وزیر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حکیم شیخ علیم الدین انصاری جو عام طور پر نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں مغلیہ دور میں لاہور شہر کے گورنر تھے۔ وہ آبائی طور پر چنیوٹ کے رہنے والے تھے۔ ان کا خاندان چنیوٹ سے ہجرت کر کے لاہور آباد ہو گیا تھا[1]۔ وزیر خان کو لاہور میں تعمیر کی گئی مسجد وزیر خان کے لیے جانا جاتا ہے، جو فن کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔

حکیم صاحب ایک انتہائی عالم فاضل اور پڑھے لکھے انسان تھے۔ انہیں فن طب میں بڑی مہارت حاصل تھی اور اس کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور فلسفہ پر بھی گہری نظر تھی۔ فن طب ہی کے باعث ان کی رسائی مغل دربار تک ہوئی اور عہد شاہ جہانی میں دیوان، بیوتات اور نواب وزیر خان جیسے القابات حاصل کئے۔ شاہی خاندان کے خاندانی طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ وہ گورنر پنجاب کے عہدے تک بھی پہنچے۔ حکیم صاحب پنجاب کے ایک قدیمی شہر چنیوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی جائے پیدائش تو ان کی وجہ سے زمانے بھر میں تو معروف ہوئی ہی تھی کہ انہوں نے گجرات کے قریب ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی جو آج بھی وزیر آباد کے نام سے زمانے بھر میں جانا جاتا ہے۔ ان کی بہت ساری تعمیرات شہر لاہور میں شاہی حمام، مسجد نواب وزیر خان خورد اور مسجد وزیر خان کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تعمیرات کے نشان چنیوٹ اور وزیر آباد میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ملا محمد صالح کمبوہ نے ’’عمل صالح‘‘ میں جب عہد شاہ جہانی کے معروف حکماء اور جراحوں کے بارے میں تحریر کیا تو انہوں نے حکیم علیم الدین کا تذکرہ (ص 569 ) پر یوں کیا ہے۔ حکیم علیم الدین مخاطب بہ وزیر خان: وطن پنجاب ہے، حکیم داؤدی سے فن طب پڑھ کر تھوڑے ہی عرصہ میں معالجات کے تمام صیغوں پر حاوی ہو گیا۔ ایسا ماہر و حاذق کہ ہر مرض کی صحیح تشخیص کر کے معرکہ آرا علاج کرتا، مدتوں تک شاہ جہان اور شاہزادوں کا معالج رہا اور اس فن کی بدولت حضرت کا محرم خاص ٹھہرا۔ دیوان بیوتات‘ خانسامانی اور دیوانی (وزات مال) کی خدمتوں پر سرفراز رہا‘ شاہ جہان نے تخت پر جلوس فرمایا تو پانچ ہزاری و سوار کا منصب دے کر پنجاب کا صوبے دار مقرر کیا۔ نواب وزیر خان جب مغل سرکار کے قریبی روابط میں آئے تو مالی حالات بہتر ہونے لگے اور شاہ جہان چونکہ خود تعمیرات کا شوقین تھا اس لئے حکیم صاحب کا رجحان بھی تعمیرات کی جانب گیا اور کئی اعلیٰ ترین عمارات تعمیر کروائیں۔ ان ہی میں سے مسجد وزیر خان بھی ہے۔ نواب وزیر خان نے اس مسجد کی بنیاد 1066ھ بمطابق 1634ء میں رکھی۔ مغل عہد سے قبل لودھی عہد میں یہ مسجد کی جائے تعمیر ’’حملہ رڑہ‘‘ کے نام سے معروف تھی۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. For other family connections in Lahore also see the articles on Fakir Khana and Hakim Ahmad Shuja
  2. http://www.express.pk/story/541368/
  3. دائرہ معارف اسلامیہ جلد 22صفحہ645 جامعہ پنجاب لاہور