وزیر آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(وزیرآباد سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
وزیر آباد
Tomb of Mulana Zafar Ali Khan.jpg 

تاریخ تاسیس 1867  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[2]
تقسیم اعلیٰ تحصیل وزیر آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 32°45′00″N 74°10′00″E / 32.75°N 74.166666666667°E / 32.75; 74.166666666667  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 215 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 1162456  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر
نحوی غلطی

وزیر آباد، ضلع گوجرانوالہ، صوبہ پنجاب کا ایک شہر ہے۔ وزیرآباد دریا چناب کے کنارے لاہور سے 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کے قریبی دیہات میں علی پور(پاکستان)، احمد نگر(پاکستان)، رسول نگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قدیم تاریخی حیثیت کے حامل گاؤں منظورآباد اور بهروکے اور دھونکل بهی واقع ہیں اور کوٹلی پیر احمد شاه بهی اپنے اندر ایک عظیم تاریخ لیے ہوئے ہے، مغل بادشاہ شاہجہان کے گورنر وزیر خان نے چونکہ اس شہر کی بنیاد رکھی لہذا اس نسبت سے وزیر آباد کا نام ملا، ( قاضی رحیم الدین بن عبد اللہ بن عبد الرزاق بن عبد الرحیم قریشی اسعدی)) متوطن سلطان پورمتصل نگ رہار جلال آباد (افغانستان) دور جہانگیر میں سلطان پور کے جرگہ کے سردار مقررہوئے ان کی خدادادفہم و فراست کی وجہ سے اطراف کے اہل علاقہ میں ان کی ایک مظبوط شخصیت وقوع پزیر هوئی اور علاقہ کے بااثرلوگوں کی بداعمالیوں میں ایک عظیم رکاوٹ بنی اس شخصیت کی وجہ سے بااثر لوگوں نے قاضی صاحب کو دربار جہانگیر سے نکلوانے کی تدابیرکرنی شروع کیں یہ سب احوال دیکه کرجلال آبادکے صوبیدار (شیخ کریم بخش) نے قاضی صحب کو قاضی القضاءکے عہدہ کے لیے آمادہ کیااور کچه ہی عرصہ بعدانکو غزنی(پشاور)منتقل کر دیا گیااور پهر وہاں سے کچه عصہ بعدانکی پاکدامنی اور صداقت کو دیکهتے ہوئے ان کی تبدیلی (((وزیرآباد))) کر دی گئی اور یہاں پرانکو برصغیرکی مرکزی تجارتی گزر گاہ موضع مردیکے وزیر آباد کے محاصل کااضافی عہدہ بهی دئے دیا گیایوں یہ قاضی وقت اور محاصل (یعنی ٹیکس وصول کنندہ) دو عہدوں پر کام کرتے رہے اور اپنی بقیہ زندگی انہوں نے یہاں پر ہی گزاری ان کی وفات کے بعد ان کے بڑئے بیٹے قاضی عبدالغنی قریشی کو قاضی وقت مقرر کیا گیا قاضی عبد الغنی قریشی کے بعد ان کے بڑے بیٹے قاضی محمد مسلم قریشی کو وزیر آباد کا قاضی القضاء مقررکر دیا گیااور پهر احمد شاہ ابدالی کے دور میں قاضی محمد مسلم اور ان کے چهوٹے بهائی محمد اسلم جو لاولد تهے نے مرہٹوں کے ہاتهوں جام شہادت نوش کیا ان کی تمام املاک کو تاخت و تاراج کر دیا گیا ان پرآشوب حالات میں قاضی محمد مسلم شہید کے دونوں بیٹوں شیخ احمد قریشی آف( کوٹلی پیراحمد شاہ )اور ملا محمد قریشی نے موضع بهروکے میں سکونت اختیار کی

(ملا محمد قریشیی علیہ الرحمہ )کی اولاد میں سے مولوی شمس الدین ،مولوی شہسوار الدین ،مولوی شہنوازالدین، نے علم و کمال حاصل کیا

