہ" (عظیم جملہ) یعنی "تت توم اسی" (تم وہی ہو) کے معنی پر کی جاتی ہے۔ منڈن مشرا کی طرح واچسپتی مشرا کا بھی اعتقاد تھا کہ مراقبے کی مشق کے دوران میں کوئی دوسرا حکم یا پابندی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ویدانتی تعلیمات کا صحیح علم روزمرہ کی زندگی میں غلط علم کے در آنے سے زائل ہو سکتا ہے۔[21]
حواشی
[ترمیم]- ↑ پوجا کشیپ: "دسویں صدی میں لکھی گئی 'بھامتی ٹیکا' بھامتی نامی ایک ایسی خاتون کا تذکرہ کرتی ہے جو پورے اٹھارہ سال صرف چراغ روشن کرتی رہی جب اس کے فلسفی شوہر واچسپتی مشرا چھٹے شنکر آچاریہ کی دی ہوئی کتاب 'برہم سوتر' کی شرح و تجزیہ کی تصنیف میں منہمک رہتے۔ جب کتاب مکمل ہوئی تو مشرا نے اپنے پہلو میں دیا روشن کرنے والی خاتون سے اس کی شناخت پوچھی جس پر اس نے جواب دیا 'میں آپ کی بیوی ہوں'۔ اپنے کام کے تئیں اہلیہ کی اس بے مثال لگن سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے اس کتاب کا نام 'بھامتی ٹیکا' رکھ دیا۔"[11]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 Fowler 2002, p. 129
- 1 2 3 Isaeva 1993, p. 85-86
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 Larson & Bhattacharya 1987, p. 301-312
- 1 2 Chatterji 1912, p. vi
- ↑ Jhunu Bagchi (1993). The History and Culture of the Pālas of Bengal and Bihar, Cir. 750 A.D.-cir. 1200 A.D. (بزبان انگریزی). Abhinav Publications. ISBN:978-81-7017-301-4.
- ↑ Roodurmun 2002, p. 35
- ↑ Roodurmun 2002, p. 34
- 1 2 3 Phillips 2015
- ↑ eGangotri۔ Bhamati Of Vachaspati Mishra By Dhundhiraj Shastri 1st Part 1935 Kashi Sanskrit Series No. 116 Chaukhamba
- ↑ S. Ranganath (1999). Contribution of Vācaspati Miśra to Indian Philosophy (بزبان انگریزی). Pratibha Prakashan. ISBN:978-81-7702-002-1.
- ↑ "Bhamati Tika"۔ The Times of India۔ 14 جنوری 2011۔ ISSN:0971-8257۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-07-13
- ↑ Dr Rishika Verma (29 Dec 2023). Samkhyadarshan Avam Shankarvedant ka Tulanatmak Adhyayan (بزبان ہندی). Blue Rose Publishers.
- ↑ Dr Ishwar Singh (1983)۔ 1983 -Bhamati Ek Adhyayana
- ↑ Isaeva 1993, p. 124
- ↑ Ranganath 1999
- ↑ www.wisdomlib.org (14 Oct 2012). "Bhamati, Bhāmatī: 8 definitions". www.wisdomlib.org (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-07-13.
- ↑ "Bhamati school | philosophy | Britannica". www.britannica.com (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-07-13.
- ↑ Mona Rawal (2018), Pankaj Jain; Rita Sherma; Madhu Khanna (eds.), "Vācaspati Miśra", Hinduism and Tribal Religions, Encyclopedia of Indian Religions (بزبان انگریزی), Dordrecht: Springer Netherlands, pp. 1–5, DOI:10.1007/978-94-024-1036-5_630-1, ISBN:978-94-024-1036-5, Retrieved 2024-07-13
- 1 2 www.wisdomlib.org (14 Jun 2021). "Vācaspati Miśra—Works on Advaita Vedānta [Chapter 2.5]". www.wisdomlib.org (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-07-13.
- ↑ Roodurmun 2002, p. 37
- ↑ Roodurmun 2002
مآخذ
[ترمیم]- Jagadisha Chandra Chatterji (1912)۔ Hindu Realism
- Natalia Isaeva (1993)۔ Shankara and Indian Philosophy۔ USA: State University of New York Press۔ ISBN:978-0-7914-1281-7
- Jeaneane Fowler (2002)، Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism، Sussex Academic Press، ISBN:978-1898723943
- Gerald James Larson؛ Ram Shankar Bhattacharya (1987)، The Encyclopedia of Indian Philosophies, Volume 4، Princeton University Press
- Stephen Phillips (2015)۔ "Seeing From the Other's Point of View: Counter the Schismatic Interpretation of Vācaspati Miśra" (PDF)۔ APA Newsletter: Asian and Asian-American Philosophers and Philosophies۔ ج 14 شمارہ 2: 4–8
- Pulasth Soobah Roodurmun (2002)، Bhāmatī and Vivaraṇa Schools of Advaita Vedānta: A Critical Approach، Delhi: Motilal Banarsidass Publishers Private Limited
ویب مآخذ
[ترمیم]- 1 2 3 The Bhamati and Vivarana Schools
- ↑ Rajesh Anand, Vachaspati Mishra آرکائیو شدہ 3 ستمبر 2012 بذریعہ وے بیک مشین
مزید پڑھیے
[ترمیم]- ایس ایس ہسورکر، "Vācaspati Miśra on Advaita Vedanta"۔ دربھنگہ: متھلا انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز، 1958ء۔
- کارل ایچ پوٹر، "Vācaspati Miśra" (مشمولہ رابرٹ ایل ایرنگٹن [ایڈیشن]۔ "A Companion to the Philosophers"۔ آکسفورڈ: بلیک ویل، 2001ء۔ ISBN 0-631-22967-1)
- جے این موہنتی، "Classican Indian Philosophy"۔ آکسفورڈ: رومن اینڈ لٹل فیلڈ، 2000ء۔ ISBN 0-8476-8933-6
- وی این شیشاگری راؤ، "Vācaspati's Contribution to Advaita"۔ میسور: سموت پبلشرز، 1984ء۔
بیرونی روابط
[ترمیم]- واچسپتی مشرا کے قلم سے یوگ سوتروں کی شرح انگریزی ترجمہ اور سنسکرت متن
- واچسپتی مشرا کی تصانیف کی فہرست، آئٹم 530 آرکائیو شدہ 13 نومبر 2021 بذریعہ وے بیک مشین، کارل پوٹر، واشنگٹن یونیورسٹی