ویکیپیڈیا:وثق - آج کی بات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(وثق - آج کی بات سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
  • سب سے طاقتور ہتھیار جس سے تم دنیا کو تبدیل کر سکتے ہو، تعلیم ہے۔ (نیلسن مینڈیلا)
    لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں اکثریت اپنی زبان بھی مکمل صحت سے نہ جانتی ہو تمام قابل اعتبار مواد انگریزی میں مہیا کرنے سے چند انفرادی زندگیاں تو شاید بدل جاتی ہوں، دنیا یا معاشرہ نہیں بدلتا۔


  • جب یہ سمجھ لیا جاۓ کہ اب تمام سوالات اور مسائل کا حل تلاش کرلیا گیا ہے تو نۓ افکار اور تخیلات ناپید ہو جاتے ہیں، فکر و سوچ آج سے ہم آہنگ نہیں رہتی، غلط فیصلوں اور لاحاصل تگ و دو کا عمل شرو‏ ع ہوجاتا ہے جو پورے معاشرے یا قوم کو جامد کردیتا ہے ۔ پھر اسکی جگہ وہ قوم ترقی کرنے لگتی ہے جو نۓ افکار اور تخیلات پیدا کر رہی ہو۔۔۔

    کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہيں جہاں پيدا


  • جن کے کوئی اصل دشمن نہیں ہوتے ان کے سچے دوست بھی نہیں ہوتے۔ ہم اس وقت اپنوں سے محبت نہیں کرسکتے جب تک غیروں سے نفرت نہیں کرتے۔ یہ وہ قدیم حقیقتیں ہیں جن کو ہم کئی سو سالوں بعد جان رہے ہیں۔ جو لوگ ان حقیقتوں کو ٹھکراتے ہیں وہ رد حقیقت اپنے خاندان، اپنے ورثے، اپنے جنم کے حق اور یہاں تک کہ اپنے آپ کو بھی ٹھکراتے ہیں۔ اور بے شک انھیں کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔۔۔!


  • عروج و زوال - جب 12 ویں تا 14 ویں صدی میں یوروپی اور بالخصوص اسپینی انتہائی تیزرفتاری سے مسلم سائنسدانوں کی عـربی کتب کا ترجمہ کرنے میں مصروف تھے تب مسلم دنیا میں ذاتی مفاد پرست اسلام کو علم (سائنس) سے جدا کرکے سائنس سے بدظنی پیدا کرنے میں مصروف تھے ۔ دونوں اطراف کامیابی ہوئی ، ادھر مغرب کو نئی زندگی ملی اور اسکی دنیا بدل گئی ادھر آج تک تیرہوں صدی ۔۔۔


  • حقیقتیں -جن کے کوئی اصل دشمن نہیں ہوتے ان کے سچے دوست بھی نہیں ہوتے۔ ہم اس وقت اپنوں سے محبت نہیں کرسکتے جب تک غیروں سے نفرت نہیں کرتے۔ یہ وہ قدیم حقیقتیں ہیں جن کو ہم کئی سو سالوں بعد جان رہے ہیں۔ جو لوگ ان حقیقتوں کو ٹھکراتے ہیں وہ رد حقیقت اپنے خاندان، اپنے ورثے، اپنے جنم کے حق اور یہاں تک کہ اپنے آپ کو بھی ٹھکراتے ہیں۔ اور بے شک انھیں کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔۔۔! Samuel P.Huntington