(شیخ احمد قریشی علیہ الرحمہ) کی اولاد وزیرآباد اور اس کے دیگر مضافات موضع رندهیر، (رائےپورساہوالہ اور جامکے ،میں رہائش پزیر ہوئی ان کی اولاد میں ساہوالہ کے حکیم مولوی غلام حسین نے علم و کمال حاصل کیا ان کی اولاد میں رائےپور میں (مولوی شاہ سوار علیہ الرحمہ) انکا مرقد موضع رائے پور میں واقعہ ہے، حکیم سلطان احمد قریشی علیہ الرحمہ اور رئیس الطباء شفاء الملک حکیم محمد نواز قریشی علیہ الرحمہ، نے علم و کمال حاصل کیا * حکیم اعجاز احمد قریشی، حکیم عبدالستار قریشی * موجود ہیں قاضی شیخ رحیم الدین قریشی اسعدی کے دو بیٹے تهے بڑئے بیٹے قاضی شیخ عبدالغنی قریشی اور۔ چهوٹے بیٹے شیخ عبدالنبی قریشی تهے شیخ عبد النبی قریشی کامزار اقدس ضلع گوجرانوالہ کے گاوں واقعہ کوٹلی مقبرہ میں مرجعہ خلائق ہے اس مزار میں شیخ عبد النبی قریشی اور ان کے بیٹے کی قبر مبارک ہے اس مزار کی عمارت مغلیہ دور کی عظیم عمارتوں میں سے ایک عظیم یادگار عمارت ہے یہ حصرات حکیم خادم علی سیالکوٹی کے اقرباء میں سے تهے اور حکیم عبد الستار قریشی چوراهی رائے پوری اور حکیم اعجاز احمد قریشی رائے پوری کے جد امجد ہیں

آبادی[ترمیم]

شہر کی آبادی 95000 افراد پر مشتمل ہے۔ قریبی دیہات 264 ہیں جہاں تقریبا 60000 افراد رہائش پزیر ہیں۔

ریلوے[ترمیم]

وزیرآباد ایک اہم ریلوے جنکشن ہے جو کراچی پشاور لائن سے فیصل آباد اور سیالکوٹ کی طرف راستہ فراھم کرتا ہے۔

مقامی صنعت[ترمیم]

وزیرآباد میں کافی صنعتیں درآمدی اشیاء بنانے کے لحاظ سے مشہور ہیں۔ مقامی صنعت کٹلری اور سرجیکل آلات بنانے میں مشہور ہے۔ وزیر آباد کو کٹلری کا شہر بھی کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ قریبی دیہات چاول، گندم، سبزیات اور گنے کی پیداوار میں بھی مشہور ہیں۔ بون کرشنگ فیکٹریوں کے علاوہ ڈومیسٹک(حال شیف) پریشر ککر، دری بافی (گکھڑ منڈی) کے لحاظ سے بھی یہ تحصیل نمایاں ہے

قابل ذکر شخصیات[ترمیم]

تحصیل وزیر آباد کی اہم شخصیات میں یہ نام اہم ہیں.

  1. جواد ایس خواجہ (منصف اعظم پاکستان)
  2. عاطف اسلم (موسیقار)
  3. (قاضی رحیم الدین قریشی) قاضی وقت
  4. (قاضی عبد الغنی قریشی) قاضی وقت
  5. (قاضی محمد مسلم قریشی شہید) قاضی وقت
  6. مولانا ظفر علی خان ( کارکنتحریک پاکستان بابائے صحافت )
  7. عطاء الحق قاسمی (کالم نگار)
  8. سید لخت حسنین شاہ (بانی مسلم ہینڈز انٹرنیشنل )
  9. چوہدری حامد ناصر چٹھہ (سیاسی رہنما)
  10. محمد رفیق تارڑ ، سابق صدر پاکستان
  11. سلمیٰ تصدق کارکن تحریک پاکستان
  12. شیخ القرآن مولانا عبدالغفور ہزاروی
  13. مولانا عبد الرحمان کیانی
  14. مولانا احمد علی لاہوری
  15. مولانا سرفراز خان صفدر
  16. مولانا زاہد الراشدی
  17. منو بھائی
  18. شفقت تنویر مرزا (صحافی و مترجم و ادیب)
  19. مولوی محبوب عالم
  20. استاد اللہ بخش (مصور)
  21. ببو برال (مزاحیہ سٹیج اداکار)
  22. ن م راشد (اردو شاعر)
  23. کرشن چندر
  24. مظہر الاسلام
  25. سلیم کاشر (پنجابی شاعر)
  26. الیاس گھمن (پنجابی ادیب)
  27. منظور وزیر آبادی(پنجابی شاعر)
  28. کامران اعظم سوہدروی (مورخ و ادیب)
  29. طاہر وزیر آبادی (پنجابی شاعر)
  30. شیراز ساگر (اردو شاعر)

حوالہ جات[ترمیم]

  • تاریخ وزیر آباد ( تحقیقات کوکب/مشتاق کوکب)
  • تایخ وزیر آباد، کامران اعظم سوہدروی
  • تاریخ تحصیل وزیر آباد (گوندل)


Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1. GNS Unique Feature ID: -2777211 — شائع شدہ از: 11 جون 2018 — اجازت نامہ: دائرہ عام
  2.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر"صفحہ وزیر آباد في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 نومبر 2019۔