  • دوستی : نام ہےاس کا کےانسان سچےدل سےاللہ تعالٰیٰ کےلئےدوستی کرےدنیا یا ذاتی غرض شامل حال نہ ہو۔ دوستی وہ ہےجو اللہ تعالٰیٰ تک اور آخرت کی کامیابیوں تک پہنچائےلیکن اگر کسی کی دوستی اللہ تعالٰیٰ سےدور اور خیر سےغافل کرےتو ایسی دوستی چولہےمیں ڈالنےکےقابل ہے دوست بنانےکا مقصد یہ ہےکہ آپ لاشعوری طور پر اس کےرنگ میں رنگ جائیں ، اس کےاخلاق و عادات آپ پر اثر اندازہوں ۔ اس لئےدوست بنانےسےپہلےاس کو پرکھیں ، اس کےدین و عمل کا اندازہ کر یں ۔ اگر وہ نیک ، مخلص ہو تو اس کی دوستی فائدہ بخش ہو گی ورنہ یہ دوستی نقصانِ عظیم کا باعث ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہےکہ انسان اپنےدوست کےمذہب پر ہو تا ہےاس لئےتم میں سےہر شخص کو یہ دیکھ لینا چاہئےکہ وہ کس سےدوستی کررہا ہے۔ اگر کسی دوست میں کوئی خامی، کمی یا بےاعتدالی ہو تو اس کا علاج یہ نہیں کہ آپ اس سےکنارہ کشی اختیار کر لیں بلکہ اس کا علاج یہ ہےکہ آپ اسےنرمی،محبت اور اخلاص سےسمجھائیںاس کی خامی دور کرنےکی کوشش کریں یہ آپ کا فرض اور اس کا حق ہے۔ ہاں اگر کسی صورت میں اس کی اصلاح نہ ہو سکےتو پھر اس کا علاج یہ ہےکہ اس سےکنارہ کشی اختیار کر لی جائے۔


  • انحطاط و سـقـوط - جب کسی تہذیب میں بنیادی حیاتی ضروریات کا حصول دشوار ہوجاۓ، بنیادی سہولیات زندگی ناپید ہوجائیں، افراد کی تعلیم تک رسائی کا نظام مفقود ہوجاۓ، داخلی و خارجی حکمت عملیاں انفرادی و ذاتی مفادات بن جائیں اور اسکے دانشور بے انگیختہ ہو کر رہ جائیں تو خواہ کوئی بھی معاشرہ ہو اسکے انفرادی رویۓ ، معاشری روابط سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور تاریخ عالم میں جب جب کسی قـوم کے افراد اس مقام تک پہنچے ہیں، اس تہذیب کا زوال و سـقـوط (collapse) دیکھنے میں آیا ہے۔


  • قوت اور منطق - اگر قوت کا جواب منطق سےدیا جاسکتا تو تاتاریوں کا سیلاب بخارا اور بغداد کو نابود کرتا ہوا مصر تک نہ پہنچتا۔ وہ الفاظ جن کی تائید کےلئےشمشیر نہ ہو، کسی قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتےاور وہ قلم جو خون میں تیرنا نہیں سیکھتا، تاریخ کےصفحات پر کوئی پائیدار نقوش بنانےسےقاصر رہتاہے۔ نسیم حجازی
  • خلفائے بنی امیہ کی دولت مندی کا یہ حال تھا کہ جب ہشام بن عبدالمک نے وفات پائی تو اس کے ترکے میں سے صرف اس کے بیٹوں جس کس قرد نقدی ملی اس کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ دینار تھی۔ لیکن بعد میں آنے والے عمر بن عبدالعزیز (رض) نے جب وفات پائی تو کل سترہ دینار چھوڑے۔ جن میں سے تجہیز و تکفین کے مصارف ادا کرنے کے بعد دس دینار بچے تو ورثا میں تقسیم ہوئے۔ علامہ شبلی نعمانی


  • اس براعظم میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا، وہ مینار پاکستان ہے۔ یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں لیکن انکے درمیان یہ ذرا سی مسافت تین صدیوں پر محیط ہے، جس میں سکھوں کا گردوارہ، ہندوؤں کا مندر اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ہیں۔ میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا کہ مسجد کے مینار نے جھک کر میرے کان میں راز کی ایک بات کہہ دی “جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں۔ جب حق کی جگہ حکایت اور جہاد کی جگہ جمود لے لے۔ جب ملک کی بجائے مفاد اور ملت کی بجائے مصلحت عزیز ہو اور جب مسلمانوں کو موت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہوجائے، تو صدیاں یونہی گم ہو جایا کرتی ہیں۔“ مختار مسعود کی کتاب آواز دوست سے ماخوذ